اتوار، 6 نومبر، 2016

اخلاص سے اعمال میں وزن پیدا کیجیے


 
محمد مبشربدر

انسان کے اعمال میں نیت کو خاص دخل حاصل ہے ، شریعت میں اعمال کا دارومدار نیت پر رکھا گیا ہے۔جس قسم کی نیت ہوگی اسی طرح اعمال کا اس پر ترتب ہوگا۔اس لیے ہر نیک عمل شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت کی اصلاح بہت ضروری ہے تاکہ وہ عمل اللہ کے ہاں قبولیت سے ہمکنار ہو ۔ آج کل کے اس نمود و نمائش کے دور میں اعمال میں وہ اخلاص ختم ہوتا جارہا ہے جس کے بل بوتے پر اعمال میں وزن پڑتا ہے اور وہ بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پاتے ہیں۔اخلاص کو ایمان کہا گیا ہے چنانچہ آقا علیہ السلام سے پوچھا گیایارسول اللہ ﷺ ’’ایمان کیا ہے؟‘‘۔آپ ﷺ نے فرمایا! ’’ اخلاص ‘‘ ( بیہقی )
عمل خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اخلاص کے بقدر اس کا وزن پہاڑوں سے بھی بڑھ جاتا ہے۔اللہ غیرت والا ہے ، وہ اپنے بندوں کے صرف وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے کیے جائیں ، اگر دکھاوا و ریاکاری کا ذرہ بھی شامل ہوجائے تو وہ عمل اللہ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل نہیں کرپاتا، بلکہ الٹاپکڑ کا سبب بنتا ہے۔حدیث پاک میں ریاکاری کو شرکِ اصغر کہا گیا ہے۔چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ شرک اصغر کیا ہے ؟ فرمایا: ریاکاری جس روز اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیں گے تو فرمائیں گے۔ چلے جاؤ انہیں کی طرف جنہیں دکھانے کے لیے تم دنیا میں عمل کرتے تھے اور دیکھوکہ کیا تم ان کے پاس بھلائی پاتے ہو۔( مسند احمد) ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے دکھاوے کی نماز پڑہی اس نے شرک کیا ، جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیااور جس نے دکھانے کے لیے صدقہ کیا اس نے شرک کیا۔‘‘ ( مسند احمد )
ریاکار کا عمل رائیگاں جاتا ہے ۔تنبیہ الغافلین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ : ’’ ریا کار کی چار نشانیاں ہیں : جب تنہا ہو تو سست ہو، جب لوگوں کے ساتھ ہو تو چستی دکھائے، جب اس کی تعریف کی جائے تو مزید کام کرے اور جب مذمت کی جائے تو پہلا بھی چھوڑ دے۔‘‘ اس روایت پر غور کریں اور اپنے حال کا جائزہ لیں کہ یہ علامات کہیں ہم میں تو نہیں پائی جاتیں؟ اگر پائی جاتیں ہو تو اس سے خوب خوب بچنے کا اہتمام کریں۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہےکہ جب انسان نیک عمل کرنے لگتا ہے تو شیطان اول تو اسے اس نیک عمل سے ہٹانے کی پوری کوشش کرتا ہے ۔ جب بندۂ مؤمن کے عزم کے سامنے ہارجائے تو اس کے دل میں ریاکاری کا  وسوسہ ڈالتا ہےتاکہ وہ ریاکاری کے ڈر سے عمل چھوڑ دے ایسے میں شیطان کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے اور اپنے عمل کو جاری رکھنا چاہیے، ریا کاری کے ڈر سے نیک عمل نہیں چھوڑنا چاہیے ، چنانچہ تنبیہ الغافلین میں ابوبکر واسطی رحمہ اللہ کا قول لکھا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ: ’’نیکی کی حفاظت عمل سے زیادہ مشکل ہے ۔ اس کی مثال شیشے کی سی ہےکہ جلد ٹوٹ جاتا ہےاور اصلاح کے قابل نہیں رہتا۔ اسی طرح جب عمل کو ریا کاری اور عجب چھوتے ہیں تو توڑ ڈالتے ہیں اور جب بندہ کسی کام کا ارادہ کرے اور ریاکاری بھی خوب ہو تو اگر اپنے دل سے ریاکاری نکال سکتا ہو تو کوشش کرے، اگر ایسا نہ کرسکتا ہوتو اسے چاہیے کہ عمل کرکے ریاکاری کی وجہ سے نہ چھوڑے اور ریاکاری جو کچھ ہوگئی اس پر استغفار کرے ۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اگلے عمل میں اخلاص کی توفیق عطا فرمادیں گے۔‘‘
اخلاص کو عبادات میں روح کا درجہ حاصل ہے ۔ جیسے بغیر روح کے جسم بےجان اور بے کار ہوتا ہے اسی طرح بغیر اخلاص کے عبادات بھی بے جان اور ناکارہ ہوتی ہیں۔علماء نے عمل قبول کرنے کی دو شرطیں لکھیں ہیں:پہلی یہ کہ عمل میں اخلاص ہونا چاہیے دوسرا یہ کہ وہ عمل سنت رسول ﷺ کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان دو شرطوں میں سے ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو عمل قابلِ قبول نہیں ہوگا۔عمل میں سنت رسول ﷺ کی اتباع نہ ہو خواہ کتنا ہی اخلاص سے بھرپور کیوں نہیں ، پھر بھی قابل قبول نہیں اور عمل میں اخلاص نہ ہو خواہ کتنا ہی سنت رسول کے مطابق ہو پھر بھی مردود ہے ۔دونوں کا ہونا لازم ہے۔
اللہ کو عبادات میں یہ پسند ہے کہ بندہ صرف اسی کے لیے ہی عبادت کرے چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے ’’اور خاص اسی کی ہی عبادت کرواور اسی کو پکارو‘‘(اعراف)ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے۔’’ اللہ تعالیٰ کو نہ تو ان قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی ان کا خون ، بلکہ ان کے پاس تو تمہاری پرہیز گاری پہنچتی ہے۔ یعنی (ان کے ہاں تو تمہارے دلی جذبات دیکھے جاتے ہیں)(الحج)۔اللہ مومن کا دل دیکھتا ہے کہ اس میں کتنا اخلاص ہے تب عمل قبول کرتا ہے ۔ قربانی کے جو جانور ذبح ہوتے ہیں ، اللہ فرماتا ہے مجھے ان کے گوشت اور خون کی کوئی ضرورت نہیں میں تو بس تمہارے دلوں کی آزمائش کرتا ہوں کہ ان میں میری محبت اور رجحان کتنا ہے؟َ۔
آج کے اس نمود و نمائش کے دور میں اعمال میں ریاکاری کا عنصر بہت پایا جاتا ہے۔ قربانی کا جانور اس لیے ذبح کیا جاتا ہے کہ اگر ذبح نہیں کریں گے تو لوگ کیا کہیں گے؟۔حج اس لیے کیا جاتا ہے کہ لوگ حاجی کہیں گے۔ علم دین اس لیے سیکھاجاتا ہے کہ لوگ عالم کہیں گے۔خیرات اس لیے کی جاتی ہے کہ لوگ سخی کہیں گے۔آج کے دور میں اخلاص سے زیادہ نمود و نمائش کو ترجیح دی جاتی ہے ، بڑے بڑے بینر لگوا کر اشتہاری مہم چلائی جاتی ہے۔لمبے چوڑے سخاوت کے اعلانات کرائے جاتے ہیں۔سنت سے زیادہ بدعت کو اہمیت دی جاتی ہے۔فرائض چھوڑ کر منکرات کو اپنایا جاتا ہے۔ گمنامی پر شہرت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس پر اتنی روایات ہیں کہ مضمون کا دامن اس کا متحمل نہیں ورنہ وہ روایات یہاں بیان کردیتا کہ اللہ و رسول کو کیا پسند ہے اور ہم کیا اختیار کررہے ہیںَ؟۔ صحابہ کرام نے کس قدر اعمال کو چھپایا اور ہم ظاہرکررہے ہیں۔ان باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ سب ہی ایسا کرتے ہیں ، حالانکہ اللہ کے نیک مخلص بندے موجود ہیں جو خالص اللہ کی رضا کے لیے ہی اعمال کرتے ہیں ذرا بھی اپنے دل میں ریاکاری کو راستہ نہیں دیتے۔اگراس نیت دے کوئی دکھاوے کا عمل کرے کہ دوسروں کو ترغیب ہو اور دل میں اخلاص موجزن ہو تو علمائے کرام فرماتے ہیں ایسا دکھاوا جائز بلکہ مستحسن ہے ، اگر اپنا دل ہی ریاکاری کی طرف مائل ہے تو چھپا کرہی عمل کرے۔

