ہفتہ، 1 اگست، 2026

تلاوتِ قرآن کی حیرت انگیز تاثیر

                               مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ

تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک  معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود میں ایک معجزہ ہو  اور وہ اپنے ابدی اور لازوال ہونے کا دعویٰ کرے، جس کے دامن میں وہ ہیرے، جواہرات، یاقوت و لعل چھپے ہوں جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی کتاب  اور کوئی کلام نہ کرسکتا ہو۔ جو اپنے مخالفین کو اپنی مثل لانے کا چیلنج کرے، کئی صدیاں گزر جانے کے باجود سب اس کی مثل پیش کرنے سے عاجز آجائیں۔نزول کے وقت سے اب تک اس کی زبر ، زیر پیش، جزم اور مد  میں کسی قسم کا کوئی فرق نہ آیا ہو، ایسی کتاب کسی بہت بڑے معجزے سے کم نہیں جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی، ایسی انقلابی کتاب جس پر عمل پیرا ہونے والوں نے دنیا کو مسخر کردیا اور چہار دانگِ عالم میں اپنی عظمت کا لوہا منوایا۔ اس کی تاثیر کا یہ عالم ہے کہ اگر اسے پہاڑ پر نازل کیا جاتا وہ اللہ کی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہوجاتا۔  چنانچہ سورۃ الحشر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 لَوْ اَنْزَلْنَاہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہ‘ خَاشِعًا مُّتَصِدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ

ترجمہ: " اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ خوفِ الٰہی سے پست ہو کر  ٹکڑے ٹکڑے ہو  جا تا ۔"

 یہ قرآن  کی تاثیر ہے کہ یہ دلوں کے لیے تو باعثِ تسکین و اطمینان ہے ہی ، جسموں کے لیے بھی باعث شفا ہے یہ عظیم الشان کتاب قرآن مقدس ہے جو کلام الٰہی ہے، جسے خالق کائنات نے تمام جہان والوں کے ہمہ قسمی امراض کے لیے شفا بنا کر اتارا  خواہ  وہ امراضِ  جسمانیہ  ہوں یا روحانیہ دونوں صورتوں میں فائدہ مند ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاسراء میں فرماتا ہے:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا                                         

ترجمہ: "اور ہم وہ قرآن نازل کررہے ہیں جو مؤمنوں کے لیے شفا اور رحمت کا سامان ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔"

یہ قرآن کی تاثیر ہے کہ قرآن کو تمام بیماریوں کے لیے شفا بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ الفاتحہ کے بارے آیا ہے کہ اس میں ہر بیماری کی شفا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بچھو کے ڈسے ایک سردار پر دم کیا تو وہ شفا یاب ہوگیا چنانچہ یہ بکریوں کا ریوڑ اجرت میں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ ہوچھا  کہ آیا یہ اجرت لینا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں۔ نبی کریم ﷺ پوچھا تم نے اس پر کیا پڑھ کر دم کیا تھا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا ۔ آپ یہ سن کر مسکرائے اور  پوچھا تمہیں کس نے کہا کہ یہ دم ہے؟ ان بکریوں کو لے لو اور میراحصہ بھی نکال لو۔( بخاری) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے مرض الوفات میں  آپ ﷺ سورۃ الفلق و الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے، جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو میں وہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں پر دم کرتی پھر نبی کریم ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی تھی۔(بخاری) ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ قرآن مؤمنوں کے لیے شفا  اور رحمت ہے۔

سورۃ المائدہ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ  فرماتاہے:

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ 

ترجمہ: " جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے  اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں وہ بول اٹھتے ہیں کہ " پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔"

یعنی قرآن سنتے ان کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں گویا  قرآن کی تاثیر سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور خود کو حق تعالیٰ کے قریب محسوس کرتے ہیں۔ یہ تو صحابہ کرام اور اہل ایمان کا حال ہے جب کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں آیا ہے کہ آپ  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوتلاوت کرنے کا کہتے ہیں انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی  جب اس آیت پر پہنچے:

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا

 ترجمہ: " پھر سوچو کہ اس وقت کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ( اے پیغمبر) ہم تم کو اِن لوگوں  کے خلاف گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔"

تو  نبی کریم ﷺ نے رکنے کا اشارہ کیا ۔ سیدنا  ابن مسعود نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔

ایک بار قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو تیار کرکے نبی کریم ﷺ کے پاس دو ٹوک بات کرنے بھیجا تاکہ روزانہ کے جھگڑے کا حل نکلے۔ عتبہ اپنے وقت کا بہت فصیح اللسان شاعر اور ادیب تھا۔ اس کے انتخاب کا مقصد ہی نبی کریم ﷺ کو کلام میں شکست دینا اور آپ کی دعوت کو غیر مؤثر کرنا تھا تاکہ آپ عتبہ کی کلام سے مرعوب ہوں اور دعوت حق چھوڑ دیں۔ اس  نے نبی کریم ﷺ سے گفتگو کی آخر میں آپ کو سرداری،بہت زیادہ مال اور عورتوں  کی پیشکش کی اور بدلے میں  دعوت توحید ترک کرنے کا کہا جس پر نبی کریم ﷺ نے ان آیات:

حم (1) تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (2) كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (3)  سے لے کر  فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ (13)  تک تلاوت فرمائی۔ ( سورہ حم سجدہ آیت : 1 تا 13)  آخری آیت کا ترجمہ  یہ ہے:

ترجمہ: " پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا۔"

یہ سن کر عتبہ لرز گیا اس نے نبی کریم ﷺ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ مزید  قرآن پڑھنا بند کردیں۔ اس کے بعد عتبہ پر ایسا اثر ہوا کہ وہ دبک کر گھر بیٹھ گیا  باہر نہیں نکلا یہاں تک کہ ابوجہل نے اسے  طعنہ دیا کہ عتبہ پر محمد ﷺ کے جادو کا اثر ہوگیا ہے  اس پر  عتبہ نے  کہا اللہ کی قسم!  محمد نے میری بات کا ایسا جواب دیا جو نہ تو جادو  ہے، نہ شعر اور نہ کہانت ہے۔ غرض قرآن کے سامنے بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء بھی نہیں ٹک سکے اور اس کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔

عرب کا مشہور شاعر لبید جسے شاعری اور عربی ادب میں اتنی مہارت تھی کہ لوگ اسے "ملک الشعراء" شاعروں کا بادشاہ مانتے تھے (وفاق المدارس العربیہ کے نصاب میں شامل مشہور  کتاب سبعہ معلقہ کا آخری شاعر ہے۔ اس نے اشعار لکھ کر کعبے کی دیوار پر لٹکا دیے کسی مسلمان نے قرآن کی آیات لکھ کر ساتھ لٹکا دیں اگلے دن جب اس کا گزر وہاں سے ہوا تو اپنے اشعار کے ساتھ کچھ لکھا دیکھ کر اسے پڑھنے لگا یہاں تک بول پڑا یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا اسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہوا اور شاعری ترک کردی۔

سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک بار رات کو قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا وہ خاموش ہوگئے گھوڑا بھی پرسکون ہوگیا پھر تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا حرکت میں آگیا ایسا تین بار ہوا ساتھ ان کا بیٹا یحیٰ سویا ہوا تھا انہیں ڈر ہوا کہ کہیں گھوڑا اسے روند نہ ڈالے چنانچہ انہوں نے تلاوت ختم کی جب اٹھے تو ان کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھی تو انہیں سائبان نظر آیا جس میں چراغ جلنے کی طرح کی روشنیاں تھیں جو زمین کی طرف آرہی تھیں۔ یہ اسے دیکھتے رہے یہاں تک وہ دوبارا آسمان کی طرف بلند ہوئی اور غائب ہوگئی صبح جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو رات کا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا: "یہ آسمان کے فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سن کر اتر رہے تھے، اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو یہ زمین پر اتر آتے اور صبح تک لوگ ان کا مشاہدہ کرتے یہ ان کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔" ( بخاری)

یہ قرآن مقدس کی وہ تاثیر اور اعجاز ہے جو طلوع شمس سے بھی زیادہ روشن اور واضح ہے۔ یہ تاثیر ہر وہ شخص حاصل کرسکتا ہو جو سے دل سے قرآن کی تلاوت کا معمول بنائے اور اس کے معانی و مطالب میں عمل کی نیت سے غور و فکر کرے۔ اب ضرورت قرآن جیسی آفاقی اور ابدی کتاب کو غلافوں میں لپیٹ کر گھروں میں خیر و برکت کے لیے رکھنے کی نہیں، صرف میتوں کو بخشوانے اور بیٹی کی رخصتی کے وقت سر پر رکھنے کی نہیں بلکہ اسے دل اور روح میں بسانے کے ساتھ عملی زندگی میں لانے کی ہے۔

