پیر، 6 نومبر، 2023

استاذ القراء قاری محمد ابراہیم رحیمی رحمہ اللہ ایک قابلِ رشک شخصیت

مفتی محمد مبشر بدر عفی عنہ

کچھ لوگ قابلِ رشک ہوتے ہیں، جو حقیقی کامیابیاں سمیٹ کر اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوجاتے ہیں اور اپنے لیے ذخیرہ  آخر ت اتنا جمع کرجاتے ہیں کہ ملائکہ بھی ان پر رشک کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رضا کے متلاشی  اور اس کی نازل کردہ کتاب کے خادم ہوتے ہیں۔ جن کی پوری زندگی قرآن  پڑھنے پڑھانے میں گزر جاتی ہے اور وہ مخلوق سے اس کا صلہ و بدلہ نہیں چاہتے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: رشک دو آدمیوں کے سوا کسی پر جائز نہیں ایک اس  شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا علم دیا  اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا  آدمی جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا۔ (بخاری) قاری قرآن کی شان یہ ہے کہ گویا  وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہم کلام رہتا ہے۔  ایک روایت میں ہے کہ "جنت کے درجات آیاتِ قرآن کے بقدر ہیں، قاری ء قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا جہاں آخری آیت ہو وہاں تمہارا مقام ہے۔"

محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "قرآن پاک کے قاری نے گویا نبی کریم ﷺ کی زیارت کرلی" ( تنبیہ الغافلین) یہ خوش نصیب لوگ جن کی اللہ اور ملائکہ کے ہاں عزت ہے آج دنیا  کے طالب ان کی قدر و منزلت سے نا آشنا ہیں۔ یہ قابلِ رشک لوگ بروزِ محشر باعزت و باکرامت ہوں گے۔  شاعر ان پراسرار عبادِ ربانی کے بارے کہتا ہے:

؎          یہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر

انہی کے اتقاء پہ ناز کرتی ہے مسلمانی

 استاذ القراء خادم القرآن  قاری محمد ابرہیم رحیمی نور اللہ مرقدہ انہیں قابل رشک لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے قرآن مجید کی خدمت کے لیے خاص کیا ، انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن پڑہنے پڑھانے میں گزار دی ، اور یوں امت کے بہترین طبقے میں شامل ہوگئے چنانچہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: خَيرُكُم من تعلَّمَ القرآنَ وعلَّمَهُ  یعنی " تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے۔" دنیا میں بھلا کوئی ان کی قدر جانے یا نہ جانے پر رسول اللہ ﷺ کی زبانی ان کا مرتبہ بیان کیا جاچکا کہ اللہ کے ہاں ان کا مقام بہت بلند ہے۔

آپ  1940 ء کو ضلع مظفرگڑھ کے قصبہ شاہجمال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم علاقے کے معروف عالم دین  اور مشہور قاری مولانا صالح محمد رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ بعد ازاں خیر المدارس ملتان میں  استاذ القراء قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ سے قرآن کی تکمیل کی۔ آپ استاذ کے حد درجہ فرمانبردار اور تابعدار تھے۔ ایک مرتبہ قاری رحیم بخش رحمہ اللہ نے فرمایا: "ساری زندگی آپ نے جامع مسجد سنارے والی  شاہجمال  تحصیل و ضلع مظفرگڑھ میں اللہ کا قرآن پڑھانا ہے۔"  پس آپ نے رضائے  ربی میں استاذ کے حکم کی تعمیل کی اور ساری عمر جامع مسجد سنارے والی  میں گزار دی۔ آپ نے 65 برس امامت اور تدریس میں صرف کیے اور ہزاروں لوگوں کے دلوں کو قرآن کی تعلیم سے منور کیا ۔

آپ کے شاگرد اور فیض یافتہ کرہ ارضی پر پھیلے ہوئے ہیں، نصف شہر سے زیادہ لوگوں نے آپ کے سامنے  زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ آپ کے پڑھانے کا انداز انتہائی آسان اور عمدہ  تھا۔ جہاں پورے شہر میں سادہ قرآن پڑھانے کا رواج تھا، مخارج اور تلفظ کی صحیح ادائیگی پر توجہ نہیں دی جاتی تھی وہاں استاذ محترم قاری ابراہیم رحمہ اللہ تمام حروف کو ان سے مخارج سے ادا کرنے کا اہتمام فرماتے۔ چنانچہ ناظرہ پڑھنے والے بچوں کے مخارج اور الفاظ کی ادائیگی مشاق قراء کرام کی طرح عمدہ اور شستہ ہوتی۔ آخر ایسا کیوں نہ ہوتا آپ رسول اللہ ﷺ کے ان  فرامین پر بدرجہ اتم عمل فرماتے: ’’اِقْرَئُوُا الْقُرْآنَ بِلُحُوْنِ العَرَبِ وَأَصْوَاتِھَا‘‘۔ ترجمہ: " قرآن کو عرب کے لہجے اور ان کی آواز میں پڑھو۔" (شعب الایمان)   ایک اور روایت میں ارشاد ہے: ’’حَسِّنُوا القُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُم؛ فانَّ الصَّوتَ الحَسَنَ یَزِیْدُ القُرآنَ حُسْنًا۔ ترجمہ: " اچھی آواز سے قرآن کوپڑھاکرو؛اس لیے کہ اچھی آواز قرآن کے حسن کوبڑھادیتی ہے"(شعب الایمان)