بسا اوقات نماز و دیگر عبادات میں شیطان انسان کے دل میں وسوسہ پیدا کرتا ہے کہ لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں ، اس وسوسے سے مومن پریشان ہوجاتا ہے، یاد رہے یہ شیطان کا ایک حربہ ہے جو وہ ایمان والے پر آزماتا ہے تاکہ وہ ریاکاری کے خوف سے عمل ہی چھوڑ دے۔ علماء فرماتے ہیں جب ایسی حالت ہو تو دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرکے عبادت میں لگا رہے ریاکاری کے خوف سے ترک نہ کرے اور شیطان کو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہونے دے۔

حکومت کا فیضی ! غامدی

   محمد مبشر بدر
 کچھ عرصہ سے ایک مخصوص جدید تعلیم یافتہ طبقے کی طرف سے اس مغربی فکر کو پروان چڑہانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ’’ اسلام کے احکامات میں تبدیلی کرنی چاہیے، اسے جدیددور سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے‘‘۔ جن میں سرِ فہرست اسلامی ریاست کا قیام،  حدود و تعزیرات ، تعددِ ازواج ، طلاق ، جہاد ، اسلامی لباس و شباہت ( داڑہی اور پردہ) اور بیسیوں اسلامی احکامات میں تبدیلی اور ترمیم کرنا ہے۔ اسی آڑ میں انہیں احکامات کو زیادہ نشانہء ملامت بنایا جارہا ہے اور ان کی تبدیلی پر سارا زور صرف کیا جارہا ہے۔چونکہ علماء کرام اس مقصد میں کامیابی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اس لیے وہ اکثر ان کے نشانہ پر رہتے ہیں ۔حالانکہ اسلام کے قطعی اور اتفاقی مسائل میں تبدیلی  کی گنجائش بالکل نہیں جو ہر دور کے  لیے یکساں حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ نئے پیش آمدہ مسائل میں اجتہاد کی گنجائش ہےجن کو ماہر علماء اجتہاد کرکے حل کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو متجددین کہتے ہیں جو دین کی تشکیلِ نو اور تدوینِ نو کا ایجنڈا لے کر اٹھے ہیں ۔ یہ  درحقیقت مغربیت کے اس نظرئیے سے متاثر ہیں کہ شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں کی گئی بلکہ یہ آقا علیہ السلام کے وضع کردہ قوانین ہیں، لہٰذا ان انسانی وضع کردہ قوانین میں تغیر ِزمانہ کی وجہ سےتبدیلی کرنی چاہیے۔جس کے لیے سارا زور صرف کیا جارہا ہے۔
اہل کلیسا کی طرف سے مسلمانوں کی وحدت میں چھرا گھونپنے کے لیے اسلامی صفوں سے کئی ایسے لوگ کھڑے کیے گئے ہیں جو اپنی چرب زبانی اور طلاقتِ لسانی سے یہ کام سرانجام دے رہے ہیں ۔جن میں سے ایک جاوید احمد غامدی ہے۔ جسے الیکٹرانک اور پریس میڈیا کے ذریعے مقبول کیا جارہا ہے تاکہ وہ اسلامی متفقہ مسائل میں رخنہ اندازی کرکے انہیں مشکوک بنائے ۔ اس طرح کفریہ طاقتوں کے لیےاسلامی سرحدات کی طرح اسلامی احکامات و نظریات پر شب خون مارنےکے لیے راستہ ہموار ہوجائے۔
ہمارے زمانے میں فتنۂ انکار حدیث کی آبیاری کرنے والوں میں ایک بڑا  نام موصوف کا ہے جن کی تحقیقات کا میدان تحریفِ قرآن تک پھیلا ہوا ہے۔ اس شخصیت کی تلاش میں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کوئی بھی ٹی وی چینل کھول لیں اس پر دینی اقدار  کے خلاف اپنی سوچ کو بطور حجت پیش کرتے ہوئے جو شخص دکھائی دے وہی حکومت کا فیضی یعنی (علامہ) جاوید غامدی ہے۔جن کا سنت کی تعریف سے لے کر قرآن حکیم تک اُمت سے اختلاف ہے اور موصوف کا دعوٰی ہے کہ چودہ سوبرس میں دین کو ان کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔جاوید احمد غامدی صاحب دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک عظیم فتنہ ہیں۔ خصوصی طور پر ہمارا نوجوان ، دنیاوی تعلیم یافتہ ، اردو دان طبقہ کافی حد تک اس فتنہ کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔
فی زمانہ غامدی فکر ایک مکمل مذہب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
یہ دور حاضر کاایک تجدد پسند گروہ (Miderbusts) ہے۔ جس نے مغرب سے مرعوب و متاثر ہوکر دین اسلام کا جدید ایڈیشن تیار کرنے کے لئے قرآن و حدیث کے الفاظ کے معانی اور دینی اصطلاحات کے مفاہیم بدلنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ وہ بھیڑ کے روپ میں ایک بھیڑیا ہے
 ‎ جو لوگ بے عملى كا شكار ہوتے ہيں وہ دين اور دينى احكام كا ذكر آنے پر کسی آسانی کی تلاش میں رہتے ہيں اور كسى ايسى پناہ كى تلاش ميں ہوتے ہيں جو اس احساس سے ان كى جان چھڑا دے۔۔ ايسے ميں يہ نام نہاد سكالرز ان  كے كام آتے ہيں اور
خود بدلتے نہيں قرآں كو بدل ديتے ہيں
دین اور اہل ِ دین سے دوری کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ نفس اور شیطان انسان پر حاوی ہوکر اسے خواہش پرست اور آزادی پسند بنادیتے ہیں۔ ایسا انسان جس چیز کو اپنی غرض، خواہش اور مشن کے لئے سد ِ راہ اور رکاوٹ خیال کرتا ہے، غلط تاویلات اور فاسد خیالات کے ذریعہ اس کا انکار کردیتا ہے۔
جن لوگوں نے اپنے عزائم اور فاسد نظریات کی ترویج میں احادیث کو رکاوٹ گردانا ، انہوں نے حجیت حدیث کا انکارکیا

 قرآن پاک میں واضح ارشاد ہے کہ:
وما اٰتٰکم الرسول فاخذوہ ومانہٰکم عنہ فانتھوا (اعشر آیت 59، ع 7)
ترجمہ: ’’ رسول جو کچھ تمہیں دیں، اس کو لے لو، اور جس چیز سے روکیں اس سے باز رہو۔‘‘
غامدی صاحب نہ صرف منکر ِحدیث ہیں بلکہ اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب کے علمبردار ہیں ۔  یہ صاحب  اپنی چرب زبانی کے ذریعے اس فتنے کو ہوا دے رہے ہیں ۔ اُن کو الیکٹرانک میڈیاکی توجہ و سرپرستی حاصل ہے۔
غامدی صاحب کے منکر ِحدیث ہونے کے کئی وجوہات ہیں ۔ وہ اپنے من گھڑت اُصولِ حدیث رکھتے ہیں ۔ حدیث و سنت کی اصطلاحات کی معنوی تحریف کرتے ہیں اورہزاروں اَحادیث ِصحیحہ کی حجیت کا انکار کرتے ہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ نسل اور عوام کی ایک بڑی تعداد پہلے ہاتھ ہی یہ کہہ دیتی ہے کہ احادیث میں تو تضاد ہے۔یہی وہ پہلا خفیہ پینترا ہے جس کے ذریعے پھر بڑی چابک دستی کے ساتھ انکار حدیث کی راہ ہموار ہوجاتی ہے ۔ اب ہم ذیل میں موصوف کے گمراہ کن اور امت مسلمہ سے الگ باطل نظریات  آپ حضرات کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کو غامدی صاحب کی گمراہی کا اندازہ ہو۔
غامدی صاحب کے نظریات باطلہ و عقائد فاسدہ۔
۱ : قرآن کی صرف ایک ہی قرأت درست ہے، باقی سب قرائتیں عجم کا فتنہ ہیں۔ ( میزان ص ۲۵ ، ۲۶ ، ۳۲ طبع دوم اپریل ۲۰۰۲ )
۲ : سنت قرآن سے مقدم ہے ۔ (میزان ص ۵۲ ، طبع دوم اپریل ۲۰۰۲ )
۳ : حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا ۔ ( میزان ص۶۴ طبع دوم )
۴ : نبی کریم ﷺ کی رحلت کے بعد کسسی شخص کو  کافر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ( ماہنامہ اشراق، دسمبر۲۰۰۰ ص ۵۴ ، ۵۵ )
۵ : مرتد کے لیے قتل کی سز نہیں ہے ۔ ( برہان ص  ۴۰ ، طبع چہارم)
۶ : شادی شدہ  اور کنواری ماں زانی دونوں کے لیے ایک ہی سزا سو کوڑےہیں۔( میزان ص ۲۹۹ ، ۳۰۰ طبع دوم )
۷ : شراب نوشی پر شرعی کوئی سزا نہیں ہے۔ ( برہان ص ۱۳۸ ،طبع چہارم )
۸ : سور کی کھال اور چربی وغیرہ کی تجارت اور ان کا استعمال شریعت میں ممنوع نہیں ہے۔( ماہنامہ اشراق ، اکتوبر ۱۹۹۸ ص ۷۹ )
۹ : عورت کے لیے دوپٹہ یا اوڑہنی پہننا کوئی شرعی حکم نہیں ۔ ( ماہنامہ اشراق ، مئی ۲۰۰۲ ص ۴۷ )
۱۰ : کھانے کی صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں، خون ، مردار ، سؤر کا گوشت ، غیراللہ کے نام کا ذبیحہ۔ (میزان ص ۳۱۱ طبع دوم)
۱۱ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ ( میزان حصہ اول، ص ۲۲، ۲۳، ۲۴ طبع ۱۹۸۵ )
۱۲ : جانداروں کی تصویریں بنانا بالکل جائز ہے۔( ادارہ المورد کی کتاب’’ تصویر کا مسئلہ ‘‘ )
۱۳ : موسیقی اور گانا بجانا بھی جائز ہے۔ ( ماہنامہ اشراق ، مارچ ۲۰۰۴ص ۸ ، ۱۹ )
۱۴ : عورت مردوں کی امامت کرا سکتی ہے۔ (ماہنامہ اشراق مئی ۲۰۰۵ ، ص  ۳۵ تا ۴۶ )
۱۵ : اسلام میں جہاد و قتال کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔ ( میزان ص ۲۶۴ ،، بطع دوم اپریل ۲۰۰۲)
۱۶ : کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور نفتوح کافروں سے جزیہ لینا جائز نہیں۔  ( میزان ص ۲۷۰ )
یہ چند باطل نظریات ہیں جو آپ کے سامنے پیش کیے ہیں ان کے علاوہ ایک لمبی فہرست ہے جس میں موصوف نے پوری امت سے ہٹ کر ایک الگ راہ قائم کی ہوئی ہے۔
آخر میں ہم خداوند قدوس کی بارگاہ میں دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں تادم مرگ ایمان کامل کے ساتھ رکھے،ہدایت کو ہمارا مقدر بنائے، سرکشوں، بدمذہبوں کی صحبتوں اور ان کے وار، مکرو  فریب سے ہمیشہ بچائے رکھے۔ اگر ہدایت ان کا مقدر ہے تو جلد انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرمادے ورنہ انہیں ان کے انجام بد تک پہنچائے۔آمین۔