پیر، 11 اگست، 2025

عہدے اور امارت طلب کرنے کا فتنہ


 تحریر: محمد مبشر بدر

فی زمانہ عہدے اور امارت کی چاہت اور محبت نے ہر طبقے میں بڑی سطح پر تباہی مچا رکھی ہے خاص طور مذہبی طبقات میں یہ کھنچاؤ تو ہلاکت خیز ہے۔ ہر بندہ چاہتا ہے کہ اسے امیر، ذمہ دار، لیڈر اور عہدہ دار بنایا جائے۔ ہر بندہ خود کو اہل اور دوسروں کو نااہل سمجھ رہا ہے کہ میں فلاں سے بہتر اور اچھا کام کرسکتا ہوں اور دوسرا اس کو احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتا وغیرہ ۔ اسی پر ہر جگہ فسادات برپا ہیں۔امارت و عہدہ داری کے فتنے نے آج تمام شعبوں میں مسلمانوں کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کیا سیاست اور کیا مذہبیت، سب کچھ اتھل پتھل ہو کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ شریعت میں عہدہ طلب کرنا ناپسند کیا گیا ہے، اس کی بہت زیادہ ذمہ داریاں اور مسئولیات ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ عہدے اور امارت سے دور بھاگتے تھے۔

ایک صحیح روایت میں آیا ہے:
أنه قال عند النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بئس الشيءُ الإمارةُ فقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ نعمَ الشيءِ الإمارةُ لمن أخذها بحقِّها وبئس الشيءُ الإمارةُ لمن أخذها بغيرِ حقِّها تكون عليه حسرةً يومَ القيامةِ
الراوي: زيد بن ثابت المحدث: الهيثمي - المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 5/203
خلاصة حكم المحدث: [فيه] حفص بن عمر بن الصباح الرقي وثقه ابن حبان ، وبقية رجاله رجال الصحيح

یعنی " ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہا: امارت بری چیز ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے امارت اچھی چیز ہے جو اسے اس کے حقوق کا لحاظ کرکے سنبھالے اور اس شخص کے حق میں امارت بری چیز ہے جو اس کے حقوق کا لحاظ نہ کرے، یہ قیامت کے دن اس پر حسرت و افسوس کا سبب ہوگی۔"

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن جُعلَ قاضيًا بينَ النَّاسِ ، فقد ذُبحَ بغيرِ سِكِّينٍ
الراوي: أبو هريرة المحدث: الألباني - المصدر: صحيح أبي داود - الصفحة أو الرقم: 3572
خلاصة حكم المحدث: صحيح

یعنی ’’ جسے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا مقرر کیا گیا گویا اسے بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔‘‘
اچھا فیصلہ کرنے کرنے والے کے لیے اجر اور ظلم کا فیصلہ کرنے والے کے لیے اتنا وبال ہے کہ گویا بغیر چھری کے ذبح کیے ہوئے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو امارت اور عہدہ طلب کرنے سے منع فرمایا۔
چنانچہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قال لي النبي -صلى الله عليه وسلم-: «يا عبد الرحمن بن سمرة:لاتسأل الإمارة، فإنك إن أوتيتها عن مسألة وكلت إليها، وإن أوتيتها من غير مسألة أعنت عليها، وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيراً فكفِّر عن يمينك وأت الذي هو خير» (صحیح مسلم)

مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اے عبدالرحمن بن سمرہ! تم امارت طلب نہ کرنا، کیوں کہ اگر تمہیں مطالبے پر امیر بنا دیا گیا وہ اس کی ذمہ داری تم پر ڈال دی جائے گی، اور اگر بغیر مطالبے کے تمہیں امیر بنایا گیا تو ( من جانب اللہ) تمہاری مدد کی جائے گی، اور اگر تم کسی بات پر قسم کھا بیٹھو اور اس کے علاوہ بات میں بہتری دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور خیر والی بات کو اختیار کرو۔‘‘

اس روایت میں امارت کو طلب کرنے سے منع کیا گیا اور اسے ناپسند کیا گیا ہے۔ ہاں اگر بغیرطلب کے اہل حل و عقد ازخود منتخب کردیں تو اللہ کی طرف سے مدد کا وعدہ ہے ورنہ ساری ذمہ داری عہدے کے طالب پر ہوگی۔

امارت طلب کرنا ایک مذموم امر ہے۔  لوگ اس میں حرص کرنے لگے ہیں، اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس کے حصول کے لیے جدو جہد کرنے لگے ہیں۔ اسی دور کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نشاندہی کی اور امت پر اس کے اندیشے کا اظہار کیا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:

إنكم ستَحرصونَ على الإمارةِ ، وستكون ندامةٌ يومَ القيامةِ ، فنِعْمَ المُرضعةُ وبئستِ الفاطمةُ
الراوي: أبو هريرة المحدث: البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7148
خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

یعنی ’’ تم عنقریب امارت پر حرص کرنے لگو گے، وہ قیامت کے دن تمہارے لیے ندامت اور شرمندگی کا سبب ہوگی الیٰ آخرہ"

ان روایات اور ان جیسی دیگر روایات پر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جس سے امت میں افتراق اور انتشار پیدا ہو امت پر اس کو منع کردیا گیا، امارت طلب کرنا بھی اسی قبیل سے ہے۔ الا یہ کہ اہل علم و اہل الرائے کسی کو اعتماد پر منتخب کردیں تو پھر مذموم نہیں ، تب منتخب شخص کو اللہ سے استقامت اور حق کی طرف رہنمائی کی دعا کرنی چاہیے۔ ماضی میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب میں سے ایک یہ سبب بھی معلوم ہوتا ہے کہ امارت و عہدہ کی طلب میں بغاوتیں برپا کی گئیں اور کشت و خون کے دریا بہائے گئے۔اب دوبارہ وہی غلطیاں ہم دہرا رہے ہیں۔ خدارا کب ہم اپنی اصلاح کریں گے اور اپنا معاملہ اہلِ تقویٰ و فتویٰ کی زیرِ نگرانی چھوڑیں گے۔؟ طوالت کے خوف سے انہی روایات پر اکتفا کرتا ہوں اور درد دل سے عرض کرتا ہوں کہ خدارا! جہاں کہیں ایسا فتنہ کھڑا ہو وہاں یہ وعیدات پیش کریں

منگل، 14 نومبر، 2023

جمع بین الصلاتین یعنی دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنے کا حکم

بقلم: مفتی محمد مبشر بدر

شریعت میں نماز اپنے وقت مقرر پر فرض کی ہے  اپنے وقت سے قبل اس کی ادائیگی جائز نہیں۔ چنانچہ دخول وقت کے ساتھ ہی نماز کی فرضیت مکلف پر لاگو ہوجاتی ہے۔ تاہم اگر کہیں شرعی عذر لاحق ہوجائے تو آیا دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کا اس بارے کیا عمل رہا ہے  اس پر احناف کا موقف یہ ہے کہ دونمازوں کو جمع کرنے کی دو قسمیں ہیں ایک جمع حقیقی یعنی ایک وقت میں دو نمازیں جمع کردی جائیں،  دوسری  قسم جمع صوری یعنی اول نماز اس کے آخری وقت میں ادا کی جائے اور دوسری نماز اس کے اول وقت میں ادا کی جائے۔ یوں دونوں نمازیں صورتاً جمع ہوجائیں گی لیکن حقیقتاََ اپنے اپنے وقت پر ہی ادا ہوں گی۔اگر ہم حقیقتاً جمع بین الصلاتین کے قائل ہوجائیں جیسا کہ کچھ لوگوں کا موقف ہے تو اس سے کچھ احادیث پر عمل اور کچھ کو ترک کرنا لازم آئے گا جب کہ جمع صوری پر عمل کرنے سے تمام احادیث پر یکساں عمل ہوگا کسی کا ترک لازم نہیں ہوگا۔