آپ سے کسب فیض کرنے والوں کی تعداد کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا تاہم چند معززین علاقہ جن میں: " مفتی محمد اصغر (ملتان)، مفتی محمد حذیفہ و مفتی محمد جعفر( کراچی)، مولانا  زین العابدین (شاہجمال) ( فاضل دارالعلوم کراچی)، ( راقم الحروف)مفتی محمد مبشر بدر (فاضل دارالعلوم کراچی) مولانا عبد الخالق رحمانی( خطیب پاکستان کبیر والہ)، حافظ عبد الرحمٰن انصاری سابق جج ہائیکورٹ لاہور، حافظ عبدالشکور انصاری چیف انجینئر ایریگیشن آف پنجاب، قاری خدا بخش قصائی،قاری محمد اسماعیل شاہجمال (برادر)، قاری مولانا عبدالستار (شاہجمال)،  ڈاکٹر میاں محمد اقبال، ڈاکٹر محمد فرخ رضا، میاں محمد عمران دھنوتر، سابق چئرمین یونین کونسل شاہجمال مہر غلام علی جانگلہ وغیرہ سر فہرست ہیں جب کہ  آپ  جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے بانی و مہتمم قاری محمد یٰسین حفظہ اللہ اور جامعہ طیبہ  فیصل آباد کے بانی و مہتمم قاری محمد ابرہیم  رحمہ اللہ کے ہم در س و ہم سبق رہے ہیں ان کے علاوہ  مفتی محمد اصغر علی ربانی رحمہ اللہ (نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی)، قاری محمد ادریس صاحب مہتمم  جامعہ رحیمیہ ملتان، الحاج  قاری مولانا اکرام الحق انصاری رحمہ اللہ، الحاج قاری عبد الکریم مدنی (مدینہ منورہ) قاری محمد منظور صاحب ( خانگڑھ) ایسے عظیم لوگ آپ کے ہم پیالہ و ہم نوالہ رہے ہیں۔

حضرت قاری صاحب پانی پتی لہجے میں اتنی عمدہ اور سحر انگیز  تلاوت فرماتے تھے کہ سننے والے عش عش کر اٹھتے اور داد دیے بغیر نہ رہتے۔ ہر لفظ کو اس کے مخرج سے سہولت سےادا فرماتے ۔ قریب و جوار کے لوگ ان کی تلاوت کے مداح اور خطباتِ جمعہ و عیدین کے دیوانے تھے۔

؎          وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ

جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ

 آپ نے سادہ اور درویشانہ زندگی گزاری۔ چہرہ ہشاش بشاش  رہتا اور جسے ملتے والہانہ انداز اور خندہ پیشانی سے ملتے ۔ سخی تھے اور لوگوں کی بخیلی اور کنجوسی پر نالاں رہتے اور انہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا کہتے رہتے۔حرمین شریفین  سے  اس درجہ وارفتگانہ اور عاشقانہ تعلق تھا کہ اسباب و زر کی قلت  کے باوجود ایک حج اور تین عمرے کی ادائیگی کی سعادت مع اہلیہ محترمہ حاصل کی۔ آپ کی محنتوں اور کاوشوں سے کئی لوگوں کے عقیدے درست ہوئے اور کئی صالحین بنے۔ ملامحمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے دور اقتدار میں آپ نے افغانستان کا سفر کیا۔

آپ نے 83 سال کی عمر میں  19 ستمبر بمطابق 2 ربیع الاول بروز منگل صبح 9 بج کر 20 منٹ پر تمام اعزاء و اقارب، مقتدیوں، شاگردوں، اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کیا ۔ اپنے پیچھے ایک بیوہ  چار بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں۔ جن میں سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں الحمدللہ حافظ قرآن  اور حضرت استاذ محترم کے لیے ذخیرہ آخرت ہیں۔ آپ کے بیٹوں میں قاری محمد اسحاق، قاری محمد محبوب احمد اور قاری محمد ایوب صاحب شعبہ امامت و تدریس قرآن سے منسلک ہیں جبکہ ماسٹر محمد یعقوب صاحب گورنمنٹ سکول شاہجمال کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ قاری محمد ابرہیم رحمہ اللہ کی وصیت کے مطابق آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے چھوٹے بیٹے قاری محمد ایوب الرحمٰن  حفظہ اللہ نے  گورنمنٹ ہائی سیکنڈری سکول شاہجمال میں پڑہائی۔ آپ کا جنازہ  شاہجمال کی تاریخ کا ایک عظیم  جنازہ تھا جس میں تمام مسالک کےجید علمائے کرام اور قراءِ عظام کے علاوہ ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اللہ کی اس عظیم شخصیت قدسیہ  پر کروڑوں رحمتیں ہوں اور ان کی قبر نور سے منور ہو۔ اللہم آمین