اہلِ کتاب کا کفر



محمدمبشربدر
بعض تاریک خیال کج فہم لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اہل کتاب جنہوں نے حضرت محمد علی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا وہ بھی بہشت میں جائیں گے، انہیں کافر نہیں کہا جاسکتا ،اور اس باطل نظریئے کی ہر فورم پر تشہیر کرکے سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلاتے ہیں ۔ دلیل میں وہ سورہ آل عمران اور سورۂ  مائدہ کی آیات پیش کرتے ہیں جن کا ہم الگ الگ تفصیلی جواب دیں گے۔ پہلی دلیل سورۂ آل عمران کی درج ذیل آیت پیش کرتے ہیں۔

لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ (۱۱۳) يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (۱۱۴)

اس آیت مبارکہ میں اہل کتاب کے ایک ایسے گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو راتوں کو اٹھ کر  اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں  ، سجدہ  کرتے ہیں ، اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں  ، نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرتے ہیں  اور نیکی میں ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہیں ، آخر میں ایسے اوصاف کے حامل اہلِ کتاب جو صالحین میں شمار کیا گیا ہے کہ یہی لوگ نیکو کار ہیں ۔اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ، دلیل اسی آیت میں ہے کہ وہ اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں ، اب آیات سے کیا مراد ہے؟؟ قرآن کی آیات مراد ہیں کیوں کہ توراۃ کو وہ ویسے ہی تبدیل کرچکے تھے۔ دلیل یہ ہے کہ سورۂ آل عمران کے آخر میں ان اہلِ کتاب کی تعریف بیان کی گئی ہے جو تورات کے ساتھ قرآن پر بھی ایمان لے آئے اور آقا علیہ السلام پر جو احکامات نازل ہوئے انہیں صدقِ دل سے مانا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۱۹۹)

یعنی : ’’ اور بے شک اہلِ کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے آگے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب پر بھی جو تم پر نازل کی گئی ہےاور اس پر بھی جو ان پر نازل کی گئی تھی ، اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت لے کر بیچ نہیں ڈالتے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بیشک اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔‘‘

دوسری دلیل مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر ہے جسے علامہ طبری نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے:

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ يَتْلُونَ آياتِ اللَّهِ آناءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ" مَنْ آمَنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

یعنی ’’ اللہ تعالی کے اس قول سے مراد وہ اہل کتاب ہیں ’’ مَنْ آمَنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.‘‘ جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔اس روایت سے ان کا  من پسند استدلال باطل ہوگیا۔اسی طرح اس آیۃ کے شان نزول میں ایک اور روایت کتب تفسیر میں موجود ہے:

وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، وَثَعْلَبَةُ بْنُ سَعْيَةَ ، وَأُسَيْدُ بْنُ سُعَيَّةَ، وَأُسَيْدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ يَهُودَ، فَآمَنُوا وَصَدَّقُوا وَرَغِبُوا فِي الْإِسْلَامِ وَرَسَخُوا فِيهِ، قَالَتْ أَحْبَارُ يَهُودَ وَأَهْلُ الْكُفْرِ مِنْهُمْ: مَا آمَنَ بِمُحَمَّدٍ وَلَا تَبِعَهُ إِلَّا شِرَارُنَا، وَلَوْ كَانُوا مِنْ خِيَارِنَا مَا تَرَكُوا دِينَ آبَائِهِمْ وَذَهَبُوا إِلَى غَيْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ:" لَيْسُوا سَواءً مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ يَتْلُونَ آياتِ اللَّهِ آناءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ. إِلَى قَوْلِهِ:" وَأُولئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ"

مفسر قرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جب یہود کے علماء یعنی عبداللہ بن سلام ، ثعلبہ بن سعیہ، اسید بن عبید اور یہود کے دیگر لوگ ایمان لا کر مسلمان ہو گئے ، انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کی ، اسلام میں رغبت کی اور اس میں راسخ ہوگئے تب یہودیوں کے علماء اور اہل کفر نے کہا :

"محمد ﷺ پر یہود میں سے صرف وہ لوگ ایمان لائے ہیں جو ہم میں شریر ہیں اور اگر وہ ہم میں بہترین اور عمدہ ہوتے تو اپنے آباء کا دین چھوڑ کر غیر کی طرف نہ جاتے۔ پس اسی وقت اللہ نے ان کی اس بات کی وجہ سے یہ آیات نازل فرمائیں جن میں اہل کتاب میں سے اہل ایمان کے محاسن بیان کیے۔

دوسری دلیل سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۶۹پیش کرتے ہیں ۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَى مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (۶۹)
یعنی: ’’حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی ، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا صابی یا نصرانی ، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا ، نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہونگے۔‘‘

اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں صرف اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ اعمالِ صالحہ کا ذکر ہے جس کی بنا پر انہیں آخرت میں خوف و غم سے آزادی کا پروانہ دیا جارہا ہے۔ معلوم ہوا کہ اہل کتاب محض انکارِ رسول کی بنا پر  کافر نہیں ۔

اس کا جواب علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے تفسیر ابن کثیر میں دیا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔
وَالْمَقْصُودُ أَنَّ كُلَّ فِرْقَةٍ آمنت بالله واليوم الآخر وهو الميعاد وَالْجَزَاءُ يَوْمُ الدِّينِ، وَعَمِلَتْ عَمَلًا صَالِحًا، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ مُوَافِقًا لِلشَّرِيعَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ بَعْدَ إِرْسَالِ صَاحِبِهَا الْمَبْعُوثِ إِلَى جَمِيعِ الثَّقَلَيْنِ فَمَنِ اتَّصَفَ بِذَلِكَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَهُ، وَلَا عَلَى مَا تَرَكُوا وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ، وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ، (تفسیر ابن کثیر ج، ۳ / ص،۱۱۴)

’’ اور آیت سے مقصود یہ ہے کہ ہر وہ فرقہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے ، اور اس نے نیک اعمال کیے تو اس کا حکم اس طرح نہیں (جیسے ظاہری آیت سے سمجھا جارہا ہے) یہاں تک کہ وہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے موافق نہ ہوجائے اس  کے صاحب کے تمام جن و انس کی طرف رسول بنا کر بھیجے جانے کے بعد۔پس جو اس وصف کے ساتھ متصف ہوگیا اس پر مستقبل میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی گزشتہ زمانے کے اعمال پر کوئی غم۔‘‘

