پیر، 2 نومبر، 2026

اپنی اولاد کی دینی تربیت کیجیے

 

تحریر: مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ

اولاد قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔ اولاد کی قدر و قیمت ان سے پوچھیے جو اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں ۔اولاد  سے آنگن میں چہچہاہٹ اور رونق لگی رہتی ہے، اولاد سے خوشیاں اور رنگینیاں جنم لیتی ہیں۔وہ کون بدنصیب ہوگا جس کو اولاد کی چاہت نہیں ہوگی۔ شادی کے بعد تقریبا ہر انسان اللہ سے نیک اور فرمانبردار اولاد کا خواہاں اور متمنی رہتا ہے۔لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ والدین کی طرف سے اولاد کی دینی تربیت کی طرف مسلسل کوتاہی برتی جارہی ہے ، مادی مفادات کو مد نظر رکھ کر صرف دنیاوی تعلیم پر انحصار کرکے انہیں اسلامی تعلیم و تربیت سے دور رکھا جارہا ہے ، جس کی وجہ سے نوجوان نسلیں تیزی سے بڑہتے ہوئے بے دینی کے سیلاب میں بہے جارہی ہیں۔

بچوں کے ننھے منے اذہان جو شیشے کی طرح صاف ستھرے اور بے داغ ہوتے ہیں بچپن میں کی جانے والی تربیت کا نقش اپنے اندر سموتے ہیں ، بچہ والدین اور معاشرے کے افراد کی تقلید کرتا ہے، ان کے طور و اطوار اپناتا ہے، ان سے باتیں سیکھتا ہے اور ان کی نقل اتارتا ہے۔مجمع الزوائد میں بحوالہ طبرانی نبی کریم ﷺ فرمان لکھا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:’’ العلم فی الصغر کالنقشِ فی الحجر۔‘‘ یعنی بچپن کی تعلیم بچے کے ذہن میں ایسے راسخ ہوجاتی ہے جیسے پتھر پر نقش پختہ ہوتا ہے۔‘‘ اس لیے اپنی اولاد کی دینی تربیت ہی ان کا قد کاٹھ معاشرے میں اونچا کرسکتی ہے۔

بچہ جب بولنے لگے تو اسےسب سے پہلے ’’  کلمۂ توحید ، لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ یاد کروائیں ۔ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا :  ’’ اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے لا الٰہ الا اللہ کہلواؤ اور موت کے وقت ان کو اسی کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی تلقین کرو۔‘‘ (بیہقی) حقیقت میں یہ اللہ کی وحدانیت اور جناب نبی اکرم ﷺ کی رسالت کا اقرار ہے۔ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کا اول اور آخر کلمہ لاالٰہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔انہی احادیث مبارکہ کےتناظر میں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیں اولاد کی کن خطوط پر پرورش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کو بچپن سے ایسی نیک باتوں کی ترغیب سے پہلو تہی کی جانے لگی ہے اور انہیں بجائے کلمہ ، سورتیں اور احادیث پاک یاد کروانے کے الٹا گانے یاد کروائے جاتے ہیں اور ڈانس سکھائی جاتی ہے۔

بچوں پر ماں باپ اور گھر والوں کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے، اگر ماں باپ میں اتفاق و اتحاد ، پیار و محبت اور آداب ہوں تو یہی صفات بچوں میں بھی منتقل ہوتی ہیں ، اسی طرح والدین کی نیکی اولاد کی طرف منتقل ہوتی ہے، والدین گھر میں نماز ، روزے اور تعلیم و تعلم کا ماحول بنائیں تو اولاد بھی اسی ماحول میں پروان چڑھ کر ان نیکیوں کے برکات اور اثرات سے فیض یاب ہوتی ہے۔اولاد عموماً والدین کے طرزِ زندگی میں ڈہلتی ہے خواہ  مذہب ہو ، رسوم و رواج ہوں یا عادات و خصائل ،  اس لیے والدین کو پہلے اپنی اصلاح کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

- كلُّ مولودٍ يُولَدُ على الفطرةِ ، فأبواه يُهَوِّدانِه ، أو يُنَصِّرانِه ، أو يُمَجِّسانِه ، كمثلِ البَهِيمَةِ تُنْتِجُ البَهِيمَةَ ، هل ترى فيها جَدْعَاءَ .