؎         تیری جدائی پہ مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

          مگر تیری مرگِ ناگہاں کا مجھے ا بھی تک یقیں نہیں ہے

پیر، 14 فروری، 2022

کیا لوگوں کو زبردستی مسلمان کیا گیا؟

 ایک اعتراض کا اجمالی جواب
 تحریر محمد مبشر بدر

    مکہ میں 13 سال تک مسلمان مسلسل ماریں کھاتے رہے۔ مشرکین اور کفار ان پر مسلسل ظلم کرتے رہے جن سے تاریخ اسلام کے اوراق سیاہ ہوئے پڑے ہیں اس وقت تو آقا علیہ السلام اور مسلمانوں نے کسی پر جبر نہیں کیا جتنے لوگ مسلمان ہوئے اپنی مرضی سے ہوئے اسی طرح مدینے میں اسلام کی دعوت پھیلی اس وقت بھی کسی نے مدینے والوں کے گلوں پر تلواریں نہیں رکھی تھی سب اپنی ہی مرضی سے مسلمان ہوئے تھے۔
پھر جب مشرکین نے آقا علیہ السلام کو مکہ سے نکالا اور آپ علیہ السلام ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تب بھی مدینہ والوں نے خود انہیں اپنے ہاں ہجرت کرنے کی دعوت دی کسی نے انہیں مجبور نہیں کیا تھا۔ آقا علیہ السلام مدینہ پہنچ گئے جہاں یہود کے تین قبیلے بنو قریظہ ، بنونظیر اور بنو قینقاع آباد تھے جنہیں مسلمانوں سے دشمنی پیدا ہوگئی۔ آقا علیہ السلام نے ان سے امن معاہدہ کیا کہ ایک دوسرے سے نہیں لڑیں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں غیروں کی مدد کریں گے، لیکن اس کے باوجود یہود نے عہد توڑ ڈالا اور مسلمانوں کے خلاف ان مشرکین کی مدد کی جو دین و مذہب میں ان سے بالکل میل نہ کھاتے تھے، یہودی اہل کتاب و اہل شریعت جب کہ مکہ کے مشرک جاہل اور بت پرست لیکن پھر بھی یہود نے اپنی اسلام دشمنی کا مکمل ثبوت دیا۔ اللہ نے غزوہ احزاب سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائی وہاں سے فارغ ہو کر پیغمبر اسلام ﷺ نے یہود کو عہد شکنی کی سزا دی اور یہ سزا بالکل حق پر مبنی ہے کیوں کہ اگر یہی کام مسلمان یہود کے ساتھ کرتے تب یہود مسلمانوں سے اس سے بھی بدتر حال کرتے۔
         اس لیے اسلام تو شروع سے اب تک پرامن رہا ہے۔ شروع سے اب تک اس پر تمام دنیا کے غیر مسلم فوجوں نے چڑہائی کی ہے اور ان کی وحدت کو تار تار کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ دیکھیں فتح مکہ کے بعد اگر آقا علیہ السلام چاہتے تو انتقام میں تمام مشرکین کی ان کے ظلم و ستم کے بدلے گردنیں اڑا سکتے تھے لیکن آپ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا جس سے متاثر ہوکر تمام مشرک مسلمان ہوگئے۔
     اسلام نے اخلاق سے لوگوں کے دلوں کو جیتا ہے نہ کہ ظلم وجبر سے کیوں کہ ظلم و جبر زیادہ دیر تک ٹکتا نہیں اور اسلام آج بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہے۔ تلوار سے عیسائیت نے اندلس میں مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے اسلام اس غلط فعل سے بری ہے۔

جمعرات، 14 جنوری، 2021

ارطغرل غازی اور انجین التان

محمدمبشر بدر

ترکی ڈرامہ ارطغرل نے لاکھوں مسلمانوں میں ہمت اور ولولہ پیدا کردیا ہے، آخر میڈیا ایک طاقت اور اثر رکھتا ہے۔ اسے مثبت استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کو صحیح سمت میں لانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسے فحاشی اور عریانی کے فروغ اور وقت کے ضیاع کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس سے معاشروں میں بجائے تعمیر کے بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ دیریلس ارطغرل کی چند اقساط دیکھ پایا باقی کی نہ تو فرصت ملی اور نہ ہی میرے پاس بقیہ اقساط موجود ہیں۔ ڈرامے میں موجود موسیقی، بے پردگی اور کرداروں کی شکل و شباہت میں غیر اسلامی جھلک کی مخالفت کرتا آیا ہوں۔ اس ڈرامے میں ترکش اداکارانجین التان کو ارطغرل کے کردار میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے کا مرکزی اور جاندار کردار ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد انجین التان کو ہی ارطغرل سمجھ بیٹھی ہے اور اس کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے۔ ایسا ہونا ایک فطری عمل ہے کہ ارطغرل جیسے عظیم اور سحر انگیز شخصیت کو جاندار انداز میں پیش کرنے پر لوگ اداکار کو ہی حقیقی کردار سمجھنے لگ جاتے ہیں۔


 جب کہ انجین التان تو وہ اداکار ہے جس نے مسلمانوں کو ان کی تاریخ کے اجلے کردار سے روشناس کرایا ہے۔ لیکن جب انجین التان فوکس ٹی وی پر نئے دکھائے جانے والے ڈرامے پر سیکولرانہ کردار میں نظر آیا تو نامعلوم دل کیوں اداس ہوگیا۔ فوکس ٹی وی کا مالک ایک اسلام دشمن انسان ہے اور اس چینل سے دن رات مسلسل اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ انجین التان کو سوچنا چاہیے تھا کہ یہ چینل اس سے ایسا کام کیوں کروانا چاہتا ہے جس میں اسلام دشمنی اور عریانی کا درس عوام تک پہنچ رہا ہے۔؟ اس وجہ سے کہ ارطغرل کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے دلوں میں اپنا جو مقدس احترام بنا چکے ہیں اسے مسلمانوں کے دلوں سے ماند کرنا اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا مقصود ہے۔ فوکس ٹی وی کی سیریز میں انجین التان کو ایک سیکولر وکیل کے کردار میں پیش کردیا گیا ہے۔ 