          ان دلائل سے واضح ہوگیا کہ تب  تک خلاصی نہیں جب تک حضرت محمد ﷺ پر ایمان لاکر ان کی اتباع نہ کرلی جائے ، خواہ وہ اسلام کے کتنےہی  احکامات  کا اقرار کیوں نہ کرتا ہو ، ایمان کا مدار آقا علیہ السلام کی ذات اقدس ہے۔جن پر شریعت اسلامیہ نازل کی گئی۔ جب کہ اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ نے اپنے ادیان میں تحریف کی تورات و انجیل کو بدل دیا، ، توحید کو چھوڑ کر شرک کا کھلا ارتکاب کیا ،حق کی ناحق مخالفت کی ،  اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انبیاء کرام علیہم السلام کاقتلِ  ناحق کیا۔

 اب اگر کوئی شخص یہ یہود و نصاریٰ کے بارے یہ موقف اختیار کرے کہ ان میں سے جن تک دعوت اسلام نہیں پہنچی اور انہوں نے بالقصد جان بوجھ کر اسلام کا انکار نہیں کیا وہ کافر نہیں کہلائے جاسکتے بلکہ انہیں مسلمانوں میں شمار کیا جانا چاہیے، یہ نظریہ باطل اور غلط ہے ، کیوں کہ یہود تو اسی روز ہی کافر ہوگئے تھے جب انہوں نے تورات میں تحریف کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا اور  انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جب کہ نصاریٰ عقیدۂ تثلیث  ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنانے اور تحریف انجیل  کی بنا پر کافر قرار دیئے گئے لہٰذا انکارِ مصطفیٰ  ﷺکی بنا پر ان کے کفر میں زیادتی ہوئی ہے ، پھر اس کے مقابلے میں یہ قول کہاں وقعت رکھتا ہے کہ اہلِ کتاب کے نادانست اسلام کا انکار کرنے والے لوگ کافر نہیں جب کہ انہیں ہدایت کی دعوت دینے کے لیے اللہ کا کلام قرآن مقدس اپنے معجزانہ اسلوب و اثر کی وجہ سے بند دلوں کے قفل کھولنے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کوئی ہدایت کا طالب بنے۔اس رو سے موجودہ اہل کتاب کافر اور جہنمی ٹھہرتے ہیں.باقی بے شمار دلائل طوالت کے ڈر سے ترک کرتا ہوں۔ اپنے من پسند کے مطلب سے کام نہیں چلے گا۔اللہ نے صاف فرمادیا : ’’اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے پس جو اسلام کو چھوڑ کر اور دین لایا اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔۔ اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ (آل عمران:آیت ۸۵ )

اس آیت میں کسی قسم کی کوئی تخصیص نہیں کہ جان بوجھ کر انکار کرے یا بلاجانے اسلام کا انکار کرے ، قیامت کے دن اس کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اسلام کی آفاقی سچائی کے مناظراورحقائق دیکھ کرمسلمان نہ ہوجائے۔اب جویہودونصاریٰ اپنےآباءکی پیروی کریں گےان کا حشر انہی جیسا ہوگا وہ بھی ان کی پیروی میں کافر رہیں گے اگر ایمان نہ لائے تو ہمیشہ کی جہنم میں جلیں گے۔

اللہ اہل کتاب کے بارے فرماتا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا (۱۵۰) أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا (۱۵۱) المائدہ ۔


یعنی: " بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا اور کہنے لگے ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں.یہی لوگ پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ہمارا ناقص نظامِ تعلیم

     محمدمبشربدر
تعلیم کا انسان کی تربیت و سوچ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔انسان کو  جس قسم کی تعلیم دی جاتی ہے  ویسے اثرات اس پر مرتب ہوتے ہیں اور ویسی ہی تربیت کا ظہور ہوتا ہے۔ صدیوں سے انسان میں تہذیب و شعور کی شمع فروزاں کرنے کے لیے مختلف طریقہائے تعلیم وضع کیے جاتے رہے ہیں ۔ اسلام نے آکر تعلیم کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کیا ، حتیٰ کہ پہلی وحی تعلیم و تعلم سے متعلق ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے بھی علم کے حصول پر زور دیا ہےاور ہر مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا، خود اپنے بارے آقاﷺ نے فرمایا:  ’’ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘انسان اس وقت تک انسانیت کی معراج کو نہیں پہنچ سکتا جب تک تعلیم یافتہ نہ ہو جائے۔ تعلیم زندگی کے لیے ہی نہیں بلکہ خود زندگی ہے، آج اکیسویں صدی میں تعلیم کی اہمیت کو پہلےسے زیادہ محسوس کیا جارہا ہے۔ نہ صرف یہ معاشرتی بلکہ سب سے زیادہ  اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔
پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک جانا جاتا ہے۔پاکستانی قوم میں وہ تمام تر صلاحتیں موجود ہیں جو ترقی کی اوجِ ثریا تک پہنچاسکتی ہیں ، لیکن اس سب کے باوجود ہمارے ہنر مند افراد کی ایک بڑی مقدار بیرون ممالک میں اپنے فن کے جوہر دکھلارہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ناسازگار ماحول اور منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بروقت اور مناسب منصوبہ بندی کرکے پاکستان میں روزگار کے بہتر سے بہتر مواقع فراہم کرےتاکہ قابل اور ہنرمند افراد پاکستان میں ہی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔
ہمارا نظامِ تعلیمی اتنا ناقص اور ناکارہ ہے کہ ہنر مند افراد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جس کی بنا پر ہمارے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ہمارے نظامِ تعلیم کی ناقص کارکردگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم ایک آزاد ملک میں رہ کر بھی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن اس کے باوجود تعلیمی نظام میں اسلام کو محض ایک مضمون کی حیثیت دے رکھی ہے، جب کہ اسلام ایک مکمل آئین اور ضابطۂ حیات ہے۔ یہ انسانی زندگی کے تمام گوشوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ کوئی شعبۂ زندگی بھی مذہب سے مستغنی نہیں ہے ،  اس کے باوجود  اعلیٰ سطح پر اسلام کی ہمہ گیری اور انصاف پسندی کو تسلیم نہیں کیا جارہا۔
ہمارے تعلیمی نظام کی ناقص کارکردگی کی ایک وجہ طبقاتی نظام کی کشمکش بھی ہے ۔طلبا میں تحقیق و جستجو ، صحیح فکر و سوچ ناپید ہوتے جارہے ہیں، اساتذہ کی کمی اور ذہنی جمود کے علاوہ تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان ہے۔ طوطے کی طرح چند الفاظ رٹوادیئے جاتے ہیں اور عملی زندگی میں وہ اعلیٰ و عمدہ صفات ناپید ہوتی ہیں جن کی معاشرے کو اہم ضرورت ہے۔؎
 کورس تو الفاظ سکھاتے ہیں                                    آدمی آدمی بناتے ہیں
          ایک بڑا مسئلہ جو ہمارے تعلیمی اداروں کو درپیش ہے وہ پرائمری سطح پر اساتذہ کی اپنے فرائضِ منصبی میں غفلت ہے، دور دراز پسماندہ دیہی علاقوں میں اس چیز کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ سکولوں کی خستہ اور شکستہ عمارتیں جو اپنی بوسیدگی پر نوحہ کناں ہیں ، ان کی تعمیرِ نو کی طرف مسلسل عدمِ توجہی برتی جارہی ہے۔تعلیم کو ایک کاروبار بنا لیا گیا ہے ، گلی گلی سکولوں اور اکیڈمیوں کی بھرمار ہے ، جس کی وجہ سے تعلیم کا معیار گھٹتا جارہا ہے۔
          ایک بنیادی اہم مسئلہ ہمارا مغربیت سے متاثر ہونا اور ان کے نظام کو بند آنکھوں قبول کرنا ہے ، جس کی وجہ سے انگریزی زبان کو لازم کیا جارہا ہے۔ یہاں دوہرے معیار کی تعلیم دی جارہی ہے :انگلش میڈیم اور اردو میڈیم ، جب کہ آہستہ آہستہ تمام تعلیمی اداروں کو انگلش میڈیم بنایا جارہا ہے، حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ انسان جو بات اپنی مادری زبان میں جلد سمجھ پاتا ہے وہ دوسری زبانوں میں نہیں سمجھ پاتا، ہمارے لیے یہ بہت بڑی کنفیوژن پیدا کردی گئی ہے، ایک تو سائنس کے ذیلی مضامین جن کو اردو میں سمجھنا اور ان کے فارمولوں اور کلیوں کو یاد کرنا بذاتِ خود جان گسل کام ہے،  دوسرا اسے انگلش میں پڑہانے سے وہ مزید پیچیدہ اور مشکل صورت اختیار کرلیتے ہیں۔
ہمارے لیے چین ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جس نے نہ صرف اپنے تعلیمی اداروں میں سب مضامین چینی زبان میں لاگو کیے ہیں بلکہ انگریزی کو بھی پاس نہیں بھٹکنے دیا، اس کے باوجود وہ معیشت میں بہت آگے ہے اور عالمی سطح پر اپنی برتری کا لوہا منوا چکا ہے۔ہماری ناکامی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم آزاد ہوکر بھی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں اسی لیے ہم تعلیم سے لے کر معیشت تک سب میدانوں میں سب سے پیچھے ہیں ، جب کہ دیگر ترقی یافتہ اقوام کسی کی ذہنی غلامی اور مرعوبیت تیاگ کر اپنی مادری زبان میں اپنا نام و مقام پیدا کرتی ہیں۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، چاہیے تو یہ تھا کہ یہاں کے سرکاری تعلیمی اداروں قرآن و سنت کو بطورِ نصاب پڑہایا جاتا ، جب کہ الٹا رہے سہے اسلامی مضامین کو ہی نکالا دیا جارہا ہے۔تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ انسان اللہ کی بنائی ہوئی  مخلوق ہے ، جسے اللہ نے اشرف المخلوقات بنا کر کائنات میں  بھیجا ہے، اسی نے ہی اس کی دنیوی و اخروی زندگی کی فلاح کے لیے  آسمانی علوم نازل فرمائے ہیں ، تاکہ ان علوم کی روشنی میں یہ اپنی حیات کا مقصد جان لے اور اپنے خالق کو پہچان کر اس کی اطاعت بجالائے ، اسی وجہ سے اہلِ ایمان کے نزدیک سب سے بنیادی اور ضروری علم وہ ہے جسے خالقِ کائنات نے انسانیت کے لیے آسمان سے نازل فرمایا، جو اس وقت قرآن و سنت کی صورت میں ہم میں موجود ہے۔یہ اصل علم ہے جو انسانوں کو انسانیت سکھاتا ہے۔انسان کی تربیت کرتا اور اس کے باطن کو  سنوارتا ہے، لیکن اس سے غفلت برتی جارہی ہے ۔ مادیت کی دوڑ میں مغربیت کی نقالی کی جارہی ہے۔پھر امتِ مسلمہ کا درد رکھنے والے نیک دل مشرقی روایات کے حامل افراد کیوں کر پیدا ہوں۔