احناف کایہی اصول رہا ہے کہ ایسا موقف اختیار کیا جائے جس پر زیادہ سے زیادہ احادیث پر عمل ہو جتنا روایات میں مطابق دی جاسکتی ہو دی جائے۔ جہاں مطابقت ممکن نہ ہوں وہاں راجح جانب کو ترجیح دے کر ثانی موقف کی تاویل کردی جائے۔ چنانچہ اس حوالے سے قرآنی آیات اورتمام احادیث کا ادراک کرنے کے بعد اہلسنت احناف کا فہم اور موقف یہ ہے کہ جمع حقیقی صرف ایام حج میں مزدلفہ اور عرفات میں جائز ہے اس کے علاوہ کسی عذر کی وجہ سے جائز نہیں جب کہ جمع صوری شرعی عذر کی وجہ سے جائز ہے۔ اس موقف پر چند دلائل پیش خدمت کرتا ہوں تاکہ اس بات کا اندازہ ہوسکے کہ اہلسنت احناف کا موقف محض رائے پر قائم نہیں جیسا کہ بعض لوگ غلط تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں  بلکہ قرآن و سنت کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔

دلیل 1 :

احناف کی پہلی دلیل قرآن مجید کی آیت ہے۔

﴿اِنَّ الصَّلوٰةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتَابًا مَّوْقُوْتًا ﴾  (النساء:۱۰۳ )

ترجمہ: "بے شک نماز مسلمانوں پروقتِ مقررہ کے ساتھ فرض ہے"۔

امام بیضاوی مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

 ای فرضا محدود الاوقات لایجوز اخراجھا عن اوقاتہا فی شیئ من الاحوال

ترجمہ: " نماز ایسا فرض ہے  جسے اپنے اوقات میں محدود کردیا گیا ہے ، ان نمازوں کو پنے مقررہ اوقات سے باہر نکالنا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔"

آیت مبارکہ اس معنیٰ میں واضح اور خاص ہے کہ ہر نماز کا ایک مقرر وقت ہے۔  وقت داخل ہوتے ہی نماز فرض ہوجاتی ہے،  اپنے وقت سے پہلے کوئی نماز فرض نہیں ہوتی۔ قرآن کے اس فیصلے کے بعد ہم تمام روایات کو اسی اصول پر پرکھیں گےکیوں کہ قرآن اصل الاصول ہے باقی دلائل اس کے تابع ہیں۔

دلیل نمبر 2:

اسی طرح قران مجید میں ہے کہ: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ۔ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۔ سورۃ الماعون )

ترجمہ: ان نمازیوں کیلئے ویل نامی جہنم کی جگہ ہے۔جو اپنی نماز سے غافل ہیں ۔

دلیل نمبر 3:

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ (بقرۃ آیت:  ۲۳۸)

ترجمہ: "نمازوں کی حفاظت کرو۔"

اس آیت کے ذیل میں تفسیر بیضاوی لکھتا ہے کہ { حافظوا عَلَى الصلوات } بالأداء لوقتها والمداومة عليها۔

ترجمہ: " یعنی اپنے وقت پر ادائیگی اور اسپر مداومت کے ساتھ اس نماز کی حفاظت کرو۔"

دلیل نمبر 4 :

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ اَتٰى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ"۔ (سنن الترمذي، باب ماجاء في الجمع بین الصلاتین في الحضر:۱۸۸)

ترجمہ: "جس آدمی نے بغیر عذر کے دو نمازوں کو (ایک ہی وقت میں)جمع کیا(پڑھا) وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پہنچ چکا۔"

اس روایت میں دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنے کی ممانعت ہے حتیٰ کہ کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ نمازوں کا اصل حکم ہے کہ بلا عذر ایک وقت میں دو نمازیں جمع نہ کرے۔یہ قرآن کی آیت کی تائید ہے۔

دلیل5 :

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

" مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى صَلَاةً بِغَيْرِ (لِغَيْرِ) مِيْقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيْقَاتِهَا"۔

(صحیح البخاري، باب من یصلي الفجر بجمع:۱٦۸۲)

ترجمہ: " میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز اس کے وقت کے علاوہ میں پڑھی ہو، مگر دو نمازیں یعنی مغرب اور عشاء (مزدلفہ میں )آپ ﷺ نے جمع فرمائیں، اور مزدلفہ میں فجر کو معمول کے وقت سے پہلے (فجر کے بالکل ابتدائی وقت میں) ادا فرمایا  "۔

اس روایت میں سیدنا ابن مسعود فرمارہے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو کسی نماز کو اس کے وقت کے علاوہ میں پڑھتے نہیں دیکھا سوائے مزدلفہ کے۔ اس کے علاوہ کہیں جائز نہیں۔ نیز اس روایت میں آپ ﷺ کا فجر کی نماز کو وقت سے پہلے ادا کرنے کا بھی ذکر ہے، امام نووی رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت درج ذیل الفاظ میں فرمائی ہے:

" المراد بقوله: قبل ميقاتها: هو قبل وقتها المعتاد، لاقبل طلوع الفجر؛ لأن ذلك ليس بجائز بإجماع المسلمين"۔
(حاشیة صحیح البخاري، رقم الحاشية:7، 1 / 228 ط:هنديه)

ترجمہ: "یعنی فجر کی نماز وقت سے پہلے ادا کرنے سے مراد یہ ہے کہ عموماً فجر کی نماز جس وقت (آخرِ وقت) ادا کرنے کا معمول تھا، اس وقت سے پہلے (ابتدائی) وقت میں فجر کی نماز ادا فرمائی، نہ کہ طلوع فجر (وقت داخل ہونے) سے پہلے ادا فرمائی ؛ کیوں کہ طلوعِ فجر سے پہلے فجر کی نماز ادا کرنا تمام مسلمانوں کے اجماع سے ناجائز ہے۔"

دلیل6 :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ، يُؤَخِّرُ صَلاَةَ المَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ العِشَاءِ» قَالَ سَالِمٌ: «وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ وَيُقِيمُ المَغْرِبَ، فَيُصَلِّيهَا ثَلاَثًا، ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ العِشَاءَ، فَيُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، وَلاَ يُسَبِّحُ بَيْنَهُمَا بِرَكْعَةٍ، وَلاَ بَعْدَ العِشَاءِ بِسَجْدَةٍ، حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ»

(الصحیح للبخاری رقم الحدیث 1109)

ترجمہ:" حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب جلدی سفر طے کرنا ہوتا تو مغرب کی نماز مؤخر کر دیتے،پھر اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓبھی اگر سفر سرعت کے ساتھ طے کرنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے، مغرب کی تکبیر پہلے کہی جاتی اور آپ تین رکعت مغرب کی نماز پڑھ کر سلام پھیر دیتے، پھر معمولی سے توقف کے بعد عشاء کی تکبیر کہی جاتی اور آپ اس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے، دونوں نمازوں کے درمیان ایک رکعت بھی سنت وغیرہ نہ پڑھتے اور اسی طرح عشاء کے بعد بھی نماز نہیں پڑھتے تھے، یہاں تک کہ درمیان شب میں آپ اٹھتے (اور تہجد ادا کرتے) "۔

اس روایت میں صراحت ہے کہ حضرت ابنِ عمر ؓ نمازِ مغرب سے فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر ٹھہر جاتے تھے، پھر اس کے بعد عشاء پڑھتے تھے تو حضرت ابن عمرؓ کا مغرب پڑھ کر ٹھہرنا صرف اس لیے تھا کہ عشاء کے وقت کے داخل ہونے کا یقین ہوجائے۔ خود حافظ ابن حجرؒ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس روایت میں صورتا جمع کرنا مراد ہے۔

دلیل 7 :

خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں روایات کی بنا پر انہوں نے شاہی فرمان کے طور پر یہ شرعی حکم جاری فرمایاتھا، اور گورنروں اور امراء کو یہ خط لکھاتھا کہ:

" يَنْهَاهُمْ أنْ يَّجْمَعُوْا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَيُخْبِرُهُمْ اَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِيْ وَقْتٍ وَّاحِدٍ كَبِيْرَةٌ مِّنَ الْكَبَائِرِ . أَخْبَرَنَا بِذٰلِكَ الثِّقَاتُ "۔

(موطأ محمد، باب الجمع بین الصلاتین في السفر:۲۰۵)

ترجمہ: "کہ امراء لوگوں کو جمع بین الصلاتین سے روکیں،اور ان کو بتا دیں کہ جمع بین الصلاتین ایک ہی وقت میں کبیرہ گناہ ہے۔اس روایت کو ثقہ روایوں نے ہم سے بیان کیاہے۔"

اگر اس کی اجازت ہوتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہرگز نہ روکتے، اور اللہ اوراس کے رسول کی طرف سے اجازت شدہ عمل کو ختم نہ فرماتے۔ معلوم ہواکہ جمع بین الصلاتین  حقیقتاًجائز نہیں ہے بلکہ صورتاً جائز ہے۔

