مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ
تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود میں
ایک معجزہ ہو اور وہ اپنے ابدی اور لازوال
ہونے کا دعویٰ کرے، جس کے دامن میں وہ ہیرے، جواہرات، یاقوت و لعل چھپے ہوں جس کا
مقابلہ دنیا کی کوئی کتاب اور کوئی کلام
نہ کرسکتا ہو۔ جو اپنے مخالفین کو اپنی مثل لانے کا چیلنج کرے، کئی صدیاں گزر جانے
کے باجود سب اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز آجائیں۔نزول کے وقت سے اب تک اس کی زبر ،
زیر پیش، جزم اور مد میں کسی قسم کا کوئی فرق
نہ آیا ہو، ایسی کتاب کسی بہت بڑے معجزے سے کم نہیں جس کی مثال تاریخ عالم میں
نہیں ملتی، ایسی انقلابی کتاب جس پر عمل پیرا ہونے والوں نے دنیا کو مسخر کردیا
اور چہار دانگِ عالم میں اپنی عظمت کا لوہا منوایا۔ اس کی تاثیر کا یہ عالم ہے کہ
اگر اسے پہاڑ پر نازل کیا جاتا وہ اللہ کی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہوجاتا۔ چنانچہ سورۃ الحشر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَوْ
اَنْزَلْنَاہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہ‘ خَاشِعًا مُّتَصِدِّعًا
مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ
ترجمہ: " اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا
ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ خوفِ الٰہی سے پست ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہو
جا تا ۔"
یہ قرآن کی تاثیر ہے کہ یہ دلوں کے لیے تو باعثِ تسکین
و اطمینان ہے ہی ، جسموں کے لیے بھی باعث شفا ہے یہ عظیم الشان کتاب قرآن مقدس ہے
جو کلام الٰہی ہے، جسے خالق کائنات نے تمام جہان والوں کے ہمہ قسمی امراض کے لیے
شفا بنا کر اتارا خواہ وہ امراضِ
جسمانیہ ہوں یا روحانیہ دونوں
صورتوں میں فائدہ مند ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاسراء میں فرماتا ہے:
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ
شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا
ترجمہ: "اور ہم وہ قرآن نازل کررہے ہیں جو مؤمنوں
کے لیے شفا اور رحمت کا سامان ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی
نہیں ہوتی۔"
یہ قرآن کی تاثیر ہے کہ قرآن کو تمام بیماریوں کے لیے
شفا بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ الفاتحہ کے بارے آیا ہے کہ اس میں ہر بیماری کی
شفا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بچھو کے ڈسے ایک سردار پر دم
کیا تو وہ شفا یاب ہوگیا چنانچہ یہ بکریوں کا ریوڑ اجرت میں لے کر نبی کریم ﷺ کی
خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ ہوچھا کہ
آیا یہ اجرت لینا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں۔ نبی کریم ﷺ پوچھا تم نے اس پر کیا
پڑھ کر دم کیا تھا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورۃ الفاتحہ پڑھ
کر دم کیا ۔ آپ یہ سن کر مسکرائے اور
پوچھا تمہیں کس نے کہا کہ یہ دم ہے؟ ان بکریوں کو لے لو اور میراحصہ بھی
نکال لو۔( بخاری) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ
نبی کریم ﷺ کے مرض الوفات میں آپ ﷺ سورۃ
الفلق و الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے، جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو میں وہ
سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں پر دم کرتی پھر نبی کریم ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی
تھی۔(بخاری) ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ قرآن مؤمنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔
سورۃ المائدہ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتاہے:
وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ
تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ
یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ
ترجمہ: " جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا
ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے
اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں وہ بول اٹھتے ہیں کہ "
پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔"
یعنی قرآن سنتے ان کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں اور ایمان کا
اظہار کرتے ہیں گویا قرآن کی تاثیر سے ان
کے ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور خود کو حق تعالیٰ کے قریب محسوس کرتے ہیں۔ یہ
تو صحابہ کرام اور اہل ایمان کا حال ہے جب کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں آیا ہے کہ آپ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