ہمیں اپنی غلطیاں ڈہونڈھ کر ان کی اصلاح کرنی چاہیے، اپنی بنیاداور اصل کے ساتھ تعلق و ربط جوڑنا چاہیے، تاکہ ہمیں اپنے شاندار ماضی کو لوٹا سکیں ۔

بدھ، 9 دسمبر، 2015

کیا مذہب اور سائنس میں ٹکراؤ ہے؟

محمدمبشربدر

زمانہ کے تغیر کے ساتھ دنیا بھی ترقی کرتے کرتے آج ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جسے ٹیکنالوجی اور جدید سائنس کا دور کہا جاتا ہے ۔ نت نئی ایجادات نے انسانی عقلوں کو حیرت  میں ڈال دیا ہے ۔ ایسی ایسی چیزیں وجود میں آگئی ہیں جن کا پچھلے ادوار میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔  بھلا کس نے سوچا تھا کہ انسان بھی ہوا میں اڑے گا، برق رفتاری سے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں چند ساعتوں کے اندر  پُر سکون سفر کر لے گا ،  مصنوعی ٹھنڈک پیدا کرکے اشیائے خوردو نوش کو دیر پا محفوظ رکھ سکے گا ، کپڑوں کی بنائی سے لے کر برتنوں کی صناعت تک کے لیے مشینوں سے خدمت لی  جائے گی ، گھروں میں لکڑیاں  جلانے کی مشقت کے  بجائے گیس سے کھانا پکایا جائے گا  ،  بجلی کی توانائی سے بڑے بڑے کام لیے جائیں گے اور  علاج معالجے کے لیے اعلی ادویات و جراحی کے آلات وجود میں آجائیں گے۔

بلاشبہ ان ایجادات کے پیچھے انسانی سہولت کار فرما تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کو مشقت سے بچاکرآسانی فراہم کی جائے ،جس کا سہراانسانی عقل کے سر بندھتا ہے ،  جواللہ رب العزت نے انسان کو ودیعت  فرمائی اوراشیاء میں خواص پیدا فرماکر انسانی عقل کی اس طرف رہنمائی فرمائی ، تاکہ وہ اشیاء کے خواص کو ڈھونڈ کر انہیں اپنے استعمال کے لیے کار آمد بنائیں۔ لیکن سائنس دانوں نے جتنا زندگی کوتیز  ، پرتعیش اور آرام دہ بنانے کی کوشش کی وہ اتنا ہی پزمردہ اور مضمحل ہوتی چلی گئی ۔ وہ بند کمروں میں بیٹھ کر جتنا انسانیت کی بھلائی اور سہولت کو سوچ کر نت نئی ایجادات کے لیے تجربے کرتے گئے اتنا انسانی روح بے چینی و بے قراری کی طرف سفر کرتی چلی گئی ۔لوگ اس کی وجہ دریافت کرتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟۔اس کی بنیادی وجہ  ہمارا          مادہ پرستانہ نظریۂ حیات ہے ، جس نے جسمِ انسانی کو تو  راحت بخش اسباب فراہم کر دیئے لیکن روح کی تشنگی کو سیراب کرنے سے قاصر رہا۔ انسان مادیت کی دلدل میں پھنس کر روح کی آسودگی کو ترس رہا ہے ۔روح کی آسودگی کے بغیر سب کچھ ہونے کے باوجود انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے ۔

اگر ہم روح کی اس بے قراری و بے چینی کا علاج ڈھونڈیں تو لامحالہ اس کا مداوا سوائے مذہب کے اور کسی کے پاس نہیں ۔ ایک مذہب ہی ہے جو انسان کی روح کو وہ سرور و اطمینان دے سکتا ہے جو دولت و اسباب کے انبار نہیں دے سکتے ۔انسان کی موجودہ ذہنی و روحانی کشمکش کی بنیادی وجہ خود غرضی ہے جو مادیت پرستی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ فرانس کا ملحد فلسفی رینان Renon اپنی ایک کتاب 'The History of Religions' میں خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ ’’مادیت ایک فریب اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا ہمیں لا محالہ مذہب کی اہمیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔‘‘

انسانی روح مذہب کا تقاضہ کرتی ہے جسے مادیت کے مقابلے میں روحانیت سے تعبیر کیا جاتا ہے ، کیوں کہ سائنسی ایجادات اور مادی اسباب انسان کی روح کی تشنگی دور نہیں کرسکتے ۔روح کا بے قرار ہونا مذہب کی سب سے وزنی اور ٹھوس دلیل ہے۔انسان مادی اعتبار سے خواہ کتنا ہی ترقی کرجائے اس کا روحانی وجود اس سے سکونِ قلب کی طلب پیدا کرکے اسے اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے ۔ سائنس انسان کی مادی زندگی کو پرسکون بناتی ہے جو کائنات کی اشیاء میں غور و فکر کر کے اسے انسانی مفاد کے لیے بروئے کار لانے کا نام ہے ، سائنس بول کر آپ سائنسی ایجادات بھی مراد لے سکتے ہیں ، لیکن سائنس بذاتِ خود ایک فکر کا نام ہے، جو گزشتہ زمانے میں حاصل ہونے والی اپنی ابتدائی  ترقی و کامیابیوں  کے زعم میں چند داخلی و خارجی امور کے سبب مذہب و تصورِ خدا سے ٹکرا گئی تھی ۔لیکن اب ہر سطح پر یہ بات مسلم ہوچکی ہے کہ مذہب اور سائنس کا الگ الگ میدان ہے ، یہ آپس میں متعارض و متصادم نہیں ہیں ۔

سائنس کا مذہبی امور میں کوئی دخل نہیں ہے جب کہ مذہب کا سائنسی معاملات  میں تعمیری اور مثبت دخل ضرور ہے ۔جو عرصہ دراز  کےمسلسل تجربوں اور مشاہدوں سے ثابت ہوچکا ہے ۔لہٰذا دونوں میں ٹکراؤ اور تصادم کی کیفیت کا پیدا ہوجانا ناممکن ہے ، چنانچہ فیلڈ مارشل سمٹس ۔ فلسفہ کی بلند پایہ کتاب ہولزم (Holism) کا مصنف کہتا ہے : ’’ صداقت کی مخلصانہ جستجو اور نظم و حسن کے ذوق کے اعتبار سے سائنس مذہب اور فن کے اوصاف سےحصہ لیتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ شاید سائنس ہمارے اس عہد کے لیے خدا کی ہستی کی واضح ترین نقاب کشائی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ نوعِ انسانی کو جو کارہائے نمایاں سرانجام دینے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہوگا کہ وہ سائنس کو اخلاقی قدروں کے ساتھ ملحق کرے گی اور اس طرح سے اس بڑے خطرے کا ازالہ کرے گی جو ہمارے مستقبل کو درپیش ہے‘‘۔ 