’’ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اس کو یا تو یہودی بنا دیتے ہیں ، یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں ، کیا تم نے( پیدائشی طور پر) ان کے جسم کا کوئی حصہ کٹا ہوا دیکھاہے۔‘‘ ( بخاری )

        بچے کی تربیت کے ابتدائی سات سال نہایت ہی اہم ہوتے ہیں اس میں وہ اپنے مستقبل کے مزاج کا نقشہ خود کھینچ لیتا ہے ، اس دور کو یہ کہہ کر ضائع اور رائیگاں نہیں کرنا چاہیےکہ ابھی تو بچہ ہے ، بڑا ہوکر خود بخود سیکھ جائے گا۔ یہ ہماری بنیادی غلطی ہے۔ شکاگو کے مشہور ماہر تعلیم فرانسس دے لینڈ پارکر بچوں کی تعلیم و تربیت پر لیکچر دے رہے تھے ، اختتام پر ایک خاتون نے سوال کیا:۔ ’’مجھے اپنے بچے کی تعلیم کا آغاز کب سے شروع کرنا چاہیے۔؟ ‘‘’’ آپ کے ہاں بچہ کب تک ہونے والا ہے ۔؟‘‘لینڈ پارکر نے پوچھا : ’’ ہونے والا‘‘ عورت حیران ہوکر بولی  ’’ وہ تو پانچ سال کا ہونے والا ہے۔‘‘ حد ہوگئی خاتون آپ بچے کی تربیت کےپہلے  بہترین پانچ سال ضائع کر چکی ہیں۔‘‘حقیقت یہی ہے کہ پیدا ہوتے ہی اپنے بچوں کی تربیت شروع کردینی چاہیے ، ان کے سمجھدار اور بڑا ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔نہیں تو پانی  سر سے گزرجانے کے بعد سوائے پچھتانے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

بچوں کے ذہنوں میں بچپن سے ہی انبیائے کرام ؑ ، صحابہ ؓ و صحابیات ؓ، امہات المؤمنین ؓ، محدثینؒ ، فقہاءؒ اور مسلمان فاتحینؒ  کی عزت و عظمت بٹھادینی چاہیے، اور بچپن سے ہی ان کا یقین اللہ کی ذات پر پختہ کرنا چاہیے، کھانے پینے ، سونے جاگنے ، بات کرنے ، پانی پینے ، کپڑے پہننے ،بڑوں کی عزت کرنے ،مجلس میں  بیٹھنے ، نیکی کرنے اور برائی سے بچنے جیسے آدابِ زندگی اچھے سے سیکھا دینا چاہیےاور سات سال کی عمر میں انہیں نماز کا حکم کرنا چاہیے۔ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پہلے شوہر کا بیٹا نبی کریم ﷺ کی پرورش میں تھا ، جب کھانا کھانے بیٹھے تو بچہ ہونے کی وجہ سے ارد گرد سے ہاتھ گھما کر کھا رہے تھے، نبی کریم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے سمجھایا ۔ ’’ بیٹے پہلے بسم اللہ پڑہو پھر اپنے سامنے سے کھاؤ ۔‘‘

معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے اور معاشرے کا امن اور فساد افراد کے بگاڑ اور سنوار کا مرہون منت ہوتا ہے۔یہی بچے یا تو تربیت پا کر معاشرے کے لیے تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں یا پھر تربیت نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے کے لیے بگاڑ کا موجب بن سکتے ہیں ، اس لیے ان کی دینی تعلیم و تربیت پر کامل توجہ دے کر ان کے دل میں خدا خوفی اور فکر آخرت پیدا کیجیے۔  یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر انسان کا سنورنا مشکل ہوجاتا ہے۔