پیر، 6 نومبر، 2023

استاذ القراء قاری محمد ابراہیم رحیمی رحمہ اللہ ایک قابلِ رشک شخصیت

مفتی محمد مبشر بدر عفی عنہ

کچھ لوگ قابلِ رشک ہوتے ہیں، جو حقیقی کامیابیاں سمیٹ کر اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوجاتے ہیں اور اپنے لیے ذخیرہ  آخر ت اتنا جمع کرجاتے ہیں کہ ملائکہ بھی ان پر رشک کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رضا کے متلاشی  اور اس کی نازل کردہ کتاب کے خادم ہوتے ہیں۔ جن کی پوری زندگی قرآن  پڑھنے پڑھانے میں گزر جاتی ہے اور وہ مخلوق سے اس کا صلہ و بدلہ نہیں چاہتے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: رشک دو آدمیوں کے سوا کسی پر جائز نہیں ایک اس  شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا علم دیا  اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا  آدمی جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا۔ (بخاری) قاری قرآن کی شان یہ ہے کہ گویا  وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہم کلام رہتا ہے۔  ایک روایت میں ہے کہ "جنت کے درجات آیاتِ قرآن کے بقدر ہیں، قاری ء قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا جہاں آخری آیت ہو وہاں تمہارا مقام ہے۔"

محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "قرآن پاک کے قاری نے گویا نبی کریم ﷺ کی زیارت کرلی" ( تنبیہ الغافلین) یہ خوش نصیب لوگ جن کی اللہ اور ملائکہ کے ہاں عزت ہے آج دنیا  کے طالب ان کی قدر و منزلت سے نا آشنا ہیں۔ یہ قابلِ رشک لوگ بروزِ محشر باعزت و باکرامت ہوں گے۔  شاعر ان پراسرار عبادِ ربانی کے بارے کہتا ہے:

؎          یہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر

انہی کے اتقاء پہ ناز کرتی ہے مسلمانی

 استاذ القراء خادم القرآن  قاری محمد ابرہیم رحیمی نور اللہ مرقدہ انہیں قابل رشک لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے قرآن مجید کی خدمت کے لیے خاص کیا ، انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن پڑہنے پڑھانے میں گزار دی ، اور یوں امت کے بہترین طبقے میں شامل ہوگئے چنانچہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: خَيرُكُم من تعلَّمَ القرآنَ وعلَّمَهُ  یعنی " تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے۔" دنیا میں بھلا کوئی ان کی قدر جانے یا نہ جانے پر رسول اللہ ﷺ کی زبانی ان کا مرتبہ بیان کیا جاچکا کہ اللہ کے ہاں ان کا مقام بہت بلند ہے۔

آپ  1940 ء کو ضلع مظفرگڑھ کے قصبہ شاہجمال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم علاقے کے معروف عالم دین  اور مشہور قاری مولانا صالح محمد رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ بعد ازاں خیر المدارس ملتان میں  استاذ القراء قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ سے قرآن کی تکمیل کی۔ آپ استاذ کے حد درجہ فرمانبردار اور تابعدار تھے۔ ایک مرتبہ قاری رحیم بخش رحمہ اللہ نے فرمایا: "ساری زندگی آپ نے جامع مسجد سنارے والی  شاہجمال  تحصیل و ضلع مظفرگڑھ میں اللہ کا قرآن پڑھانا ہے۔"  پس آپ نے رضائے  ربی میں استاذ کے حکم کی تعمیل کی اور ساری عمر جامع مسجد سنارے والی  میں گزار دی۔ آپ نے 65 برس امامت اور تدریس میں صرف کیے اور ہزاروں لوگوں کے دلوں کو قرآن کی تعلیم سے منور کیا ۔

آپ کے شاگرد اور فیض یافتہ کرہ ارضی پر پھیلے ہوئے ہیں، نصف شہر سے زیادہ لوگوں نے آپ کے سامنے  زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ آپ کے پڑھانے کا انداز انتہائی آسان اور عمدہ  تھا۔ جہاں پورے شہر میں سادہ قرآن پڑھانے کا رواج تھا، مخارج اور تلفظ کی صحیح ادائیگی پر توجہ نہیں دی جاتی تھی وہاں استاذ محترم قاری ابراہیم رحمہ اللہ تمام حروف کو ان سے مخارج سے ادا کرنے کا اہتمام فرماتے۔ چنانچہ ناظرہ پڑھنے والے بچوں کے مخارج اور الفاظ کی ادائیگی مشاق قراء کرام کی طرح عمدہ اور شستہ ہوتی۔ آخر ایسا کیوں نہ ہوتا آپ رسول اللہ ﷺ کے ان  فرامین پر بدرجہ اتم عمل فرماتے: ’’اِقْرَئُوُا الْقُرْآنَ بِلُحُوْنِ العَرَبِ وَأَصْوَاتِھَا‘‘۔ ترجمہ: " قرآن کو عرب کے لہجے اور ان کی آواز میں پڑھو۔" (شعب الایمان)   ایک اور روایت میں ارشاد ہے: ’’حَسِّنُوا القُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُم؛ فانَّ الصَّوتَ الحَسَنَ یَزِیْدُ القُرآنَ حُسْنًا۔ ترجمہ: " اچھی آواز سے قرآن کوپڑھاکرو؛اس لیے کہ اچھی آواز قرآن کے حسن کوبڑھادیتی ہے"(شعب الایمان)

آپ سے کسب فیض کرنے والوں کی تعداد کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا تاہم چند معززین علاقہ جن میں: " مفتی محمد اصغر (ملتان)، مفتی محمد حذیفہ و مفتی محمد جعفر( کراچی)، مولانا  زین العابدین (شاہجمال) ( فاضل دارالعلوم کراچی)، ( راقم الحروف)مفتی محمد مبشر بدر (فاضل دارالعلوم کراچی) مولانا عبد الخالق رحمانی( خطیب پاکستان کبیر والہ)، حافظ عبد الرحمٰن انصاری سابق جج ہائیکورٹ لاہور، حافظ عبدالشکور انصاری چیف انجینئر ایریگیشن آف پنجاب، قاری خدا بخش قصائی،قاری محمد اسماعیل شاہجمال (برادر)، قاری مولانا عبدالستار (شاہجمال)،  ڈاکٹر میاں محمد اقبال، ڈاکٹر محمد فرخ رضا، میاں محمد عمران دھنوتر، سابق چئرمین یونین کونسل شاہجمال مہر غلام علی جانگلہ وغیرہ سر فہرست ہیں جب کہ  آپ  جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے بانی و مہتمم قاری محمد یٰسین حفظہ اللہ اور جامعہ طیبہ  فیصل آباد کے بانی و مہتمم قاری محمد ابرہیم  رحمہ اللہ کے ہم در س و ہم سبق رہے ہیں ان کے علاوہ  مفتی محمد اصغر علی ربانی رحمہ اللہ (نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی)، قاری محمد ادریس صاحب مہتمم  جامعہ رحیمیہ ملتان، الحاج  قاری مولانا اکرام الحق انصاری رحمہ اللہ، الحاج قاری عبد الکریم مدنی (مدینہ منورہ) قاری محمد منظور صاحب ( خانگڑھ) ایسے عظیم لوگ آپ کے ہم پیالہ و ہم نوالہ رہے ہیں۔

حضرت قاری صاحب پانی پتی لہجے میں اتنی عمدہ اور سحر انگیز  تلاوت فرماتے تھے کہ سننے والے عش عش کر اٹھتے اور داد دیے بغیر نہ رہتے۔ ہر لفظ کو اس کے مخرج سے سہولت سےادا فرماتے ۔ قریب و جوار کے لوگ ان کی تلاوت کے مداح اور خطباتِ جمعہ و عیدین کے دیوانے تھے۔

؎          وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ

جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ

 آپ نے سادہ اور درویشانہ زندگی گزاری۔ چہرہ ہشاش بشاش  رہتا اور جسے ملتے والہانہ انداز اور خندہ پیشانی سے ملتے ۔ سخی تھے اور لوگوں کی بخیلی اور کنجوسی پر نالاں رہتے اور انہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا کہتے رہتے۔حرمین شریفین  سے  اس درجہ وارفتگانہ اور عاشقانہ تعلق تھا کہ اسباب و زر کی قلت  کے باوجود ایک حج اور تین عمرے کی ادائیگی کی سعادت مع اہلیہ محترمہ حاصل کی۔ آپ کی محنتوں اور کاوشوں سے کئی لوگوں کے عقیدے درست ہوئے اور کئی صالحین بنے۔ ملامحمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے دور اقتدار میں آپ نے افغانستان کا سفر کیا۔