سائنس کے نظریات ظنی ہوتے ہیں ، ان کو یقین کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ، چونکہ ان کا وجود مشاہدات اور تجربات کی بنا  پر ہوتا ہے اس لیے یہ آئے روز بدلتے رہتے ہیں،جب کہ مذہبی نظریات قطعی ہوتے ہیں جن میں تبدیلی کا امکان نہیں ہوتا ، اس لیے سائنس سے مذہب کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔کیوں کہ ایک ظنی اور تبدیل ہونے والی چیز ایک قطعی اور مستقل چیز کے ثبوت کے لیے  دلیل نہیں بن سکتی ، بالفرض  اگر ہم آج سائنس کو مذہب کی دلیل بنا لیں لیکن جب کل کو سائنس کا نظریہ تبدیل ہوگا تواس سے مذہب کے اس نظریئے  کا غلط ہونا لازم آجائے گا جسے کل تک ہم مستقل اور غیر مبدل مان رہے تھے ۔


مذہب ( اگر یہاں مذہب کے بجائے قرآن کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے ) خدا کا نازل کردہ ہوتا ہے ، جسے خدا انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تشکیل دیتا ہے اس لیے اس کے نظریات میں تبدیلی ممکن نہیں جب کہ سائنسی نظریات انسانوں کے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں وجود پاتے ہیں۔ اس لیے یہ بدلتے رہتے ہیں۔سائنس کے نظریات اور مفروضات حتمی نہیں ہوتے  بلکہ علم کی ترقی کے ساتھ  ان میں ترمیم و اضافہ یاان کے بالکل بدل جانے کا امکان موجود رہتا ہے۔سائنس کے سامنے جب کسی مسئلے پر کافی مواد جمع ہوجاتا ہے اور اس سے کسی حقیقت تک پہنچنے کا گماں ہوتا ہے تو قیاس یا مفروضہ جنم لیتا ہے ۔ پھر جب بہت سے سائنسدان اس پر بہت سے ثبوت دیکھ کر اسے تسلیم کرلیتے ہیں تو اسے تھیوری کا نام دیا جاتا ہے۔ پھر جب طویل عرصے  تک اس کے ثبوت دنیا میں پہنچتے رہتے ہیں اور اکثر سائنسدان اس سے اتفاق کرلیتے ہیں تو اسے قانون کا درجہ دیا جاتا ہے۔ پھر یہ قانون اس درجے کا نہیں ہوتا جسے حتمی کہا جاسکے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کےامکان کو مسترد کردیا جائے ، بلکہ بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ ایک قانون کو بعد کی تھیوری نے بدل کر رکھ دیا ۔ لہٰذا ایک مسلمان کے شایان نہیں کہ وہ قرآن کے یقینی نصوص کو انسان کے غیر یقینی نظریات پر محمول کرے۔