بچوں کے ساتھ شفقت کا پہلو اختیار کیا جانا چاہیے ، نہ تو حد سے زیادہ محبت ہو کہ لاڈ میں آکر بچہ بگڑ جائے اور نہ ہی حد سے زیادہ سختی روا رکھی جائے کہ جس سے وہ باغی بن جائے اور آپ سے نفرت کرنے لگے۔ درمیانہ درجہ اختیار کرنا چاہیے۔ خود نبی اکرم ﷺ اپنے نواسوں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے کس قدر پیار فرماتے انہیں سینے سے لگاتے ، چومتے اور سونگھتے تھے۔ یہ طرز آج ہمیں اپنانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ یاد رہےکہ نیک  اولاد انسان کے لیے صدقہ جاریہ ہے نبی کریم ﷺ نے کے فرمان کا مفہوم ہے:

: إِذَا مَاتَ ابنُ آدم انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ. رَوَاهُ مُسْلِم

ترجمہ: " جب ابن آدم مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے ( کہ وہ جاری رہتی ہیں) صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، یا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔"

غور کیجیے کہ انسان مرنے کے بعد کس چیز کا زیادہ محتاج ہوتا ہے جب کہ اس کا سب کچھ اس سے منقطع ہوچکا ہوتا ہے ایسے میں نیک اولاد اس کے لیے دعائیں کرتیں رہتی ہے جس کا فائدہ مرنے کے بعد تک انسان کو پہنچتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے بعد اگر کوئی بیدار نہ ہو اور اولاد کی نیک تربیت سے غفلت برتے تو وہ نہ صرف خود خسارے میں  پڑ چکا ہے اور اتنے بڑے اجر عظیم سے محروم ہورہا ہے بلکہ اپنی ذمہ داری نہ نبھانے کی وجہ سے گناہ کا مرتکب ہورہا ہے کیوں کہ انسان سے اس کی اولاد بارے سوال ہوگا کہ اس کی تربیت کیسی کی۔ اللہ فرماتا ہے اے ایمان والے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندہن انسان اور پتھر ہیں۔" (تحریم) جہنم کی آگ سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ  خود کو اور اپنی اولاد اور اہل خانہ کو دینی علوم سے روشناس کرکے انہیں اعمالِ صالحہ کا پابند بنائے۔ تبھی نجات ممکن ہے ورنہ ہمیشہ کا نقصان و خسارا ہے جو بہت گھاٹے کا سودا ہے۔

ہفتہ، 26 ستمبر، 2026

صحبتِ صالح ترا صالح کند



مفتی محمد مبشر بدر

صحبت کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان اپنی مجالس، دوستوں اور ہمنشینوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر حلقہء احباب اچھے اور نیک لوگوں پر مشتمل ہو تو "صحبتِ صالح ترا صالح کند" یعنی نیک لوگوں کی صحبت انسان کو صالح بنا دیتی ہے کے ضابطے سے طبیعت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان اسی پیکر میں ڈھلنے لگتا ہے۔  اگر مجالس برے ہمنشینوں سے آباد ہوں تو " صحبت طالح ترا طالح کند" والا مصرعہ صادق آتا ہے۔ یعنی بُرے انسان کی صحبت انسان کو بُرا بنا دیتی ہے۔ بسا اوقات انسان نیک لوگوں کو اپنا دوست بنا لیتا ہے جن کی بزم میں رہ کر  وہ خود نیک بن جاتا ہے اور راہِ ہدایت پا لیتا ہے اور کبھی وہ بدباطن، بد عقیدہ  اور بد خصلت لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر گمراہی کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