انجین کو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ مسلمان اسے اسلام کے کردار کے علاوہ کسی اور کردار میں قبول نہیں کریں گے۔ کیوں کہ وہ ارطغرل کے سحر انگیز کردار کی وجہ سے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں اپنا مقام بنا چکا ہے۔ ارطغرل کے جیالوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انجین التان اپنی حقیقی زندگی میں قطعا ارطغرل جیسا نہیں ہے۔ بلکہ وہ سیکولرانہ ذہنیت رکھتا ہے اور اس نے اپنے ٹویٹر اور انسٹا گرام کے اکاؤنٹ پر اسلام دشمن مصطفیٰ کمال اتاترک کی تصاویر چڑھا رکھی ہیں، جس نے ترکی سے اسلام نکالنے کے سنگین اقدامات اٹھائے۔ اسلامی تعلیم پر پابندی لگائی،  قرآن کے نسخے ضبط کروائے اور ترکش زبان کی عربی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں ڈھال دیا۔ ایسے سیکولر اسلام دشمن انسان کی تائید کرنے والے اور اسے اپنا رول ماڈل قرار دینے والے شخص کو ارطغرل کا کردار دے دیا گیا۔ انجین التان ترکی کے اس خطے میں رہتے ہیں جہاں سیکولرز اکثریت میں ہیں۔


کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ انجین التان کا ذاتی معاملہ ہے اس میں ہمیں بولنے کا حق نہیں۔ ان کی بات کسی حد تک درست ہوسکتی ہے لیکن اس بات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ دیریلس ارطغرل محض ایک ڈرامہ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی ایک تحریک ہے جس سے مسلمانوں کے اسلامی جذبات بیدار ہورہے ہیں۔ اس لیے ایک عظیم کردار پر ایک سیکولر شخص کو منتخب کرنا خود اس کردار کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ہم مسلمان نقلی اداکاروں سے حقیقی کرداروں جیسی توقعات اور ویسی عقیدت وابستہ کرلیتے ہیں جو بعد میں اس وقت چکنا چور ہوجاتی ہے جو وہ ہماری توقعات اور امیدوں کے برعکس نکلتے ہیں۔ آئندہ سے ایسے کرداروں کے لیے ان افراد کا انتخاب کیا جانا چاہیے جو اسلامی سوچ اور نظریہ رکھتے ہوں تاکہ کردار کے ساتھ اداکار کی جو کشش اور محبت فطری طور پر دل میں اترتی ہے اس میں مماثلت پائی جائے۔

اتوار، 5 جنوری، 2020

عرب ممالک میں قادیانیت کی ہزیمت

مفتی محمد مبشر بدر عفی عنہ

قادیانی اپنے جھوٹے مذہب کی ترویج کے لیے اتنے متحرک ہیں کہ انہوں نے پوری دنیا میں دعوتی سرگرمیاں پھیلانے کا عزم کررکھا ہے۔ یہ مکر و فریب، جھوٹ اور دجل کا ایسا گورکھ دھندا ہے کہ پوری دنیا کو دھوکا دیا ہوا ہے کہ قادیانیت اور اسلام میں کوئی فرق نہیں۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے عرب مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانا شروع کردیا ۔ سب سے پہلے 1928 میں اسرائیلی شہر حیفا میں قادیانی تبلیغی مرکز کھولا۔ جہاں سے انہوں نے پورے عرب کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ عرب خطے میں قادیانی تبلیغ کی صد سالہ محنت کے نتیجے میں ان کا ایک حلقہ بن چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر کنٹرول حاصل کر کےاسے  تبلیغی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اردو زبان سے ناواقفیت کی بنا پر اہل عرب  قادیانی مکائد اور چالاکیوں سے بے خبر رہے، وہ انہیں ایک عام مسلمان تنظیم سمجھتے رہے، اور اب بھی اکثر عرب ان کی اصلیت سے ناواقف ہونے کی بنا پر ان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ تبھی ان کی گمراہانہ جال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

لیکن اب تبدیلی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ عرب قادیانیت کی گمراہیوں کو پہچاننے لگے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ قادیانیت کے فلسطین، مصر اور دیگر عرب ممالک کے متحرک اور سرگرم مبلغ جناب ہانی طاہر نے قادیانیت کو خیر باد کہہ دیا اور 31 اگست کو اسلام قبول کرلیا۔ 47 سالہ ہانی طاہر ایک تعلیم یافتہ اور منجھے ہوئے صحافی ہیں جو کہ قادیانیت کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بہت بڑا نام تھا۔وہ قادیانیوں کے عرب ٹی وی چینل 3 کے پروگراموں قرآۃ فی الصحف، سبیل الہدیٰ، الحوار المباشر، اور الخزائن الروحانیہ کے میزبان کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔ انہوں نے ناصرف اسلام قبول کیا بلکہ قادیانیت کے خلاف تحقیقی اور علمی ویڈیو کلپ  بنا کر انٹر نیٹ پر پھیلانی شروع کردیں۔ ہانی طاہر کا کہنا ہے کہ جب تک مرزا قادیانی کی کتب کا عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا تب تک قادیانی جو کچھ بتاتے ہم اسے سچ سمجھتے رہے لیکن جب غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا تو ہم پر اس گروہ کی حقیقت کھلنا شروع ہوگئی، اور میں اس نتیجے تک پہنچا کہ مرزا غلام احمد نہ تو مسیح موعود ہے اور نہ ہی مہدی  بلکہ وہ ایک جھوٹا اور اور مکار شخص ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں ایسے شخص کے لیے تبلیغ کرتا رہا اور اپنی زندگی کے بہترین لمحات اس کے پرچار میں گنوا دیے۔