آپ نے 83 سال کی عمر میں  19 ستمبر بمطابق 2 ربیع الاول بروز منگل صبح 9 بج کر 20 منٹ پر تمام اعزاء و اقارب، مقتدیوں، شاگردوں، اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کیا ۔ اپنے پیچھے ایک بیوہ  چار بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں۔ جن میں سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں الحمدللہ حافظ قرآن  اور حضرت استاذ محترم کے لیے ذخیرہ آخرت ہیں۔ آپ کے بیٹوں میں قاری محمد اسحاق، قاری محمد محبوب احمد اور قاری محمد ایوب صاحب شعبہ امامت و تدریس قرآن سے منسلک ہیں جبکہ ماسٹر محمد یعقوب صاحب گورنمنٹ سکول شاہجمال کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ قاری محمد ابرہیم رحمہ اللہ کی وصیت کے مطابق آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے چھوٹے بیٹے قاری محمد ایوب الرحمٰن  حفظہ اللہ نے  گورنمنٹ ہائی سیکنڈری سکول شاہجمال میں پڑہائی۔ آپ کا جنازہ  شاہجمال کی تاریخ کا ایک عظیم  جنازہ تھا جس میں تمام مسالک کےجید علمائے کرام اور قراءِ عظام کے علاوہ ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اللہ کی اس عظیم شخصیت قدسیہ  پر کروڑوں رحمتیں ہوں اور ان کی قبر نور سے منور ہو۔ اللہم آمین

؎         تیری جدائی پہ مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

          مگر تیری مرگِ ناگہاں کا مجھے ا بھی تک یقیں نہیں ہے

پیر، 14 فروری، 2022

کیا لوگوں کو زبردستی مسلمان کیا گیا؟

 ایک اعتراض کا اجمالی جواب
 تحریر محمد مبشر بدر

    مکہ میں 13 سال تک مسلمان مسلسل ماریں کھاتے رہے۔ مشرکین اور کفار ان پر مسلسل ظلم کرتے رہے جن سے تاریخ اسلام کے اوراق سیاہ ہوئے پڑے ہیں اس وقت تو آقا علیہ السلام اور مسلمانوں نے کسی پر جبر نہیں کیا جتنے لوگ مسلمان ہوئے اپنی مرضی سے ہوئے اسی طرح مدینے میں اسلام کی دعوت پھیلی اس وقت بھی کسی نے مدینے والوں کے گلوں پر تلواریں نہیں رکھی تھی سب اپنی ہی مرضی سے مسلمان ہوئے تھے۔
پھر جب مشرکین نے آقا علیہ السلام کو مکہ سے نکالا اور آپ علیہ السلام ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تب بھی مدینہ والوں نے خود انہیں اپنے ہاں ہجرت کرنے کی دعوت دی کسی نے انہیں مجبور نہیں کیا تھا۔ آقا علیہ السلام مدینہ پہنچ گئے جہاں یہود کے تین قبیلے بنو قریظہ ، بنونظیر اور بنو قینقاع آباد تھے جنہیں مسلمانوں سے دشمنی پیدا ہوگئی۔ آقا علیہ السلام نے ان سے امن معاہدہ کیا کہ ایک دوسرے سے نہیں لڑیں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں غیروں کی مدد کریں گے، لیکن اس کے باوجود یہود نے عہد توڑ ڈالا اور مسلمانوں کے خلاف ان مشرکین کی مدد کی جو دین و مذہب میں ان سے بالکل میل نہ کھاتے تھے، یہودی اہل کتاب و اہل شریعت جب کہ مکہ کے مشرک جاہل اور بت پرست لیکن پھر بھی یہود نے اپنی اسلام دشمنی کا مکمل ثبوت دیا۔ اللہ نے غزوہ احزاب سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائی وہاں سے فارغ ہو کر پیغمبر اسلام ﷺ نے یہود کو عہد شکنی کی سزا دی اور یہ سزا بالکل حق پر مبنی ہے کیوں کہ اگر یہی کام مسلمان یہود کے ساتھ کرتے تب یہود مسلمانوں سے اس سے بھی بدتر حال کرتے۔
         اس لیے اسلام تو شروع سے اب تک پرامن رہا ہے۔ شروع سے اب تک اس پر تمام دنیا کے غیر مسلم فوجوں نے چڑہائی کی ہے اور ان کی وحدت کو تار تار کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ دیکھیں فتح مکہ کے بعد اگر آقا علیہ السلام چاہتے تو انتقام میں تمام مشرکین کی ان کے ظلم و ستم کے بدلے گردنیں اڑا سکتے تھے لیکن آپ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا جس سے متاثر ہوکر تمام مشرک مسلمان ہوگئے۔
     اسلام نے اخلاق سے لوگوں کے دلوں کو جیتا ہے نہ کہ ظلم وجبر سے کیوں کہ ظلم و جبر زیادہ دیر تک ٹکتا نہیں اور اسلام آج بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہے۔ تلوار سے عیسائیت نے اندلس میں مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے اسلام اس غلط فعل سے بری ہے۔

جمعرات، 14 جنوری، 2021

ارطغرل غازی اور انجین التان

محمدمبشر بدر

ترکی ڈرامہ ارطغرل نے لاکھوں مسلمانوں میں ہمت اور ولولہ پیدا کردیا ہے، آخر میڈیا ایک طاقت اور اثر رکھتا ہے۔ اسے مثبت استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کو صحیح سمت میں لانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسے فحاشی اور عریانی کے فروغ اور وقت کے ضیاع کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس سے معاشروں میں بجائے تعمیر کے بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ دیریلس ارطغرل کی چند اقساط دیکھ پایا باقی کی نہ تو فرصت ملی اور نہ ہی میرے پاس بقیہ اقساط موجود ہیں۔ ڈرامے میں موجود موسیقی، بے پردگی اور کرداروں کی شکل و شباہت میں غیر اسلامی جھلک کی مخالفت کرتا آیا ہوں۔ اس ڈرامے میں ترکش اداکارانجین التان کو ارطغرل کے کردار میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے کا مرکزی اور جاندار کردار ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد انجین التان کو ہی ارطغرل سمجھ بیٹھی ہے اور اس کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے۔ ایسا ہونا ایک فطری عمل ہے کہ ارطغرل جیسے عظیم اور سحر انگیز شخصیت کو جاندار انداز میں پیش کرنے پر لوگ اداکار کو ہی حقیقی کردار سمجھنے لگ جاتے ہیں۔


 جب کہ انجین التان تو وہ اداکار ہے جس نے مسلمانوں کو ان کی تاریخ کے اجلے کردار سے روشناس کرایا ہے۔ لیکن جب انجین التان فوکس ٹی وی پر نئے دکھائے جانے والے ڈرامے پر سیکولرانہ کردار میں نظر آیا تو نامعلوم دل کیوں اداس ہوگیا۔ فوکس ٹی وی کا مالک ایک اسلام دشمن انسان ہے اور اس چینل سے دن رات مسلسل اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ انجین التان کو سوچنا چاہیے تھا کہ یہ چینل اس سے ایسا کام کیوں کروانا چاہتا ہے جس میں اسلام دشمنی اور عریانی کا درس عوام تک پہنچ رہا ہے۔؟ اس وجہ سے کہ ارطغرل کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے دلوں میں اپنا جو مقدس احترام بنا چکے ہیں اسے مسلمانوں کے دلوں سے ماند کرنا اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا مقصود ہے۔ فوکس ٹی وی کی سیریز میں انجین التان کو ایک سیکولر وکیل کے کردار میں پیش کردیا گیا ہے۔ 