دینی مدارس کے انوار سے جگمگاتا برِّ صغیر


محمد مبشر بدر
مدارسِ اسلامیہ کو اسلام کے قلعے کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ اسلامی تعلیمات نسل در نسل منتقل کرنے کے اہم مراکز ہیں، انہی مدارس کے ذریعے اسلام کا شجر ِسایہ دار اپنی تمام تر شاخوں سمیت سرسبز و شاداب رہتا ہے، انہیں مدارس سے عقائد ، عبادات،معاملات، اخلاقیات اور معاشرت کا علم حاصل ہوتا ہے، مدارس امن کے گہوارے اور معاشرتی بگاڑ کو دور کرنے کا اہم اور مؤثر ذریعہ ہیں ۔روئے زمیں پر مدارسِ اسلامیہ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلام کی تاریخ ، اپنی اصل میں مدرسہ کسی عمارت اور بلڈنگ کا نام نہیں بلکہ ایک استاذ اور شاگرد کے وجود کا نام   ہے، جہاں استاذ و شاگرد تعلیمِ دین کے لیے مل بیٹھیں وہی جگہ مدرسہ کہلاتی ہے۔
اس مضمون میں انگریزی قبضے سے قبل برصغیر کی قدیم دینی درسگاہوں سے متعلق اجمالاً اہم معلومات فراہم کی جائیں گی ، تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ جہاں عالمِ اسلام کے دیگر ممالک میں اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے مدارس کا ایک اہم سلسلہ شروع کیا گیا وہاں برِّ صغیر بھی اس حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں رہا۔یہاں بھی بڑے بڑے اور مشہور مدارس کی داغ بیل ڈالی گئی جو ایک عرصہ تک  لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے سیراب کرتے رہے۔ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے مدارس کی تاریخ پر کوئی ٹھوس معلومات منضبط نہیں کی گئیں، بلکہ قدیم تاریخِ ہند میں زیادہ تر بادشاہوں کی سوانح عمریاں ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ ان کی فتوحات ، ملکی و جنگی کارنامے جو اس زمانہ کے سب سے زیادہ قابلِ توجّہ واقعات تھے تفصیل و بسط کے ساتھ مذکور ہوتے ہیں۔اس بنا پر اوراقِ تاریخ بھی جنگی صفحات بن گئے جہاں شمشیر و سناں کے شورمیں درس و تعلیم کی کمزور آوازیں دب کر رہ گئیں۔
قدیم زمانہ میں درس و تعلیم کے لیے الگ سے مستقل عمارتیں نہیں تھیں بلکہ اس کام کے لیے زیادہ تر مساجد سے کام لیا جاتا تھا جہاں باقاعدہ کلاسیں لگائی جاتیں اور لوگ ان مبارک حلقوں میں حصولِ تعلیم کے لیے شرکت کرتے تھے۔اسی وجہ سے آپ ہند کی قدیم مساجد میں دیکھیں گے جہاں صحن مسجد کے ارد گرد کمروں کی قطاریں آج بھی نظر آئیں گی،یہ دراصل طلباء کے درس و قیام کے لیے تعمیر کیے جاتے تھے ،جہاں دور دراز سے آئے مسافر طلباء قیام کرتے تھے۔ہندوستان کے قدیم اسلامی شہروں میں قدم قدم پر آپ کو وسیع و شاندار مساجد ملیں گی ، دلی، آگرہ ، لاہور ،ملتان ، گجرات، احمد آباد، جونپور، حیدرآباد دکن وغیرہ قدیم اسلامی دارالسلطنتوں میں جو عظیم مساجد تعمیر ہوئیں تھیں، جو اب تک باقی ہیں ان کی موجودہ صورت و ہیئت دیکھ کر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان کا اکثر حصہ تعلیمِ دین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
قدیم خانقاہیں بھی عموماً تعلیم و تربیت کا اہم مرکز سمجھی جاتی تھیں ، جہاں صرف مجاہدۂ نفس و وظائف کو ہی عبادت نہیں سمجھاجاتا تھا ، بلکہ تزکیۂ نفوس کی تعلیم دی جاتی اور احکاماتِ شریعت پر عمل پیرا ہونے کابھی  درس دیا جاتاتھا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کاداخلہ پہلی صدی ہجری میں ہوگیا تھا لیکن اس کا اثر پورے ہند پر نہیں تھا، بلکہ ہند کے بعض اطراف میں اسلام کی کرنیں ضرور جگمگانے لگیں۔صحیح معنیٰ میں اسلامی حکومت کے قدم  ۳۹۰ ؁ھ میں سلطان محمود غزنوی کی مجاہدانہ جدّوجہد کی بدولت جمے، سلطان محمود علم دوست اور علماء کا قدر دان بادشاہ تھا، جس کے دربار میں علماء ، ادباء ، حکماء اور شعراء کا ہجوم رہتا، اسے اپنے حدودِ حکومت میں مدارس قائم کرنے کا بے حد شوق تھا، چنانچہ تاریخِ فرشتہ میں لکھا  ہے کہ  ۴۰۹؁ھ میں سلطان محمود غزنوی فتحِ قنوج کے بعد غزنی تشریف لائے اور وہاں جامع مسجد و مدرسہ کی بنیاد رکھی۔
خود اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس بادشاہ کا یہ عالم ہو اس کی رعایا میں اس کے ذوق کا کس قدر اثر ہوگا ،چنانچہ عربی  کتب میں یہ مقولہ درج ہے ’’الناس علیٰ دین ملوکہم ‘‘ یعنی لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں ۔اسی ذوق کا ہی اثر تھا کہ ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کا جال پھیل گیاجس کو قاسم فرشتہؒ نے تاریخ میں بیان کیا ہے جس سے یہی بات مستفاد ہوتی ہے کہ  ہندوستان میں مدارس دینیہ کا قیام محمود غزنوی اور ان کے امراء کے توسّط سے داخل ہوا پھر تدریجاً سارے ملک میں مروج ہوگیااور ہندوستان سے باہر بھی یہی نظام رائج تھا۔
سلطان کے بعد زمامِ حکومت ان کے بیٹے  شہاب الدین مسعود کے ہاتھ میں آئی ، جو علم پرور شخص تھا جس نے علم کی ترویج کے لیے اپنی سلطنت میں بہت زیادہ مساجد و مدارس تعمیر کروائے۔چنانچہ ان سے متعلق فرشتہ لکھتا ہے کہ:
’’ انہوں نے اپنے مقبوضہ ممالک میں اپنی سلطنت کے اوائل میں اتنے مساجد و مدارس کی بنیاد ڈالی کہ زبان ان کے شمار سے عاجز اور قاصر ہے۔‘‘
اس کے بعد جب حکومت ِہند خاندانِ غوری میں منتقل ہوئی تو مصنف تاج المآثر کے بیان کے مطابق سلطان شہاب الدین غوری نے  ۵۸۷؁ھ میں اجمیر فتح کیا جہاں انہوں نے  متعدد مدارس قائم کیے جو ہندوستان کے قدیم ترین مدارس میں شمار ہوتے ہیں۔۶۰۷؁ھ میں جب شمس الدین التمش تخت نشین ہوا تو اس نے بھی دہلی میں متعدد مدارس تعمیر کروائے جسے قطب الدین ایبک نے لاہور کے بعد ہندوستان کا دارالسلطنت قرار دے دیا تھا  ، قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی کا مشہور و معروف مدرسہ ٔ معزّیٰ اسی عہد کی یادگار ہے، جس کے مدرس مولانا بدرالدین اسحاق بخاری تھے جو علومِ عقلیہ و نقلیہ میں اپنے وقت کے  ماہر سمجھے جاتے تھے۔
اسی عہد میں دہلی میں ایک اور مشہور و کبیر مدرسہ کا پتہ چلتا ہے ، جو مدرسۂ ناصریہ کے نام سے موسوم تھا، جو کہ ناصر الدنیا والدّین شہزادہ محمود بن سلطان شمس الدین التمش کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔طبقاتِ ناصری کے مصنف سراج الدین عفیف اس مدرسہ کے مہتمم اور نگران تھے۔مدرسہ فیروز شاہی کے نام سے ایک اور عظیم الشان مدرسے کا تاریخ  میں ذکر ہے جو دہلی کا سب سے مشہور اور اپنے عہد کا زبردست مدرسہ تھا ، جسے فیروز شاہ نے فیروز آباد دہلی میں ۷۵۳؁ھ میں قائم کیا تھا۔ ضیاء برنی نے اس کی تعریف میں صفحات سیاہ کیے ہیں، لکھتا ہے:
’’مدرسہ اپنی شان و شوکت ، خوبیٔ عمارت و موقع اور حسن انتظام و تعلیم کے لحاظ سے تمام مدارسِ ہند میں سب سے بہتر اور عمدہ ہے ، مصارف کے لیے شاہی وظائف مقرر ہیں۔‘‘
مدرسہ سے متصل مسجد تھی، مولانا جلال الدین رومی اس میں مدرس دینیات تھے۔اس کے علاوہ دہلی میں درج ذیل مشہور اور عظیم الشان مدارس موجود تھے۔مدرسہ بالابند آب سیری ، یہ مدرسہ ایک شاہی عمارت میں واقع تھا، جس کے حسن کا کوئی عمارت مقابلہ نہیں  کرسکتی تھی۔مدرسہ خیرالمنازل جسےعہدِ اکبری میں ماہم بیگم نے ۹۶۹؁ھ میں پرانے قلعہ کے پاس مغربی دروازے کے مقابل تعمیر کرایا تھا۔ دلی کی جامع مسجد کے جنوبی رخ پر دارالبقاء کے نام سے ایک عظیم الشان مدرسہ قائم تھا ، جس کی بنیاد اندازاً ۱۰۶۰؁ھ میں رکھی گئی ۔دلی کا سب سے آخر الذکر اور مشہور مدرسہ شاہ عبدالرحیم دہلوی والدِ بزرگوار شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہما الرحمۃ کا ہے ۔اسی مدرسہ کی آغوش میں شاہ ولی اللہ ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی ، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی ، شاہ اسمٰعیل ، شاہ اسحاق ، شاہ عبدالقادر وغیرہ جید کبار اہلِ علم پڑھ کر جواں ہوئے ہیں، یہی وہ عظیم مدرسہ ہے جہاں سے پورے ہند میں حدیث کے چشمے پھیلے۔
علامہ مقریزی نے اپنی مشہور کتاب ’’ کتاب الخُطط‘‘میں لکھا ہے ۔
 ’’ چودہویں صدی عیسوی میں محمد تغلق کے دور میں صرف دہلی شہر میں ایک ہزار مدرسے تھے۔‘‘
کیپٹن ہیلیگزن ہملٹن مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرکے دور میں ۱۶۹۹؁ء میں اس خطے میں آئے تھے، انہوں نے اپنے سفرنامے میں لکھا ۔ ’’ صرف ٹھٹھہ شہر میں مختلف علوم و فنون کے چار سو مدارس تھے ۔‘‘ کیئر ہارڈی نے میکس پولر کے حوالے سے تحریر کیا ہے۔ ’’ انگریزوں کی علمداری سے قبل بنگال میں اسّی ہزار مدرسے موجود تھے، تقریباً ہر چار سو افراد کے لیے  ایک مدرسہ تھا۔ ‘‘
لاہور کی وزیر خان مسجد جو مدرسہ کام بھی دیتی تھی آج تک اپنی علمی خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہند کے مشہور شہر فتح پور کا ایک مشہور مدرسہ ابوالفضل آج بھی اپنی پوری تب و تاب کے ساتھ قائم ہے جو شاہی محل کی عمارتوں کے بالکل قریب ہے۔جہانگیر کی علم دوستی سے کون ناواقف ہے؟ جس نے ہندوستان کے قدیم خستہ و غیر آباد مدارس کو جو پرندوں اور جانوروں کا مسکن بنے ہوئے تھے طلباء  و علماء سے بھر دیا۔  امروہہ شہر کے قریب ایک مشہور مقام جو دارانگر کے نام سے موسوم ہے اس میں ایک مشہور مدرسہ مدرسہ دارانگر کہلاتا ہے، جسے نجیب الدولہ نے قائم کیا تھا ، اس جامعہ سے بہت سےطلباء نے کسبِ فیض کیا اس مدرسہ میں خصوصیت کے ساتھ فرنگی محل کے اکثر فارغ التحصیل اشخاص تدریس کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔
رامپور کے مدرسہ عالیہ  جو اب تک قائم ہے ، نواب فیض اللہ خان نے مولانا بحر العلوم کو رامپور بلا کر اس مدرسہ کا صدر مدرس بنا دیا ، ہندوستان کے مشہور عالم ملّا حسن بھی اسی  مدرسہ میں عرصہ تک مدرّس رہے۔اودھ کے مدارس  میں مدرسہ سہالی ، مدرسہ شاہ پیر محمد  کاٹیلہ اور لکھنؤکا عظیم الشان مدرسہ فرنگی محل جس کا نام درسی کتابوں میں آج بھی لکھا ہوا موجود ہے۔دکّن کے مدارس میں مدرسۂ بدر ، مدرسہ گلبرگہ مدرسہ آثار شریف ، مدرسہ بغداد (احمد نگر)، مدرسہ خاندیس ، مدرسہ دولت آباد ۔ ملتان کے مدارس میں سے مدرسہ فیروزی ، مدرسہ ملتان ایسے عظیم مدارس تعلیم دین کے لیے ہندوستان میں علم کی شمع روشن کیے ہوئے تھے۔
یہ ان چند مدارس کا مختصر تذکرہ ہے جو انگریزی تسلط سے قبل برصغیر میں علم و عرفان کے نور سے لوگوں کے سینے منور کررہے تھے۔انہی مدارس کا فیض تھا کہ یہاں تعلیم عام تھی ، لوگوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی ، جاگیر داروں نے فروغِ دین کے لیے اپنی جاگیریں مدارس کے نام الاٹ کرارکھی تھیں تاکہ مدارس پر کسی قسم کا بوجھ نہ پڑے اور تعلیم میں کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی نہ ہو۔علماء و مدرسین کے وظائف حکومت نے مقرر کررکھے تھے جس کی وجہ سے وہ فکرِ معاش سے آزاد ہو کر تعلیم و تعلّم کے فریضے کو بخوبی انجام دیتے تھے۔انہی مدارس کی برکت سے لوگوں میں دینی جذبہ و شعور پیدا ہوا اور یہاں کےعام  لوگوں کا اخلاق و کردار اعلیٰ اقدار کا حامل تھا ، جو دیگر اقوام کے لیے ایک بہترین نمونۂ عمل  تھا ، اس کا اعتراف خود یورپی مؤرخین نے کیا ہے۔ چنانچہ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں انگریز سفیر تھامس کرو یہاں آئے۔ وہ ہندوستان کی تہذیب و تمدّن کو دیکھ کر دنگ رہ گئے، انہوں نے کہا:
’’ یہاں ہر شخص میں مہمان نوازی اور خیرات کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور سب سے زیادہ یہ کہ صنفِ نازک پر زیادہ سے زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے۔ اس کی عزت ، عصمت اور عفت کا لحاظ رکھا جاتا ہے ۔ یہ ایسے اوصاف ہیں جن کے ہوتے ہوئے ہم اس قوم کو غیر مہذب اور غیر متمدّن نہیں کہہ سکتے اور ایسی صفات کی موجودگی میں ہندوستان کو یورپی اقوام سے کسی طرح کم تر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اگر ہندوستان اور انگلستان کے درمیان تہذیب و تمدّن کی تجارت کی جائے تو مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان سے تمدّن کی جو کچھ درآمد انگلستان میں ہوگی اس سے انگریزوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔‘‘