ہانی طاہر نے مرزے کی کتابوں سے تضادات اور تناقضات کو اکٹھا کرکے ویڈیو کلپ بنا کر یوٹیوب پر لگانے شروع کیے  اور ساتھ ہی مرزے کی عربی دانی کا پول کھول دیاکہ مرزے کی عربی میں انتہائی فاش قسم کی صرفی، نحوی اور ادبی اغلاط موجود ہیں جو قطعا کلام الٰہی نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی وہ الہامی عبارات ہوسکتی ہیں۔ طاہر ہانی نے واضح کیا کہ مرزے نے کس طرح عرب ادباء کی ادبی عبارتوں اور جملوں کو چوری کیا اور انہیں الہام اور وحی  کا درجہ دے کر عامۃ الناس کو دھوکہ دیا۔ مرزے کے دجل و فریب سے نقاب اٹھتے دیکھ کر قادیانیوں کی  نیندیں اڑ گئیں۔ ہانی طاہر کے دلائل اتنے قوی اور مضبوط ہوتے کہ خود قادیانی بھی جماعتی سطح پر اس کا جواب نہیں دے سکے۔جس کے نتیجے میں بہت سے قادیانیت کا شکار عربوں نے قادیانیت سے توبہ کی اور ہانی طاہر کی ٹیم ورک کا حصہ بن گئے۔

ہانی طاہر کی کاوشوں سے ہدایت پانے والے خوش نصیبوں میں لندن قادیانی مرکز کے مؤذن ، نائب امام اورمرزا مسرورکے انتہائی قریبی عکرمہ نجمی بھی شامل ہیں جنہوں نے ہانی طاہر کی ویڈیوز سے متاثر ہوکر قادیانیت پر چار حرف بھیجے۔ قادیانیوں نے انہیں لندن میں مرزا مسرور کی رہائش گاہ کے قریب عالیشان گھر دیا ہوا تھا۔عکرمہ نجمی عرب قادیانیوں میں صف اول کے مبلغ شمار ہوتے تھے اور پیدائشی قادیانی تھے۔ ان کے نانا نے سب سے پہلے قادیانیت قبول کی اور یوں ان کا گھرانہ اس سلسلے میں جڑ گیا۔

عکرمہ نجمی نے خود اپنے اسلام قبول کرنے سے متعلق لکھا کہ جب ہانی طاہر کے دندان شکن اعتراضات کا جواب قادیانیوں سے نہیں بن پڑا تو مرزا مسرور نے مجھ سے اس بابت پوچھا۔ میں نے کہا اس کے دلائل کے سامنے ہماری جماعت  بے بس دکھا ئی دیتی ہے اور کوئی خاطر خواہ جواب نہیں بن پارہا۔ مرزا مسرور نے یہ سن کر میری ذمہ داری لگائی کہ تم تیاری کرو اور اس کا جواب دو۔ میں نے انتہائی جاں فشانی سے ہانی طاہر کو جواب دینے کی کوشش کی لیکن جب مرزا قادیانی کی کتب کی طرف مراجعت کی  اور جوں جوں کتب پڑہتا گیا میں انکار، خوف، تنگی، شدید افسوس، کوفت اور دقت جیسےکئی مرحلوں سے گزرتا گیا۔میرے لیے بیان کرنا مشکل ہے کہ میں کس اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہوگیا یہاں تک کہ ہدایت کا مرحلہ آیا اور میں نے مرزائیت سے برائت کا اعلان کردیا۔

مجھے معلوم ہوچکا تھا کہ مرزا قادیانی نے عربی کتب سے سرقہ کیا ہے۔ حالانکہ جماعت احمدیہ یہ باور کراتی رہی تھی کہ مرزا غلام احمد نے کسی سے عربی تعلیم حاصل نہیں کی یہ وہبی اور عطائی صلاحیت ہے جو اللہ نے انہیں خصوصیت سے معجزانہ طور پر عطا فرمائی ہے۔ مرزے کی کتب میں عربی ادب کی اہم کتاب "مقامات حریری" کے ابتدائی چالیس صفحوں کے (1000) ادیبانہ جملے دیکھے جو مرزے نے چوری کرکے اپنی عربی تحاریر میں فٹ کیے تھے۔ ہانی طاہر نے مرزا کی کتب سے سو نحوی اور لغوی غلطیاں بھی نکالیں جس سے مجھ پر اس کا کذب اور جھوٹ کھل گیا۔  وہ شخص کیسے الہامی یا من جانب اللہ مقرر شدہ نبی و مہدی ہوسکتا ہے جو مقامات حریری اور دیگر عربی کتب کے ادبی جملوں کی چوری کرکے اپنی کتابوں میں لکھے اور کہے کہ یہ کلام من جانب اللہ نازل ہوا ہے؟اسی طرح مرزے کی پیشین گوئیاں جو جھوٹی ثابت ہوئیں اور محمدی بیگم بارے مرزے کی اشتہار بازی ، پیشین گوئی اور اس سے نکاح کی مذموم کوشش جس میں قادیانی بالکل ناکام رہا اور ساری پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں،  ان تمام چیزوں نے میری نگاہ میں مرزے کا دجل کھول دیا۔ اب میری ذمہ داری تھی کہ میں جماعت کے سامنے حق بات کھول کر بیا  ن کروں اور مرزے اور اس کی جماعت کی حقیقت بیان کروں۔