سورۂ  فاتحہ میں نیک لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا بتلائی  گئی ہے۔ جسے مسلمان ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہوئے نیکوکاروں کے طریقے اور منہج پر چلنے کی دعا کرتے ہیں کہ یا الٰہی ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تیرا غضب ہوا اورنہ  ان لوگوں کی راہ چلا جو  گمراہ ہوئے۔ انعام یافتہ لوگ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین رحمہم اللہ  ہیں جب کہ مغضوب علیہم اور الضالین سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں جو اپنی بد خصلتوں کی بنا پر اللہ کی لعنت کا موجب بنے۔ سورہ توبہ میں فرمایا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ "  یعنی اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ " قرآن کا اسلوب ہے کہ جس چیز کی اہمیت و منزلت بتانی ہو وہاں اللہ تعالیٰ اتقوا کا جملہ استعمال فرماتا ہے۔ یہاں بھی یہی اسلوب ہے صرف اپنے ایمان والے بندوں سے فرمایا کہ  اللہ سے ڈرو اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔ یہی مطلوب اور مقصود ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب اور سعادت مند وہ اہل ایمان  ہیں جنہیں انبیاء علیہم السلام کی صحبت اور رفاقت میسر آئی۔اس سے بڑی نعمت اور سعادت بھلا اور کیا ہوسکتی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ حیرت کا مقام یہ ہے کہ خود باری تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو ایک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا حکم صادر فرمایا جو صبح و شام اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ  سے فرمایا:

(وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطاً﴾  (الكهف: 28)

                ترجمہ: " اور اپنے آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کررکھا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا ، اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔"

وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ) (الأنعام:68)

ترجمہ: " اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں۔"

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يا لَيْتَنِى اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلاً يا وَيْلَتَا لَيْتَنِى لَمْ أَتَّخِذْ فُلاَنًا خَلِيلاً لَّقَدْ أَضَلَّنِى عَنِ الذّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءنِى وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلإِنْسَانِ خَذُولاً) [الفرقان:27۔-29)

ترجمہ: " اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی راہ اختیار کی ہوتی۔ ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو ( وقت پر ) دغا دینے والا ہے۔"

وفي سنن ابن ماجة بسند حسن من حديث أنسا أن النبي  صلى الله عليه وسلم  قال: ( إن من الناس ناساً مفاتيح للخير، مغاليق للشر )، فاحرص على هذه المفاتيح التي تفتح قلبك وأذنك وسمعك وبصرك على الخير

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ: " بعض لوگ بھلائی کی کنجی ہوتے ہیں اور برائی  کے لیے تالے پس تو ان کنجیوں کی رغبت رکھ جو تمہارے دل، کان اور آنکھ کو بھلائی پر کھول دیں۔"

 حدیث کا مطلب ہے  کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بھلائی کرتے اور دوسروں کی بھلائی کی ترغیب دلاتے ہیں گویا وہ چابی ہیں جس سے بھلائی کے خزانے کو کھولا جاتا ہے اور برائی کے لیے تالے ہوتے ہیں یعنی برائی کو بند کرتے اور  اس کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی صحبت میں رہنے کا نبی کریم ﷺ حکم دے رہے ہیں کہ یہ کنجیاں تمہارے دل، کان اور آنکھ کو بھلائی کے لیے کھول دیں گے۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ گویا تم ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جو تمہارے سامنے بھلائی کے بند دروازے کھول کر رکھ دیں اور برائی کی راہ تم پر بند کردیں۔

  نبی کریم ﷺ اپنے ہر ہر امتی کے لیے اتنا فکرمند تھے کہ انہیں نیک دوست اپنانے کی تلقین فرماگئے۔ کیوں کہ بلا اختیار انسان اپنے دوست کے اچھے یا برے عقائد و نظریات اپنانے لگتا ہے۔ نیک اور اچھے دوست کی دوستی کے اثرات ہی انسان کو اچھا بناتے ہیں اور برے کی صحبت برا بناتی ہے۔چنانچہ حدیث پاک میں ہے:

أن النبي ﷺ قال: الرجل على دين خليله، فلينظر أحدكم من يخالل ( رواه أبو داود والترمذي بإسناد صحيح)