انجین کو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ مسلمان اسے اسلام کے کردار کے علاوہ کسی اور کردار میں قبول نہیں کریں گے۔ کیوں کہ وہ ارطغرل کے سحر انگیز کردار کی وجہ سے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں اپنا مقام بنا چکا ہے۔ ارطغرل کے جیالوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انجین التان اپنی حقیقی زندگی میں قطعا ارطغرل جیسا نہیں ہے۔ بلکہ وہ سیکولرانہ ذہنیت رکھتا ہے اور اس نے اپنے ٹویٹر اور انسٹا گرام کے اکاؤنٹ پر اسلام دشمن مصطفیٰ کمال اتاترک کی تصاویر چڑھا رکھی ہیں، جس نے ترکی سے اسلام نکالنے کے سنگین اقدامات اٹھائے۔ اسلامی تعلیم پر پابندی لگائی،  قرآن کے نسخے ضبط کروائے اور ترکش زبان کی عربی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں ڈھال دیا۔ ایسے سیکولر اسلام دشمن انسان کی تائید کرنے والے اور اسے اپنا رول ماڈل قرار دینے والے شخص کو ارطغرل کا کردار دے دیا گیا۔ انجین التان ترکی کے اس خطے میں رہتے ہیں جہاں سیکولرز اکثریت میں ہیں۔


کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ انجین التان کا ذاتی معاملہ ہے اس میں ہمیں بولنے کا حق نہیں۔ ان کی بات کسی حد تک درست ہوسکتی ہے لیکن اس بات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ دیریلس ارطغرل محض ایک ڈرامہ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی ایک تحریک ہے جس سے مسلمانوں کے اسلامی جذبات بیدار ہورہے ہیں۔ اس لیے ایک عظیم کردار پر ایک سیکولر شخص کو منتخب کرنا خود اس کردار کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ہم مسلمان نقلی اداکاروں سے حقیقی کرداروں جیسی توقعات اور ویسی عقیدت وابستہ کرلیتے ہیں جو بعد میں اس وقت چکنا چور ہوجاتی ہے جو وہ ہماری توقعات اور امیدوں کے برعکس نکلتے ہیں۔ آئندہ سے ایسے کرداروں کے لیے ان افراد کا انتخاب کیا جانا چاہیے جو اسلامی سوچ اور نظریہ رکھتے ہوں تاکہ کردار کے ساتھ اداکار کی جو کشش اور محبت فطری طور پر دل میں اترتی ہے اس میں مماثلت پائی جائے۔

اتوار، 5 جنوری، 2020

عرب ممالک میں قادیانیت کی ہزیمت

مفتی محمد مبشر بدر عفی عنہ

قادیانی اپنے جھوٹے مذہب کی ترویج کے لیے اتنے متحرک ہیں کہ انہوں نے پوری دنیا میں دعوتی سرگرمیاں پھیلانے کا عزم کررکھا ہے۔ یہ مکر و فریب، جھوٹ اور دجل کا ایسا گورکھ دھندا ہے کہ پوری دنیا کو دھوکا دیا ہوا ہے کہ قادیانیت اور اسلام میں کوئی فرق نہیں۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے عرب مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانا شروع کردیا ۔ سب سے پہلے 1928 میں اسرائیلی شہر حیفا میں قادیانی تبلیغی مرکز کھولا۔ جہاں سے انہوں نے پورے عرب کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ عرب خطے میں قادیانی تبلیغ کی صد سالہ محنت کے نتیجے میں ان کا ایک حلقہ بن چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر کنٹرول حاصل کر کےاسے  تبلیغی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اردو زبان سے ناواقفیت کی بنا پر اہل عرب  قادیانی مکائد اور چالاکیوں سے بے خبر رہے، وہ انہیں ایک عام مسلمان تنظیم سمجھتے رہے، اور اب بھی اکثر عرب ان کی اصلیت سے ناواقف ہونے کی بنا پر ان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ تبھی ان کی گمراہانہ جال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

لیکن اب تبدیلی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ عرب قادیانیت کی گمراہیوں کو پہچاننے لگے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ قادیانیت کے فلسطین، مصر اور دیگر عرب ممالک کے متحرک اور سرگرم مبلغ جناب ہانی طاہر نے قادیانیت کو خیر باد کہہ دیا اور 31 اگست کو اسلام قبول کرلیا۔ 47 سالہ ہانی طاہر ایک تعلیم یافتہ اور منجھے ہوئے صحافی ہیں جو کہ قادیانیت کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بہت بڑا نام تھا۔وہ قادیانیوں کے عرب ٹی وی چینل 3 کے پروگراموں قرآۃ فی الصحف، سبیل الہدیٰ، الحوار المباشر، اور الخزائن الروحانیہ کے میزبان کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔ انہوں نے ناصرف اسلام قبول کیا بلکہ قادیانیت کے خلاف تحقیقی اور علمی ویڈیو کلپ  بنا کر انٹر نیٹ پر پھیلانی شروع کردیں۔ ہانی طاہر کا کہنا ہے کہ جب تک مرزا قادیانی کی کتب کا عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا تب تک قادیانی جو کچھ بتاتے ہم اسے سچ سمجھتے رہے لیکن جب غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا تو ہم پر اس گروہ کی حقیقت کھلنا شروع ہوگئی، اور میں اس نتیجے تک پہنچا کہ مرزا غلام احمد نہ تو مسیح موعود ہے اور نہ ہی مہدی  بلکہ وہ ایک جھوٹا اور اور مکار شخص ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں ایسے شخص کے لیے تبلیغ کرتا رہا اور اپنی زندگی کے بہترین لمحات اس کے پرچار میں گنوا دیے۔

ہانی طاہر نے مرزے کی کتابوں سے تضادات اور تناقضات کو اکٹھا کرکے ویڈیو کلپ بنا کر یوٹیوب پر لگانے شروع کیے  اور ساتھ ہی مرزے کی عربی دانی کا پول کھول دیاکہ مرزے کی عربی میں انتہائی فاش قسم کی صرفی، نحوی اور ادبی اغلاط موجود ہیں جو قطعا کلام الٰہی نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی وہ الہامی عبارات ہوسکتی ہیں۔ طاہر ہانی نے واضح کیا کہ مرزے نے کس طرح عرب ادباء کی ادبی عبارتوں اور جملوں کو چوری کیا اور انہیں الہام اور وحی  کا درجہ دے کر عامۃ الناس کو دھوکہ دیا۔ مرزے کے دجل و فریب سے نقاب اٹھتے دیکھ کر قادیانیوں کی  نیندیں اڑ گئیں۔ ہانی طاہر کے دلائل اتنے قوی اور مضبوط ہوتے کہ خود قادیانی بھی جماعتی سطح پر اس کا جواب نہیں دے سکے۔جس کے نتیجے میں بہت سے قادیانیت کا شکار عربوں نے قادیانیت سے توبہ کی اور ہانی طاہر کی ٹیم ورک کا حصہ بن گئے۔

ہانی طاہر کی کاوشوں سے ہدایت پانے والے خوش نصیبوں میں لندن قادیانی مرکز کے مؤذن ، نائب امام اورمرزا مسرورکے انتہائی قریبی عکرمہ نجمی بھی شامل ہیں جنہوں نے ہانی طاہر کی ویڈیوز سے متاثر ہوکر قادیانیت پر چار حرف بھیجے۔ قادیانیوں نے انہیں لندن میں مرزا مسرور کی رہائش گاہ کے قریب عالیشان گھر دیا ہوا تھا۔عکرمہ نجمی عرب قادیانیوں میں صف اول کے مبلغ شمار ہوتے تھے اور پیدائشی قادیانی تھے۔ ان کے نانا نے سب سے پہلے قادیانیت قبول کی اور یوں ان کا گھرانہ اس سلسلے میں جڑ گیا۔

عکرمہ نجمی نے خود اپنے اسلام قبول کرنے سے متعلق لکھا کہ جب ہانی طاہر کے دندان شکن اعتراضات کا جواب قادیانیوں سے نہیں بن پڑا تو مرزا مسرور نے مجھ سے اس بابت پوچھا۔ میں نے کہا اس کے دلائل کے سامنے ہماری جماعت  بے بس دکھا ئی دیتی ہے اور کوئی خاطر خواہ جواب نہیں بن پارہا۔ مرزا مسرور نے یہ سن کر میری ذمہ داری لگائی کہ تم تیاری کرو اور اس کا جواب دو۔ میں نے انتہائی جاں فشانی سے ہانی طاہر کو جواب دینے کی کوشش کی لیکن جب مرزا قادیانی کی کتب کی طرف مراجعت کی  اور جوں جوں کتب پڑہتا گیا میں انکار، خوف، تنگی، شدید افسوس، کوفت اور دقت جیسےکئی مرحلوں سے گزرتا گیا۔میرے لیے بیان کرنا مشکل ہے کہ میں کس اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہوگیا یہاں تک کہ ہدایت کا مرحلہ آیا اور میں نے مرزائیت سے برائت کا اعلان کردیا۔