اس بیان سے اس نظریئے کی بھی نفی ہوجاتی ہے کہ برصغیر انگریز کی آمد سے قبل جہالت کی تاریکی میں  ڈوبا ہوا تھااور یہاں کوئی تعلیمی و تربیتی نظام موجود نہیں تھا۔حالانکہ یہاں کی اخلاقی و علمی اقدار پوری روئے زمیں پر نایاب تو نہیں کم یاب ضرور تھے۔

دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے ﷺ





محمد مبشربدر

انسانیت پر  قدرت کا اس سے بڑا احسان اور کیا ہوگا کہ ان کو حضرت محمد ﷺ جیسی بابرکت و پاکیزہ ہستی عطا کی ، جو رحمت و شفقت، محبت و الفت ، جود و سخا اور امن ووفا کی پیکر ہے۔ جن کے دم سے کائنات کو ثبات ہے۔ جو غریبوں اور بے کسوں کے ماویٰ و ملجأ اور بے سہاروں کے لیے سہارا ہیں ۔ بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھانے والے، غم زدوں کی دلجوئی کرنے والے، مہمان نوازی میں درِّ یتیم اور یتیموں کے سروں پر دستِ شفقت رکھنے والےہیں۔  جب بارِ رسالت آپ کے سپرد کیے جانے کا وقت آیا اور علامات وحی کا ظہور ہونا شروع ہوا تو آپ علیہ السلام غارِ حراء سے گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے اور سیدہ خدیجہ ؓ سے فرمایا:

«إِنِّي قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي» ’’ اے خدیجہ! مجھے اپنی جان جانے کا خطرہ ہے۔‘‘

یہ سن کر سیدہ خدیجہؓ بولیں:  «كَلَّا - وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتُقِرِّي الضَّيْفَ، وَتُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ».

’’ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ بخدا اللہ آپ کو کبھی خالی ہاتھ نہیں کرے گا، بلاشبہ آپ رشتہ داری کا بھرم رکھتے ہیں ، گفتگو میں سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر لیتے ہیں، مہمان نواز ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں اور مشکل حالات میں حق کا ساتھ دیتے ہیں ۔‘‘

یہ وہ پیغمبرِ برحق ہیں جن کے کمالات و محاسن کی دنیا قائل ہے ، روئے زمین پر ان جیسا اعلیٰ اخلاق کا حامل ، بردبار، شیریں سخن، نازک دہن، گل بدن ، اپنی ذات میں ایک انجمن، صاحب العفت و  الحیاء، صاحبِ جود و سخا، صاحب الرداء السوداءمحمد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ ﷺ کسی ماں نے جنا ہی نہیں ہے اور نہ ہی کسی آنکھ نے دیکھا ہے۔

شاعرِ رسول ﷺ سیدناحسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کی مدحت میں فرماتے ہیں:   ؎

وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنٌ،وَ اَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّاً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ ، کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآء

’’ آپ سے زیادہ حسین کسی آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے، اور آپ سے زیادہ خوبصورت عورتوں نے کبھی جنا ہی نہیں ہے۔ آپ کو ہر عیب سے پاک کرکے پیدا کیا گیا، گویا آپ کو ایسے پیدا کیا گیا جیسا آپ نے چاہا۔‘‘  ؎

وہ دانائے سُبُل ، ختم الرسُل ، مولائے کل جس نے        غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیٔ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر                وہی قرآں ،وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ

آپ کی حیاتِ طیبہ کا کون سا گوشہ ہے جو انسانیت کے لیے مشعل راہ نہیں ہے؟ خلّاقِ عالم نے آپ کی ایک ایک ادا کو امت کے لیے قابلِ تقلید بنادیا اور آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت کا درجہ دیا،آپ کے فیضانِ نظر سے رومی ، فارسی، حبشی ،غفاری سے لے کر بادیہ نشینان و شاہانِ عرب و عجم تک حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ایسی مقدس اور پاکیزہ ہستی کے اوصاف اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور آپ کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی قرار دیا ہے۔

یہ امت جب تک رسول اللہ ﷺ کی کامل اتباع نہیں کرلیتی، آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل پیرا نہیں لیتی تب تک کامیابی کی منازل طے نہیں کرسکتی۔ آپ کا دائرۂ نبوت قیامت تک آنے والے جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ علیہ السلام نے امت کو ایک منہج اور راستہ دیا، زندگی گزارنے  کے لیے ایک نصاب دیا جس پر آپ کے اصحاب علیہم الرضوان نے  عمل پیرا ہوکر اتباعِ رسول ﷺ کا حق ادا کردیا اور آپ کے بعد اسلام کی روشنی چہار دانگِ عالم میں پھیلانے کے لیے گھربار چھوڑ دیا  اور اپنے بعد والوں کے لیے  ایک بہترین مثالی طرزِ زندگی چھوڑ گئے۔

وہ سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی پامردی اور استقلال ہی تھا، جو صحرا کی تپتی ہوئی ریت پر ننگی پیٹھ اور سینے پر پتھر رکھے ہوئے زبانِ مجسم سے اشہد ان محمدا رسول اللہ کی گردان جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کا شبابِ وفا ہی تھا ، جو جلتے ہوئے انگاروں پر محمد رسول اللہ کا ورد جاری رکھے ہوئے تھا۔ یہ سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا کا عشقِ صادق ہی تھا کہ جسم کے دو ٹکڑے کروادیے، یہ سیدہ زنیرہ رضی اللہ عنہا کی وفاداری تھی کہ غلامیٔ رسول ﷺ کی سزا میں آنکھیں قربان کر بیٹھیں ، ذرا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا عشقِ رسول دیکھیے ، گھر کا سارا مال رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لا کر ڈھیر کردیا۔ یہ عشق مصطفیٰ ﷺ ہی تو تھا جس کی بنا پر جلتے ہوئے انگاروں اور تپتے ہوئے صحراؤں پر لیٹنا سہل ہوگیا تھا۔ آج اسی جذبے اور عشق کی ضرورت ہے ۔   ؎

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے                            دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے

امت  کی فکر میں اپنا آرام تیاگ کر راتوں کو سجدوں میں رونے والے نبی جوقدم قدم پر اپنی امت کی کامیابی اور سرخروئی کی دعائیں کرتے چلے گئے ،آج ان کی وہی امت سنت نبوی کو چھوڑ کر رسوم و رواج کے پیچھے ایسے چل پڑی ہے جیسے انہیں اپنے رسول ﷺ کی سنت،  عزت و حرمت کا پاس نہیں، ان کے ارشادات اور طریقوں کی اہمیت نہیں۔ دین و ایمان کی حرارت سینوں میں ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔    ؎
ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں                                اُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبر ؐ ہیں

گمراہی کے سینکڑوں راستے ہیں لیکن ہدایت کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو اتباعِ نبی ﷺ ہے، اس سے ہٹ کر گزاری گئی زندگی ناکام اور خسارے والی ہے۔ آج ضرورت اسی امر کی ہے کہ امت کے بکھرے شیرازے کو ایک مرکز کی طرف مجتمع کیا جائے،  سینوں میں عشق مصطفیٰﷺ کی شمع  فروزاں کی جائے۔رسومات و  بدعات  کو ترک کرکے سنتوں اور احکاماتِ اسلامیہ کو اپنائیں ۔ایک مسلمان کے لیے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر اور کوئی محبوب ومحترم ہستی نہیں ہوسکتی، چنانچہ آقا علیہ السلام کا فرمان ہے:

’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والدین ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘

ہم سے رسول برحق ﷺ سے عہد پیمائی اور  وفاداری کے بارے سوال کیا جائے گا،اگر ہم ان کی شفاعت کے امیدوار ہیں تو ہمیں ان کے منہج اور طریق پر ضرور چلنا ہوگا، بغیر اتباع کے محض نعرہ بازی سے بات بننے والی نہیں ،چنانچہ علامہ اقبال نے جوابِ شکوہ میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ شعر کہا ہے۔   ؎

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں                یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

تلاوتِ قرآن کی حیرت انگیز تاثیر

                                مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک   معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود می...