یعنی :" آدمی اپنے دوست کے دین پر چلا جاتا ہے پس تم میں سے کوئی دیکھ لے کہ کسے دوست بنا رہا ہے۔" اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: المرء مع من أحب یعنی " آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جسے وہ محبوب رکھتا ہے۔" ایک اور حدیث میں فرمایا: لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ (سنن ابوداؤد ، ترمذی) یعنی تم صرف مؤمن کی صحبت اختیار کرو اور تمہارا کھانا متقی ہی کھائے۔" اس کا یہ مطلب نہیں کہ فاسق اور گنہگار کو کھانا کھلانا جائز نہیں بلکہ اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ اپنے کھانے میں نیک اور متقیوں کو ترجیح دینی چاہیےاور مجالست اور صحبت صرف مؤمنین کی اختیار کی جائے۔ چنانچہ ایک عرب شاعر کہتا ہے:

عن المرء لا تسأل وسل عن قرينه     فكل قرين بالمقارن مقتدي

إذا كنت في قوم فصاحب خيارهم         ولا تصحب الأردى فتردى مع الردي

یعنی: " آدمی کے بارے نہ پوچھ بلکہ اس کے دوست کے ہی بارے پوچھ لے کیوں کہ ہر دوست اپنے دوست کی ہی پیروی کرتا ہے۔ جب تو کسی قوم میں ہو تو اس کے اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھ  اور بروں کے ساتھ نہ بیٹھوورنہ تم بھی بروں کے ساتھ برے بن جاؤ گے۔"

ابوموسی رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے اور برے ساتھی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مشک لئے ہوئے ہے اور بھٹی دھونکنے والا ہے، مشک والا یا تو تمہیں کچھ دیدے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا اس کی خوشبو تم سونگھ لوگے(یعنی ہر صورت فائدہ ہی فائدہ ہے ) اور بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلادے گا یا تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔(یعنی ہر صورت میں نقصان ہی نقصان ہے ۔) متفق علیہ

یہ بری صحبت کا ہی نتیجہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کے غمخوار چچا ابوطالب اسلام سے محروم رہے۔ چنانچہ بخاری  باب الجنائز میں روایت درج ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے آخری وقت میں ابوطالب سے کہا : چچا جان! آپ کلمہ توحید لاالٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بطور دلیل پیش کرسکوں تو وہاں ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ موجود تھے انہوں نے کہا: اے ابوطالب! کیا آپ اپنے والد کے طریقے سے اعراض کریں گے؟ وہ مسلسل یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب نے اپنے اجداد کے طریقے کو پسند کیا اور کلمہ پڑھنے سے انکار کردیا۔

نبی کریم ﷺ برے ساتھی کی صحبت سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے چنانچہ آپ دعا فرماتے:

  ( اللهم إني أعوذ بك من يوم السوء، ومن ليلة السوء، ومن ساعة السوء، ومن صاحب السوء) (رواه ابن حبان في صحيحه )

ترجمہ: " اے اللہ میں برے دن سے اور بری رات سے اور بری گھڑی سے اور برے ساتھی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"


ہفتہ، 1 اگست، 2026

تلاوتِ قرآن کی حیرت انگیز تاثیر

                               مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ

تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک  معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود میں ایک معجزہ ہو  اور وہ اپنے ابدی اور لازوال ہونے کا دعویٰ کرے، جس کے دامن میں وہ ہیرے، جواہرات، یاقوت و لعل چھپے ہوں جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی کتاب  اور کوئی کلام نہ کرسکتا ہو۔ جو اپنے مخالفین کو اپنی مثل لانے کا چیلنج کرے، کئی صدیاں گزر جانے کے باجود سب اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز آجائیں۔نزول کے وقت سے اب تک اس کی زبر ، زیر پیش، جزم اور مد  میں کسی قسم کا کوئی فرق نہ آیا ہو، ایسی کتاب کسی بہت بڑے معجزے سے کم نہیں جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی، ایسی انقلابی کتاب جس پر عمل پیرا ہونے والوں نے دنیا کو مسخر کردیا اور چہار دانگِ عالم میں اپنی عظمت کا لوہا منوایا۔ اس کی تاثیر کا یہ عالم ہے کہ اگر اسے پہاڑ پر نازل کیا جاتا وہ اللہ کی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہوجاتا۔  چنانچہ سورۃ الحشر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 لَوْ اَنْزَلْنَاہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہ‘ خَاشِعًا مُّتَصِدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ

ترجمہ: " اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ خوفِ الٰہی سے پست ہو کر  ٹکڑے ٹکڑے ہو  جا تا ۔"

 یہ قرآن  کی تاثیر ہے کہ یہ دلوں کے لیے تو باعثِ تسکین و اطمینان ہے ہی ، جسموں کے لیے بھی باعث شفا ہے یہ عظیم الشان کتاب قرآن مقدس ہے جو کلام الٰہی ہے، جسے خالق کائنات نے تمام جہان والوں کے ہمہ قسمی امراض کے لیے شفا بنا کر اتارا  خواہ  وہ امراضِ  جسمانیہ  ہوں یا روحانیہ دونوں صورتوں میں فائدہ مند ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاسراء میں فرماتا ہے:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا                                         

ترجمہ: "اور ہم وہ قرآن نازل کررہے ہیں جو مؤمنوں کے لیے شفا اور رحمت کا سامان ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔"

یہ قرآن کی تاثیر ہے کہ قرآن کو تمام بیماریوں کے لیے شفا بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ الفاتحہ کے بارے آیا ہے کہ اس میں ہر بیماری کی شفا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بچھو کے ڈسے ایک سردار پر دم کیا تو وہ شفا یاب ہوگیا چنانچہ یہ بکریوں کا ریوڑ اجرت میں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ ہوچھا  کہ آیا یہ اجرت لینا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں۔ نبی کریم ﷺ پوچھا تم نے اس پر کیا پڑھ کر دم کیا تھا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا ۔ آپ یہ سن کر مسکرائے اور  پوچھا تمہیں کس نے کہا کہ یہ دم ہے؟ ان بکریوں کو لے لو اور میراحصہ بھی نکال لو۔( بخاری) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے مرض الوفات میں  آپ ﷺ سورۃ الفلق و الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے، جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو میں وہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں پر دم کرتی پھر نبی کریم ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھی۔(بخاری) ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ قرآن مؤمنوں کے لیے شفا  اور رحمت ہے۔

سورۃ المائدہ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ  فرماتاہے:

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ 

ترجمہ: " جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے  اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں وہ بول اٹھتے ہیں کہ " پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔"

یعنی قرآن سنتے ان کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں گویا  قرآن کی تاثیر سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور خود کو حق تعالیٰ کے قریب محسوس کرتے ہیں۔ یہ تو صحابہ کرام اور اہل ایمان کا حال ہے جب کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں آیا ہے کہ آپ  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوتلاوت کرنے کا کہتے ہیں انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی  جب اس آیت پر پہنچے:

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا

 ترجمہ: " پھر سوچو کہ اس وقت کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ( اے پیغمبر) ہم تم کو اِن لوگوں  کے خلاف گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔"

تو  نبی کریم ﷺ نے رکنے کا اشارہ کیا ۔ سیدنا  ابن مسعود نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔

ایک بار قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو تیار کرکے نبی کریم ﷺ کے پاس دو ٹوک بات کرنے بھیجا تاکہ روزانہ کے جھگڑے کا حل نکلے۔ عتبہ اپنے وقت کا بہت فصیح اللسان شاعر اور ادیب تھا۔ اس کے انتخاب کا مقصد ہی نبی کریم ﷺ کو کلام میں شکست دینا اور آپ کی دعوت کو غیر مؤثر کرنا تھا تاکہ آپ عتبہ کی کلام سے مرعوب ہوں اور دعوت حق چھوڑ دیں۔ اس  نے نبی کریم ﷺ سے گفتگو کی آخر میں آپ کو سرداری،بہت زیادہ مال اور عورتوں  کی پیشکش کی اور بدلے میں  دعوت توحید ترک کرنے کا کہا جس پر نبی کریم ﷺ نے ان آیات:

حم (1) تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (2) كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (3)  سے لے کر  فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ (13)  تک تلاوت فرمائی۔ ( سورہ حم سجدہ آیت : 1 تا 13)  آخری آیت کا ترجمہ  یہ ہے:

ترجمہ: " پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا۔"

یہ سن کر عتبہ لرز گیا اس نے نبی کریم ﷺ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ مزید  قرآن پڑھنا بند کردیں۔ اس کے بعد عتبہ پر ایسا اثر ہوا کہ وہ دبک کر گھر بیٹھ گیا  باہر نہیں نکلا یہاں تک کہ ابوجہل نے اسے  طعنہ دیا کہ عتبہ پر محمد ﷺ کے جادو کا اثر ہوگیا ہے  اس پر  عتبہ نے  کہا اللہ کی قسم!  محمد نے میری بات کا ایسا جواب دیا جو نہ تو جادو  ہے، نہ شعر اور نہ کہانت ہے۔ غرض قرآن کے سامنے بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء بھی نہیں ٹک سکے اور اس کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔

عرب کا مشہور شاعر لبید جسے شاعری اور عربی ادب میں اتنی مہارت تھی کہ لوگ اسے "ملک الشعراء" شاعروں کا بادشاہ مانتے تھے (وفاق المدارس العربیہ کے نصاب میں شامل مشہور  کتاب سبعہ معلقہ کا آخری شاعر ہے۔ اس نے اشعار لکھ کر کعبے کی دیوار پر لٹکا دیے کسی مسلمان نے قرآن کی آیات لکھ کر ساتھ لٹکا دیں اگلے دن جب اس کا گزر وہاں سے ہوا تو اپنے اشعار کے ساتھ کچھ لکھا دیکھ کر اسے پڑھنے لگا یہاں تک بول پڑا یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہوا اور شاعری ترک کردی۔

سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک بار رات کو قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا وہ خاموش ہوگئے گھوڑا بھی پرسکون ہوگیا پھر تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا حرکت میں آگیا ایسا تین بار ہوا ساتھ ان کا بیٹا یحیٰ سویا ہوا تھا انہیں ڈر ہوا کہ کہیں گھوڑا اسے روند نہ ڈالے چنانچہ انہوں نے تلاوت ختم کی جب اٹھے تو ان کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھی تو انہیں سائبان نظر آیا جس میں چراغ جلنے کی طرح کی روشنیاں تھیں جو زمین کی طرف آرہی تھیں۔ یہ اسے دیکھتے رہے یہاں تک وہ دوبارا آسمان کی طرف بلند ہوئی اور غائب ہوگئی صبح جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو رات کا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا: "یہ آسمان کے فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سن کر اتر رہے تھے، اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو یہ زمین پر اتر آتے اور صبح تک لوگ ان کا مشاہدہ کرتے یہ ان کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔" ( بخاری)

یہ قرآن مقدس کی وہ تاثیر اور اعجاز ہے جو طلوع شمس سے بھی زیادہ روشن اور واضح ہے۔ یہ تاثیر ہر وہ شخص حاصل کرسکتا ہو جو سے دل سے قرآن کی تلاوت کا معمول بنائے اور اس کے معانی و مطالب میں عمل کی نیت سے غور و فکر کرے۔ اب ضرورت قرآن جیسی آفاقی اور ابدی کتاب کو غلافوں میں لپیٹ کر گھروں میں خیر و برکت کے لیے رکھنے کی نہیں، صرف میتوں کو بخشوانے اور بیٹی کی رخصتی کے وقت سر پر رکھنے کی نہیں بلکہ اسے دل اور روح میں بسانے کے ساتھ عملی زندگی میں لانے کی ہے۔

اپنی اولاد کی دینی تربیت کیجیے

  تحریر: مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ اولاد قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔ اولاد کی قدر و قیمت ان سے پوچھیے جو اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں ۔اولاد...