مجھے معلوم ہوچکا تھا کہ مرزا قادیانی نے عربی کتب سے سرقہ کیا ہے۔ حالانکہ جماعت احمدیہ یہ باور کراتی رہی تھی کہ مرزا غلام احمد نے کسی سے عربی تعلیم حاصل نہیں کی یہ وہبی اور عطائی صلاحیت ہے جو اللہ نے انہیں خصوصیت سے معجزانہ طور پر عطا فرمائی ہے۔ مرزے کی کتب میں عربی ادب کی اہم کتاب "مقامات حریری" کے ابتدائی چالیس صفحوں کے (1000) ادیبانہ جملے دیکھے جو مرزے نے چوری کرکے اپنی عربی تحاریر میں فٹ کیے تھے۔ ہانی طاہر نے مرزا کی کتب سے سو نحوی اور لغوی غلطیاں بھی نکالیں جس سے مجھ پر اس کا کذب اور جھوٹ کھل گیا۔  وہ شخص کیسے الہامی یا من جانب اللہ مقرر شدہ نبی و مہدی ہوسکتا ہے جو مقامات حریری اور دیگر عربی کتب کے ادبی جملوں کی چوری کرکے اپنی کتابوں میں لکھے اور کہے کہ یہ کلام من جانب اللہ نازل ہوا ہے؟اسی طرح مرزے کی پیشین گوئیاں جو جھوٹی ثابت ہوئیں اور محمدی بیگم بارے مرزے کی اشتہار بازی ، پیشین گوئی اور اس سے نکاح کی مذموم کوشش جس میں قادیانی بالکل ناکام رہا اور ساری پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں،  ان تمام چیزوں نے میری نگاہ میں مرزے کا دجل کھول دیا۔ اب میری ذمہ داری تھی کہ میں جماعت کے سامنے حق بات کھول کر بیا  ن کروں اور مرزے اور اس کی جماعت کی حقیقت بیان کروں۔

چنانچہ سب سے پہلے میں نے مرزائی خلیفہ  مسرور کو خط لکھا اور مرزے کی تمام خرافات بارے بات کی،  نیز یہ کہ ہانی طاہر سچ کہہ رہا ہے۔ اب سارا معاملہ آپ کے ہاتھ ہے اس وقت آپ خلافت کے تخت پر ہیں سب لوگ آپ کی بات توجہ سے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔  آپ ہی موجودہ لوگوں اور آنے والی نسلوں کو اس ورطے سے نکال سکتے ہیں۔ آپ کو آج حق بتا دینا چاہیے اور اس دجل سے پردہ ہٹا دینا چاہیے۔ کم از کم اتنا ہوگا کہ قادیانی احباب کو بہت زیادہ دکھ و الم ہوگا لیکن اس کے بعد آخرت کی رسوائی سے تو بچ جائیں گے۔ آپ اپنی جماعت کا رخ  کسی مثبت فلاحی کاموں کی طرف موڑیں اور ان دعاوی کو چھوڑ دیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر آپ نے ایسا عظیم الشان کام کردکھایا تو تاریخ آپ کا نام سنہری حروف سے لکھے گی اور اس پر آپ کو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی طرف سے بہت اچھا بدلہ ملے گا۔ اگر آپ میری تجویز قبول کریں تو میں آخر تک آپ کا تعاون کرنے کو تیار ہوں۔

میں نے خط انہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ اس خط میں کیا ہے؟ میں نے کہا آپ کے پڑہنے سے پہلے میں کچھ نہیں بتا سکتا، آپ اسے پڑہیں اس کے بعد آپ سے ملاقات ہوگی۔ میں نے یہ توقع نہیں کی تھی کہ میری ساری زندگی اس طرح کے خواب دیکھ سکے گی! انہوں نے کہا، " کیا بات ہے، کیا تم جماعت چھوڑنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا میں نے آپ کو خط کے مندرجاتپڑہنے تک باتملتوی رکھنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں ایک یا دو  دن میں اسے پڑھ کر دوبارہ ملوں گا۔ چالیس منٹ بعد ایک خادم نے آکر کہا آپ کو خلیفہ صاحب بلا رہے ہیں۔ جب میں اندر گیا تو میں نے دیکھا کہ ان کے کلام میں ارتعاش تھا ۔ وہ دوران گفتگو کانپ رہے تھے اور ا ن کے ہاتھ بہت زیادہ  لرز رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا:
"تم نے بانی ءجماعت کے بارے جو غیر منطقی باتیں کی ہیں میں انہیں قبول نہیں کرتا۔  ہمارے دین اور طریقے پر تواتر قائم ہوچکا ہے۔ میں نے تمہارا تمام پیغام پڑھ لیا ہے ۔ اس کے بعد میں تمہیں ملازمت اور جماعت سے نکالنے پر مجبور ہوں۔ شیخ عکرمہ مزید لکھتے ہیں کہ: بجائے اس کے کہ مجھے قائل کیا جاتا اور مرزا قادیانی کی سچائی کے دلائل دیے جاتے اور میرے اشکالات دور کیے جاتےبلکہ  الٹا مجھے صاف جواب دیا کہ میں تمہیں ملازمت سے فارغ کرنےاور جماعت سے نکالنے پر مجبور ہوں۔ یہ کیسی سچائی ہے ؟

قارئین! میں نے عکرمہ نجمی کے خط کے ایک حصے کا ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا جب کہ طوالت کے ڈر سے مرزے کے بارے جو باتیں روشن دلائل سے لکھی تھیں انہیں  چھوڑ دیا۔ عکرمہ نجمی پہلے ہی قادیانیت سے توبہ تائب ہوچکے تھے۔ ملازمت سے فارغ کیے جانے اور جماعت سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے قادیانیت کی حقیقت سے ان نادان عربوں کو نکالنے کی ٹھانی جو مرزے کے دجل کا شکار ہوچکے تھے۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے اور بہت سے عرب قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعے بنے ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ شیخ امجد سقلاوی  اردن کے تعلیم یافتہ سکالر ہیں جو قادیانیت کا شکار ہوچکے تھے بعد ازاں حقیقت کھلنے پر وہ  توبہ تائب ہوئے اور بھر پور طریقے سے قادیانیت کے خلاف کام کررہے ہیں۔

میرا مضمون طویل ہوگیا ۔ اگر مزید افراد کے نام لکھوں کو طوالت بڑھ جائے گی۔ یہ افراد اس وقت سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں اور قادیانیت کے خلاف سرگرم ِعمل ہیں۔میری خوش نصیبی ہے کہ میں ان کے ساتھ ایڈ ہوں انہوں نے میری ریکویسٹ کو قبول کرکے مجھے اعزاز بخشا۔قارئین! آپ نے پڑھا کہ قادیانیت کا سورج اب سر زمینِ عرب میں ڈوب رہا ہے۔ یہ اب پستی کی طرف لڑھک رہے ہیں۔  ان نو مسلم افراد کی محنت رنگ لارہی ہے جو خود قادیانیت کی گود میں پل کر آئے ہیں اور اللہ نے انہیں ہدایت کی راہ دکھا دی ہے۔ ان شاء اللہ انگریزی ایما ء پر قائم کیا ہوا قادیانی شجرہء خبیثہ اب کھوکھلا ہورہا ہے۔ ان شاء اللہ آنے والے وقتوں میں آپ بہت بڑی خوشخبریاں سنیں گے۔

ہفتہ، 4 جنوری، 2020

آخر اک روز تو پیوندِ زمیں ہونا ہے


بقلم مفتی محمد مبشر بدر
آئیں ! کچھ دیر موت کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کچھ عالم آخرت کی پہلی منزل کے بارے سوچتے ہیں۔  تھوڑا دنیا کے جھمیلوں سے وقت نکال کر آخرت کی وسعتوں کی طرف جھانکتے ہیں۔ انسان کو جہانِ دنیوی میں لمحاتِ زیست عطا ہوئے ہیں تو موت بھی ایک اٹل حقیقت ہے جو تمام لذتوں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ روئے زمین پر اللہ کے وجود کے منکر تو ملیں گے لیکن موت کا انکاری کوئی نہیں ملے گا۔ زندگی انسان کو عدم سے وجود میں لانے کا ذریعہ بنی تو موت انسان کو پھر سے عدیم بنا دیتی ہے۔ صدیوں سے انسان موت کا حل ڈھونڈنے میں لگا ہے، پھر بھی اپنی کوششوں میں ناکام ہے اور یہ ماننے پر مجبور ہے کہ موت کا کوئی علاج اور حل نہیں، موت سے کوئی مفر نہیں۔ اب انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے تجربات کررہا ہے اور اس کوشش میں ہے کہ مرے ہوؤں کو دوبارہ زندہ کر دے جو صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن  ہے۔ خالقِ موت و حیات  نے خود اپنی کتاب قرآن مجید میں فرما دیا:

اَۡ ینَمَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ  فِیۡ  بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ سورۃ النساء

یعنی " تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ پکڑے گی، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو۔"
موت انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی یہاں تک کہ مقررہ مقام پر پا کر اپنے پنجوں میں دبوچ لیتی ہے۔ پھر نہ تو انسان کو محفوظ قلعے بچا پاتے ہیں اور نہ ہی کوئی مضبوط تدبیر کار گر ثابت ہوتی ہے۔ تمام انسان، جن اور ملک زور لگا کر ایک انسان کو موت سے بچانا چاہیں تو بھی نہیں بچا سکتے۔ زندگی اور موت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی انسان کو پیدا کرتا ہے پھر اسے موت دے کر اپنے پاس اٹھا لیتا ہے، کچھ کو بچپن میں وفات دیتا ہے  تو کچھ کو جوانی میں اور کچھ بڑہاپے تک پہنچ کر فوت ہوتے ہیں۔ چنانچہ سورہ نحل میں اللہ  تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ   ۟ ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ  یُّرَدُّ   اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ  لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ  بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ  قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰

ترجمہ : " اللہ تعالیٰ نے ہی تم سب کو پیدا کیا ہے، وہی پھر تمہیں فوت کرے گا، تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر ( بڑہاپے ) کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں۔ بیشک اللہ دانا  اور توانا ہے۔"

سورہ واقعہ میں فرمایا کہ ہم نے ہی انسانوں میں موت کو مقرر کررکھا ہے:

نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَیۡنَکُمُ الۡمَوۡتَ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾ سورہ واقعہ

ترجمہ : " ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کے فیصلے  کررکھے ہیں، اور کوئی نہیں ہے جو ہمیں اس بات سے عاجز کرسکے۔"

سورہ انبیاء میں اللہ فرماتا ہے:

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ  الۡمَوۡتِ ؕ وَ نَبۡلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَ الۡخَیۡرِ  فِتۡنَۃً ؕ وَ اِلَیۡنَا  تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۳۵

ترجمہ: " ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں۔ آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔"
مذکورہ آیت میں صاف فرمایا کہ انسان کی زندگی اور موت تو بس ایک آزمائش کے لیے ہے۔ موت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ کس نے کیسے اعمال کیے اسی کو سورہ ملک میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ"  اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرتا ہے۔ " انسان کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ کسی نے ہمیشہ اس جہاں میں نہیں رہنا۔ انبیاء علیہم السلام جیسی مقدس ہستیاں بھی جہانِ فانی چھوڑ کر چلی گئیں، پھر ہماری کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ کسی  کو موت سے کوئی مفر نہیں۔ اگر کوئی موت سے بھاگنا بھی چاہے تب بھی نہیں بچ سکتا۔ چنانچہ فرمایا:

قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ  فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ  اِلَّا  قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾ (الاحزاب)

ترجمہ: " اے نبی (ﷺ)! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا۔"

قُلۡ  اِنَّ الۡمَوۡتَ الَّذِیۡ تَفِرُّوۡنَ مِنۡہُ  فَاِنَّہٗ مُلٰقِیۡکُمۡ  ثُمَّ  تُرَدُّوۡنَ  اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ  فَیُنَبِّئُکُمۡ  بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۸﴾ (سورۃ الجمعۃ)

ترجمہ: " کہو کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے، پھر تمہیں اس (اللہ) کی طرف لوٹایا جائے گا جسے تمام پوشیدہ اور کھلی ہوئی باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔"

سورہ ق میں فرماتا ہے:

وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ  الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ  تَحِیۡدُ ﴿۱۹
ترجمہ: " اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان!) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا ہے۔"

موت کی سختی حقیقت لے کر سامنے آجاتی ہے۔ یہ سکرات کا وقت ہے۔ جب انسان عالم بالا کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ گویا اللہ فرماتا ہے اے انسان! اب تک تو دنیا میں نعمتوں کے مزے میں تھا، تو نے آخرت کو بھلائے رکھا۔ اب موت کی سختی تجھے حقیقت دکھا رہی ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ جس حقیقت سے منہ موڑے چلتا رہا آج انسان کو اسی حقیقت سے سامنا کرنا ہے۔ انسان موت سے بدکتا اس وجہ سے ہے کہ موت کی تیاری نہیں کی ہوتی، آخرت کی ہولناکیاں آنکھوں کے سامنے آچکی ہوتی ہیں تب عزیز و اقارب کا ساتھ ہونے کے باوجود مرنے والا بدک رہا ہوتا ہے اور وحشت زدہ ہوتا ہے۔ تبھی  اللہ نے فرمایا کہ یہ وہ موت ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے جہاں موت کو کثرت سے یاد کرنے کی تاکید کی وہیں موت کی تمنا کرنے سے بھی منع کیا: چنانچہ ارشاد فرمایا: أكثروا ذكر هاذم اللَّذات: الموت  ( ترمذی) "لذتوں کو ختم کرنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو" دوسری حدیث میں ہے:

لا يتمنَّينَّ أحدُكم الموتَ لضُرٍّ نزل به، فإن كان لا بدَّ مُتمنِّيًا فليقل: اللَّهم أحيني ما كانت الحياةُ خيرًا لي، وتوفَّني ما كانت الوفاةُ خيرًا لي ( متَّفقٌ عليه)

ترجمہ: "تم میں سے کوئی کسی مصیبت کے نازل ہونے کی وجہ سے موت کی تمنا ہرگز نہ کرے پس اگر اس کو لا محالہ کرنی ہی ہے تو اسے چاہئے کہ يہ کہے: اے اللہ مجھے زندہ رکھـ جب تک کہ زندہ رہنا میرے لئے بہتر ہو اور مجھے موت دے جب موت میرے لئے بہتر ہو۔"

مؤمن کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ موت بدکردار اور برے انسان کے لیے بھیانک اور روح فرسا ہے تو مؤمن کے لیے خوشی کا مژدہ اور تحفہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الموت تحفۃ المؤمن" یعنی موت مومن کا تحفہ ہے، مؤمن ہر وقت اپنے رب سے ملنے کا آرزو مند ہوتا ہے تبھی وہ ہر وقت اللہ سے ملاقات کی تیاری میں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ  (البقرة: 46) یعنی " وہ لوگ جو  یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے اور یقیناً  اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔"

کافر بارے سورہ یونس میں اللہ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ اطۡمَاَنُّوۡا بِہَا وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙ﴿۷﴾ اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ۔ ترجم: " حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں ، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے ۔" صحیحین کی روایت میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے:

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلممن أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه. فقلت: يا نبي الله أكراهية الموت؟ فكلنا نكره الموت. فقال: ليس كذلك، ولكن المؤمن إذا بشر برحمة الله ورضوانه وجنته أحب لقاء الله فأحب الله لقاءه، وإن الكافر إذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله وكره الله لقاءه۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ میں نے کہا یانبی اللہ ! کیا موت کی ناپسندیدگی مراد ہے؟ ( اگر ایسا ہے تو) ہم میں سے ہر کوئی موت کو ناپسند کرتا ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ مطلب نہیں۔ مؤمن کو جب اللہ کی رحمت ، رضا اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے پس اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔" (متفق علیہ)

پریشانی اس شخص کے لیے ہے جو من مانی کرتا رہا اور خواہشات کی پیروی کرتا رہا۔ مطیع و فرمانبردار کے لیے تو موت ایک عظیم نعمت ہے۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نےمزید  زندہ  رہنے  اور موت میں اختیار دیا ،  انہوں نے موت کو ہی پسند کیا۔ ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: " عقلمند آدمی وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور بے وقوف ہے وہ شخص جو اپنے آپ کو خواہشات پورا کرنے میں لگا دے اور اللہ پر (بخشش کی) امیدیں لگائے۔" چنانچہ ہمیں موت سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے، دنیاوی زندگی سے دھوکہ کھا کر مرنے کے بعد کے دن یومِ جزاء سے غافل نہیں ہونا چاہیے،  اس کے تقاضے پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ بقولِ شاعر: ؎    آخر اک روز تو پیوندِ زمیں ہونا ہے۔

تلاوتِ قرآن کی حیرت انگیز تاثیر

                                مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک   معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود می...