چنانچہ سب سے پہلے میں نے مرزائی خلیفہ  مسرور کو خط لکھا اور مرزے کی تمام خرافات بارے بات کی،  نیز یہ کہ ہانی طاہر سچ کہہ رہا ہے۔ اب سارا معاملہ آپ کے ہاتھ ہے اس وقت آپ خلافت کے تخت پر ہیں سب لوگ آپ کی بات توجہ سے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔  آپ ہی موجودہ لوگوں اور آنے والی نسلوں کو اس ورطے سے نکال سکتے ہیں۔ آپ کو آج حق بتا دینا چاہیے اور اس دجل سے پردہ ہٹا دینا چاہیے۔ کم از کم اتنا ہوگا کہ قادیانی احباب کو بہت زیادہ دکھ و الم ہوگا لیکن اس کے بعد آخرت کی رسوائی سے تو بچ جائیں گے۔ آپ اپنی جماعت کا رخ  کسی مثبت فلاحی کاموں کی طرف موڑیں اور ان دعاوی کو چھوڑ دیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر آپ نے ایسا عظیم الشان کام کردکھایا تو تاریخ آپ کا نام سنہری حروف سے لکھے گی اور اس پر آپ کو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی طرف سے بہت اچھا بدلہ ملے گا۔ اگر آپ میری تجویز قبول کریں تو میں آخر تک آپ کا تعاون کرنے کو تیار ہوں۔

میں نے خط انہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ اس خط میں کیا ہے؟ میں نے کہا آپ کے پڑہنے سے پہلے میں کچھ نہیں بتا سکتا، آپ اسے پڑہیں اس کے بعد آپ سے ملاقات ہوگی۔ میں نے یہ توقع نہیں کی تھی کہ میری ساری زندگی اس طرح کے خواب دیکھ سکے گی! انہوں نے کہا، " کیا بات ہے، کیا تم جماعت چھوڑنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا میں نے آپ کو خط کے مندرجاتپڑہنے تک باتملتوی رکھنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں ایک یا دو  دن میں اسے پڑھ کر دوبارہ ملوں گا۔ چالیس منٹ بعد ایک خادم نے آکر کہا آپ کو خلیفہ صاحب بلا رہے ہیں۔ جب میں اندر گیا تو میں نے دیکھا کہ ان کے کلام میں ارتعاش تھا ۔ وہ دوران گفتگو کانپ رہے تھے اور ا ن کے ہاتھ بہت زیادہ  لرز رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا:
"تم نے بانی ءجماعت کے بارے جو غیر منطقی باتیں کی ہیں میں انہیں قبول نہیں کرتا۔  ہمارے دین اور طریقے پر تواتر قائم ہوچکا ہے۔ میں نے تمہارا تمام پیغام پڑھ لیا ہے ۔ اس کے بعد میں تمہیں ملازمت اور جماعت سے نکالنے پر مجبور ہوں۔ شیخ عکرمہ مزید لکھتے ہیں کہ: بجائے اس کے کہ مجھے قائل کیا جاتا اور مرزا قادیانی کی سچائی کے دلائل دیے جاتے اور میرے اشکالات دور کیے جاتےبلکہ  الٹا مجھے صاف جواب دیا کہ میں تمہیں ملازمت سے فارغ کرنےاور جماعت سے نکالنے پر مجبور ہوں۔ یہ کیسی سچائی ہے ؟

قارئین! میں نے عکرمہ نجمی کے خط کے ایک حصے کا ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا جب کہ طوالت کے ڈر سے مرزے کے بارے جو باتیں روشن دلائل سے لکھی تھیں انہیں  چھوڑ دیا۔ عکرمہ نجمی پہلے ہی قادیانیت سے توبہ تائب ہوچکے تھے۔ ملازمت سے فارغ کیے جانے اور جماعت سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے قادیانیت کی حقیقت سے ان نادان عربوں کو نکالنے کی ٹھانی جو مرزے کے دجل کا شکار ہوچکے تھے۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے اور بہت سے عرب قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعے بنے ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ شیخ امجد سقلاوی  اردن کے تعلیم یافتہ سکالر ہیں جو قادیانیت کا شکار ہوچکے تھے بعد ازاں حقیقت کھلنے پر وہ  توبہ تائب ہوئے اور بھر پور طریقے سے قادیانیت کے خلاف کام کررہے ہیں۔

