مفتی محمد مبشر بدر
صحبت کا انسانی زندگی پر
گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان اپنی مجالس، دوستوں اور ہمنشینوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر
حلقہء احباب اچھے اور نیک لوگوں پر مشتمل ہو تو "صحبتِ صالح ترا صالح
کند" یعنی نیک لوگوں کی صحبت انسان کو صالح بنا دیتی ہے کے ضابطے سے طبیعت پر
اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان اسی پیکر میں ڈھلنے لگتا ہے۔ اگر مجالس برے ہمنشینوں سے آباد ہوں تو "
صحبت طالح ترا طالح کند" والا مصرعہ صادق آتا ہے۔ یعنی بُرے انسان کی صحبت انسان
کو بُرا بنا دیتی ہے۔ بسا اوقات انسان نیک لوگوں کو اپنا دوست بنا لیتا ہے جن کی
بزم میں رہ کر وہ خود نیک بن جاتا ہے اور
راہِ ہدایت پا لیتا ہے اور کبھی وہ بدباطن، بد عقیدہ اور بد خصلت لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر گمراہی
کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
سورۂ فاتحہ میں نیک لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا بتلائی گئی ہے۔ جسے مسلمان ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے
مانگتے ہوئے نیکوکاروں کے طریقے اور منہج پر چلنے کی دعا کرتے ہیں کہ یا الٰہی
ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر
جن پر تیرا غضب ہوا اورنہ ان لوگوں کی راہ
چلا جو گمراہ ہوئے۔ انعام یافتہ لوگ
انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین رحمہم اللہ ہیں جب کہ مغضوب علیہم اور الضالین سے مراد یہود
و نصاریٰ ہیں جو اپنی بد خصلتوں کی بنا پر اللہ کی لعنت کا موجب بنے۔ سورہ توبہ
میں فرمایا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا
اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ "
یعنی اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو اور سچوں کے
ساتھ ہوجاؤ۔ " قرآن کا اسلوب ہے کہ جس چیز کی اہمیت و منزلت بتانی ہو وہاں
اللہ تعالیٰ اتقوا کا جملہ استعمال فرماتا ہے۔ یہاں بھی یہی اسلوب ہے صرف اپنے
ایمان والے بندوں سے فرمایا کہ اللہ سے
ڈرو اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔ یہی مطلوب اور مقصود ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ خوش
نصیب اور سعادت مند وہ اہل ایمان ہیں
جنہیں انبیاء علیہم السلام کی صحبت اور رفاقت میسر آئی۔اس سے بڑی نعمت اور سعادت
بھلا اور کیا ہوسکتی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ حیرت کا مقام یہ ہے کہ خود باری تعالیٰ
نے نبی کریم ﷺ کو ایک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا حکم صادر فرمایا جو صبح و شام اللہ
کا ذکر کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے
محبوب ﷺ سے فرمایا:
(وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ
الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلا
تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ
أَمْرُهُ فُرُطاً﴾ (الكهف: 28)
ترجمہ: " اور اپنے
آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے
ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی
خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ
مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کررکھا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے
پڑا ہوا ، اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔"
وَإِذَا رَأَيْتَ
الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي
حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ
الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ) (الأنعام:68)
ترجمہ: " اور جب آپ
ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ
کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے
تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں۔"
وَيَوْمَ
يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يا لَيْتَنِى اتَّخَذْتُ مَعَ
الرَّسُولِ سَبِيلاً يا وَيْلَتَا لَيْتَنِى لَمْ أَتَّخِذْ فُلاَنًا خَلِيلاً
لَّقَدْ أَضَلَّنِى عَنِ الذّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءنِى وَكَانَ الشَّيْطَانُ
لِلإِنْسَانِ خَذُولاً) [الفرقان:27۔-29)
ترجمہ: " اور اس دن
ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی راہ
اختیار کی ہوتی۔ ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔اس نے تو
مجھے اس کے بعد گمراہ کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (
وقت پر ) دغا دینے والا ہے۔"
وفي سنن ابن ماجة بسند حسن من حديث أنسا أن
النبي صلى الله عليه وسلم قال: ( إن من الناس ناساً مفاتيح للخير،
مغاليق للشر )، فاحرص على هذه المفاتيح التي تفتح قلبك وأذنك وسمعك وبصرك على
الخير
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے
کہ: " بعض لوگ بھلائی کی کنجی ہوتے ہیں اور برائی کے لیے تالے پس تو ان کنجیوں کی رغبت رکھ جو
تمہارے دل، کان اور آنکھ کو بھلائی پر کھول دیں۔"
حدیث کا مطلب ہے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بھلائی کرتے اور
دوسروں کی بھلائی کی ترغیب دلاتے ہیں گویا وہ چابی ہیں جس سے بھلائی کے خزانے کو
کھولا جاتا ہے اور برائی کے لیے تالے ہوتے ہیں یعنی برائی کو بند کرتے اور اس کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی
صحبت میں رہنے کا نبی کریم ﷺ حکم دے رہے ہیں کہ یہ کنجیاں تمہارے دل، کان اور آنکھ
کو بھلائی کے لیے کھول دیں گے۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ گویا تم ایسے لوگوں
کی صحبت اختیار کرو جو تمہارے سامنے بھلائی کے بند دروازے کھول کر رکھ دیں اور
برائی کی راہ تم پر بند کردیں۔
نبی
کریم ﷺ اپنے ہر ہر امتی کے لیے اتنا فکرمند تھے کہ انہیں نیک دوست اپنانے کی تلقین
فرماگئے۔ کیوں کہ بلا اختیار انسان اپنے دوست کے اچھے یا برے عقائد و نظریات
اپنانے لگتا ہے۔ نیک اور اچھے دوست کی دوستی کے اثرات ہی انسان کو اچھا بناتے ہیں
اور برے کی صحبت برا بناتی ہے۔چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
أن النبي ﷺ قال: الرجل
على دين خليله، فلينظر أحدكم من يخالل (
رواه أبو داود والترمذي بإسناد صحيح)
یعنی :" آدمی اپنے
دوست کے دین پر چلا جاتا ہے پس تم میں سے کوئی دیکھ لے کہ کسے دوست بنا رہا
ہے۔" اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: المرء
مع من أحب یعنی " آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جسے
وہ محبوب رکھتا ہے۔" ایک اور حدیث میں فرمایا:
لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ
إِلَّا تَقِيٌّ (سنن ابوداؤد ، ترمذی)
یعنی
تم صرف مؤمن کی صحبت اختیار کرو اور تمہارا کھانا متقی ہی کھائے۔" اس کا یہ
مطلب نہیں کہ فاسق اور گنہگار کو کھانا کھلانا جائز نہیں بلکہ اولیٰ اور افضل یہ
ہے کہ اپنے کھانے میں نیک اور متقیوں کو ترجیح دینی چاہیےاور مجالست اور صحبت صرف
مؤمنین کی اختیار کی جائے۔ چنانچہ ایک عرب شاعر کہتا ہے:
عن المرء لا تسأل وسل عن قرينه فكل قرين بالمقارن مقتدي
إذا كنت في قوم فصاحب خيارهم ولا تصحب الأردى فتردى مع الردي
یعنی: " آدمی کے
بارے نہ پوچھ بلکہ اس کے دوست کے ہی بارے پوچھ لے کیوں کہ ہر دوست اپنے دوست کی ہی
پیروی کرتا ہے۔ جب تو کسی قوم میں ہو تو اس کے اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھ اور بروں کے ساتھ نہ بیٹھوورنہ تم بھی بروں کے
ساتھ برے بن جاؤ گے۔"
ابوموسی رضی اللہ عنہ،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اچھے اور برے ساتھی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مشک لئے ہوئے ہے اور بھٹی دھونکنے
والا ہے، مشک والا یا تو تمہیں کچھ دیدے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا اس کی خوشبو
تم سونگھ لوگے(یعنی ہر صورت فائدہ ہی فائدہ ہے ) اور بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے
جلادے گا یا تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔(یعنی ہر صورت میں نقصان ہی نقصان ہے ۔)
متفق علیہ
یہ بری صحبت کا ہی نتیجہ
تھا کہ نبی کریم ﷺ کے غمخوار چچا ابوطالب اسلام سے محروم رہے۔ چنانچہ بخاری باب الجنائز میں روایت درج ہے کہ جب نبی کریم ﷺ
نے آخری وقت میں ابوطالب سے کہا : چچا جان! آپ کلمہ توحید لاالٰہ الا اللہ کا
اقرار کرلیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بطور دلیل پیش کرسکوں تو وہاں ابوجہل اور
عبداللہ بن ابی امیہ موجود تھے انہوں نے کہا: اے ابوطالب! کیا آپ اپنے والد کے
طریقے سے اعراض کریں گے؟ وہ مسلسل یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب نے اپنے
اجداد کے طریقے کو پسند کیا اور کلمہ پڑھنے سے انکار کردیا۔
نبی کریم ﷺ برے ساتھی کی
صحبت سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے چنانچہ آپ دعا فرماتے:
( اللهم
إني أعوذ بك من يوم السوء، ومن ليلة السوء، ومن ساعة السوء، ومن صاحب السوء) (رواه
ابن حبان في صحيحه )
ترجمہ: " اے اللہ
میں برے دن سے اور بری رات سے اور بری گھڑی سے اور برے ساتھی سے تیری پناہ چاہتا
ہوں۔"