کوتلاوت کرنے کا کہتے ہیں انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی جب اس آیت پر پہنچے:
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ
وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا
ترجمہ: " پھر
سوچو کہ اس وقت کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ( اے
پیغمبر) ہم تم کو اِن لوگوں کے خلاف گواہ
کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔"
تو نبی کریم ﷺ نے
رکنے کا اشارہ کیا ۔ سیدنا ابن مسعود نے
نگاہ اٹھا کر دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔
ایک بار قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو تیار کرکے نبی کریم ﷺ کے
پاس دو ٹوک بات کرنے بھیجا تاکہ روزانہ کے جھگڑے کا حل نکلے۔ عتبہ اپنے وقت کا بہت
فصیح اللسان شاعر اور ادیب تھا۔ اس کے انتخاب کا مقصد ہی نبی کریم ﷺ کو کلام میں
شکست دینا اور آپ کی دعوت کو غیر مؤثر کرنا تھا تاکہ آپ عتبہ کی کلام سے مرعوب ہوں
اور دعوت حق چھوڑ دیں۔ اس نے نبی کریم ﷺ سے
گفتگو کی آخر میں آپ کو سرداری،بہت زیادہ مال اور عورتوں کی پیشکش کی اور بدلے میں دعوت توحید ترک کرنے کا کہا جس پر نبی کریم ﷺ نے
ان آیات:
حم (1) تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (2)
كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (3) سے لے کر فَإِنْ أَعْرَضُوا
فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ (13) تک تلاوت فرمائی۔ ( سورہ حم سجدہ آیت : 1 تا 13)
آخری آیت کا ترجمہ یہ ہے:
ترجمہ: " پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم
کو اسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر
نازل ہوا تھا۔"
یہ سن کر عتبہ لرز گیا اس نے نبی کریم ﷺ کے منہ مبارک پر
ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ مزید قرآن پڑھنا بند کردیں۔ اس کے بعد عتبہ پر ایسا
اثر ہوا کہ وہ دبک کر گھر بیٹھ گیا باہر
نہیں نکلا یہاں تک کہ ابوجہل نے اسے طعنہ
دیا کہ عتبہ پر محمد ﷺ کے جادو کا اثر ہوگیا ہے
اس پر عتبہ نے کہا اللہ کی قسم! محمد نے میری بات کا ایسا جواب دیا جو نہ تو
جادو ہے، نہ شعر اور نہ کہانت ہے۔ غرض
قرآن کے سامنے بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء بھی نہیں ٹک سکے اور اس کی تاثیر سے متاثر
ہوئے بغیر نہ رہے۔
عرب کا مشہور شاعر لبید جسے شاعری اور عربی ادب میں اتنی
مہارت تھی کہ لوگ اسے "ملک الشعراء" شاعروں کا بادشاہ مانتے تھے (وفاق
المدارس العربیہ کے نصاب میں شامل مشہور
کتاب سبعہ معلقہ کا آخری شاعر ہے۔ اس نے اشعار لکھ کر کعبے کی دیوار پر
لٹکا دیے کسی مسلمان نے قرآن کی آیات لکھ کر ساتھ لٹکا دیں اگلے دن جب اس کا گزر
وہاں سے ہوا تو اپنے اشعار کے ساتھ کچھ لکھا دیکھ کر اسے پڑھنے لگا یہاں تک بول
پڑا یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہوا اور شاعری ترک
کردی۔
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک بار رات کو قرآن کی
تلاوت فرمارہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا وہ خاموش ہوگئے گھوڑا بھی
پرسکون ہوگیا پھر تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا حرکت میں آگیا ایسا تین بار ہوا ساتھ
ان کا بیٹا یحیٰ سویا ہوا تھا انہیں ڈر ہوا کہ کہیں گھوڑا اسے روند نہ ڈالے چنانچہ
انہوں نے تلاوت ختم کی جب اٹھے تو ان کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھی تو انہیں سائبان
نظر آیا جس میں چراغ جلنے کی طرح کی روشنیاں تھیں جو زمین کی طرف آرہی تھیں۔ یہ
اسے دیکھتے رہے یہاں تک وہ دوبارا آسمان کی طرف بلند ہوئی اور غائب ہوگئی صبح جب
انہوں نے نبی کریم ﷺ کو رات کا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا: "یہ آسمان کے
فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سن کر اتر رہے تھے، اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو یہ زمین
پر اتر آتے اور صبح تک لوگ ان کا مشاہدہ کرتے یہ ان کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔"
( بخاری)
یہ قرآن مقدس کی وہ تاثیر اور اعجاز ہے جو طلوع شمس سے بھی زیادہ
روشن اور واضح ہے۔ یہ تاثیر ہر وہ شخص حاصل کرسکتا ہو جو سے دل سے قرآن کی تلاوت کا
معمول بنائے اور اس کے معانی و مطالب میں عمل کی نیت سے غور و فکر کرے۔ اب ضرورت قرآن
جیسی آفاقی اور ابدی کتاب کو غلافوں میں لپیٹ کر گھروں میں خیر و برکت کے لیے رکھنے
کی نہیں، صرف میتوں کو بخشوانے اور بیٹی کی رخصتی کے وقت سر پر رکھنے کی نہیں بلکہ
اسے دل اور روح میں بسانے کے ساتھ عملی زندگی میں لانے کی ہے۔