میرا مضمون طویل ہوگیا ۔ اگر مزید افراد کے نام لکھوں کو طوالت بڑھ جائے گی۔ یہ افراد اس وقت سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں اور قادیانیت کے خلاف سرگرم ِعمل ہیں۔میری خوش نصیبی ہے کہ میں ان کے ساتھ ایڈ ہوں انہوں نے میری ریکویسٹ کو قبول کرکے مجھے اعزاز بخشا۔قارئین! آپ نے پڑھا کہ قادیانیت کا سورج اب سر زمینِ عرب میں ڈوب رہا ہے۔ یہ اب پستی کی طرف لڑھک رہے ہیں۔  ان نو مسلم افراد کی محنت رنگ لارہی ہے جو خود قادیانیت کی گود میں پل کر آئے ہیں اور اللہ نے انہیں ہدایت کی راہ دکھا دی ہے۔ ان شاء اللہ انگریزی ایما ء پر قائم کیا ہوا قادیانی شجرہء خبیثہ اب کھوکھلا ہورہا ہے۔ ان شاء اللہ آنے والے وقتوں میں آپ بہت بڑی خوشخبریاں سنیں گے۔

ہفتہ، 4 جنوری، 2020

آخر اک روز تو پیوندِ زمیں ہونا ہے


بقلم مفتی محمد مبشر بدر
آئیں ! کچھ دیر موت کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کچھ عالم آخرت کی پہلی منزل کے بارے سوچتے ہیں۔  تھوڑا دنیا کے جھمیلوں سے وقت نکال کر آخرت کی وسعتوں کی طرف جھانکتے ہیں۔ انسان کو جہانِ دنیوی میں لمحاتِ زیست عطا ہوئے ہیں تو موت بھی ایک اٹل حقیقت ہے جو تمام لذتوں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ روئے زمین پر اللہ کے وجود کے منکر تو ملیں گے لیکن موت کا انکاری کوئی نہیں ملے گا۔ زندگی انسان کو عدم سے وجود میں لانے کا ذریعہ بنی تو موت انسان کو پھر سے عدیم بنا دیتی ہے۔ صدیوں سے انسان موت کا حل ڈھونڈنے میں لگا ہے، پھر بھی اپنی کوششوں میں ناکام ہے اور یہ ماننے پر مجبور ہے کہ موت کا کوئی علاج اور حل نہیں، موت سے کوئی مفر نہیں۔ اب انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے تجربات کررہا ہے اور اس کوشش میں ہے کہ مرے ہوؤں کو دوبارہ زندہ کر دے جو صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن  ہے۔ خالقِ موت و حیات  نے خود اپنی کتاب قرآن مجید میں فرما دیا:

اَۡ ینَمَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ  فِیۡ  بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ سورۃ النساء

یعنی " تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ پکڑے گی، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو۔"
موت انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی یہاں تک کہ مقررہ مقام پر پا کر اپنے پنجوں میں دبوچ لیتی ہے۔ پھر نہ تو انسان کو محفوظ قلعے بچا پاتے ہیں اور نہ ہی کوئی مضبوط تدبیر کار گر ثابت ہوتی ہے۔ تمام انسان، جن اور ملک زور لگا کر ایک انسان کو موت سے بچانا چاہیں تو بھی نہیں بچا سکتے۔ زندگی اور موت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی انسان کو پیدا کرتا ہے پھر اسے موت دے کر اپنے پاس اٹھا لیتا ہے، کچھ کو بچپن میں وفات دیتا ہے  تو کچھ کو جوانی میں اور کچھ بڑہاپے تک پہنچ کر فوت ہوتے ہیں۔ چنانچہ سورہ نحل میں اللہ  تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ   ۟ ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ  یُّرَدُّ   اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ  لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ  بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ  قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰

ترجمہ : " اللہ تعالیٰ نے ہی تم سب کو پیدا کیا ہے، وہی پھر تمہیں فوت کرے گا، تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر ( بڑہاپے ) کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں۔ بیشک اللہ دانا  اور توانا ہے۔"

سورہ واقعہ میں فرمایا کہ ہم نے ہی انسانوں میں موت کو مقرر کررکھا ہے:

نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَیۡنَکُمُ الۡمَوۡتَ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾ سورہ واقعہ

ترجمہ : " ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کے فیصلے  کررکھے ہیں، اور کوئی نہیں ہے جو ہمیں اس بات سے عاجز کرسکے۔"

سورہ انبیاء میں اللہ فرماتا ہے:

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ  الۡمَوۡتِ ؕ وَ نَبۡلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَ الۡخَیۡرِ  فِتۡنَۃً ؕ وَ اِلَیۡنَا  تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۳۵

ترجمہ: " ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں۔ آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔"
مذکورہ آیت میں صاف فرمایا کہ انسان کی زندگی اور موت تو بس ایک آزمائش کے لیے ہے۔ موت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ کس نے کیسے اعمال کیے اسی کو سورہ ملک میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ"  اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرتا ہے۔ " انسان کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ کسی نے ہمیشہ اس جہاں میں نہیں رہنا۔ انبیاء علیہم السلام جیسی مقدس ہستیاں بھی جہانِ فانی چھوڑ کر چلی گئیں، پھر ہماری کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ کسی  کو موت سے کوئی مفر نہیں۔ اگر کوئی موت سے بھاگنا بھی چاہے تب بھی نہیں بچ سکتا۔ چنانچہ فرمایا:

قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ  فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ  اِلَّا  قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾ (الاحزاب)

ترجمہ: " اے نبی (ﷺ)! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا۔"

قُلۡ  اِنَّ الۡمَوۡتَ الَّذِیۡ تَفِرُّوۡنَ مِنۡہُ  فَاِنَّہٗ مُلٰقِیۡکُمۡ  ثُمَّ  تُرَدُّوۡنَ  اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ  فَیُنَبِّئُکُمۡ  بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۸﴾ (سورۃ الجمعۃ)

ترجمہ: " کہو کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے، پھر تمہیں اس (اللہ) کی طرف لوٹایا جائے گا جسے تمام پوشیدہ اور کھلی ہوئی باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔"

سورہ ق میں فرماتا ہے:

وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ  الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ  تَحِیۡدُ ﴿۱۹
ترجمہ: " اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان!) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا ہے۔"

موت کی سختی حقیقت لے کر سامنے آجاتی ہے۔ یہ سکرات کا وقت ہے۔ جب انسان عالم بالا کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ گویا اللہ فرماتا ہے اے انسان! اب تک تو دنیا میں نعمتوں کے مزے میں تھا، تو نے آخرت کو بھلائے رکھا۔ اب موت کی سختی تجھے حقیقت دکھا رہی ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ جس حقیقت سے منہ موڑے چلتا رہا آج انسان کو اسی حقیقت سے سامنا کرنا ہے۔ انسان موت سے بدکتا اس وجہ سے ہے کہ موت کی تیاری نہیں کی ہوتی، آخرت کی ہولناکیاں آنکھوں کے سامنے آچکی ہوتی ہیں تب عزیز و اقارب کا ساتھ ہونے کے باوجود مرنے والا بدک رہا ہوتا ہے اور وحشت زدہ ہوتا ہے۔ تبھی  اللہ نے فرمایا کہ یہ وہ موت ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے جہاں موت کو کثرت سے یاد کرنے کی تاکید کی وہیں موت کی تمنا کرنے سے بھی منع کیا: چنانچہ ارشاد فرمایا: أكثروا ذكر هاذم اللَّذات: الموت  ( ترمذی) "لذتوں کو ختم کرنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو" دوسری حدیث میں ہے:

لا يتمنَّينَّ أحدُكم الموتَ لضُرٍّ نزل به، فإن كان لا بدَّ مُتمنِّيًا فليقل: اللَّهم أحيني ما كانت الحياةُ خيرًا لي، وتوفَّني ما كانت الوفاةُ خيرًا لي ( متَّفقٌ عليه)

ترجمہ: "تم میں سے کوئی کسی مصیبت کے نازل ہونے کی وجہ سے موت کی تمنا ہرگز نہ کرے پس اگر اس کو لا محالہ کرنی ہی ہے تو اسے چاہئے کہ يہ کہے: اے اللہ مجھے زندہ رکھـ جب تک کہ زندہ رہنا میرے لئے بہتر ہو اور مجھے موت دے جب موت میرے لئے بہتر ہو۔"

مؤمن کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ موت بدکردار اور برے انسان کے لیے بھیانک اور روح فرسا ہے تو مؤمن کے لیے خوشی کا مژدہ اور تحفہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الموت تحفۃ المؤمن" یعنی موت مومن کا تحفہ ہے، مؤمن ہر وقت اپنے رب سے ملنے کا آرزو مند ہوتا ہے تبھی وہ ہر وقت اللہ سے ملاقات کی تیاری میں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ  (البقرة: 46) یعنی " وہ لوگ جو  یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے اور یقیناً  اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔"

کافر بارے سورہ یونس میں اللہ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ اطۡمَاَنُّوۡا بِہَا وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙ﴿۷﴾ اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ۔ ترجم: " حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں ، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے ۔" صحیحین کی روایت میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے:

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلممن أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه. فقلت: يا نبي الله أكراهية الموت؟ فكلنا نكره الموت. فقال: ليس كذلك، ولكن المؤمن إذا بشر برحمة الله ورضوانه وجنته أحب لقاء الله فأحب الله لقاءه، وإن الكافر إذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله وكره الله لقاءه۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ میں نے کہا یانبی اللہ ! کیا موت کی ناپسندیدگی مراد ہے؟ ( اگر ایسا ہے تو) ہم میں سے ہر کوئی موت کو ناپسند کرتا ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ مطلب نہیں۔ مؤمن کو جب اللہ کی رحمت ، رضا اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے پس اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔" (متفق علیہ)

پریشانی اس شخص کے لیے ہے جو من مانی کرتا رہا اور خواہشات کی پیروی کرتا رہا۔ مطیع و فرمانبردار کے لیے تو موت ایک عظیم نعمت ہے۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نےمزید  زندہ  رہنے  اور موت میں اختیار دیا ،  انہوں نے موت کو ہی پسند کیا۔ ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: " عقلمند آدمی وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور بے وقوف ہے وہ شخص جو اپنے آپ کو خواہشات پورا کرنے میں لگا دے اور اللہ پر (بخشش کی) امیدیں لگائے۔" چنانچہ ہمیں موت سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے، دنیاوی زندگی سے دھوکہ کھا کر مرنے کے بعد کے دن یومِ جزاء سے غافل نہیں ہونا چاہیے،  اس کے تقاضے پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ بقولِ شاعر: ؎    آخر اک روز تو پیوندِ زمیں ہونا ہے۔

تلاوتِ قرآن کی حیرت انگیز تاثیر

                                مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک   معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود می...