منگل، 28 فروری، 2017

فرشتوں کی حقیقت اور ماہیت


 محمد مبشربدر
          ملائکہ ’’ ملک ‘‘ کی جمع ہے جس کا معنی مالک ، اور اقتدار کے آتے ہیں۔ ان میں تصرف قدرت اور امر کا معنیٰ بھی پایا جاتا ہے۔رب العٰلمین کی طرف سے انہیں بعض امور سپرد کیے جاتے ہیں اسی بنا پر انہیں ملائکہ کہا جاتا ہے۔ان کا وجود برحق ہے اور ان پر ایمان لانا ایمانیات میں شامل ہے۔ ان کا انکار اسلام سے نکال دیتا ہے۔ فرشتے نور سے بنے ہیں اور یہ وہ نور نہیں جو اللہ تعالیٰ کا نورِ قدیم ہے کیوں کہ فرشتے مخلوق اور حادث ہیں اور اللہ تعالیٰ کا نور ذاتِ باری تعالیٰ کی صفت ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔فرشتوں کی کوئی خاص ہیئت اور صورت نہیں ہوتی بلکہ وہ لطیف اور نورانی ہوتے ہیں قدرت کی طرف سے انہیں خاص ملکہ ملا ہوا ہے جس سے وہ جس طرح کی صورت چاہییں اختیار کرسکتے ہیں۔
          تفسیرِ بیضاوی میں درج ہے ۔: فَذَھَبَ اَکْثَرُ الْمُسْلِمِیْنَ إلیٰ أَنِّھِا أَجْسَامٌ لَطِیْفَۃٌ ، قَادِرَۃٌ عَلیٰ التَّشَکُّلِ بِاَشْکَالٍ مُخْتَلِفَۃٍ ۔
’’ پس جمہور مسلمانوں کے مطابق ملائکہ وہ لطیف نورانی اجسام ہیں جنہیں ( اپنی لطافت اور نورانیت کے باعث ) مختلف کلیں بدلنے قدرت حاصل ہوتی ہے۔‘‘
           حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ نے نقل فرماتی ہیں کہ :
’’ فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ، جنات کو شعلہ زن آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا جو تمہارے سامنے (  من جانب اللہ  ) بیان کی گئی یعنی  ( مٹی سے )۔ ( مسلم )
          فرشتے لاتعداد اور اتنی کثرت سے ہیں کہ پیدا کرنے والے کے سوا ان کے بارے اور کوئی نہیں جانتا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی معراج والی روایت میں ہے :
’’ نبی اکرم ﷺ جب آسمان پر ’’ بیت المعمور ‘‘ پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ہرروز ستر ہزار فرشتے نماز پڑہتے ہیں اور جو اس میں ایک بار نماز پڑھ کر چلا جاتا ہے دوبارا اس میں لوٹ کر نہیں آتا ، یعنی پھر اس کی کبھی واپسی کی نوبت نہیں  آتی ۔ ( بخاری ومسلم )
قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر فرشتوں کی خصوصیات اور ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں ،ہواؤں ، بادلوں اور دیگر انسانی ضروریات پر مامور کیے گئے ہیں ، حتیٰ کہ ان کی اہمیت کے پیشِ نظر ان پر ایمان لانے کو ایمانیات میں شامل کرکے انہیں خدا ، رسول اور کتاب اللہ کی صف میں کھڑا کیا ہے ، جو ان کی اہمیت کی دلیل ہے۔
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ۔
’’ یہ رسول ( یعنی حضرت محمد ﷺ ) اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور (ان کے ساتھ ) تمام مسلمان بھی ، یہ سب اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘ ( البقرہ)
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی سرشت اور طبیعت میں اپنی اطاعت اور فرمانبراداری لکھ دی ہے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرسکتے یہ چیز ان کی طبیعت میں بھی نہیں ہے۔وہ ازخود کوئی قدرت نہیں رکھتے بلکہ اپنے ذمہ امور کو سرانجام دیتے ہیں ۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے۔
يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۔
’’ وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور انہوں جو حکم کیا جاتا ہے وہ بجا لاتے ہیں ۔‘‘(النحل)
ایک اور جگہ فرمایا: لَا یعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا أَمَرَھُم وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔
’’ انہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم  دیا جائے بجالاتے ہیں۔‘‘ ( تحریم)
قرآن پاک میں جن فرشتوں کا ذکر ہوا ان میں سے چار مشہور فرشتے جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل اور عزرائیل  علیہم السلام ہیں ۔
جبرائیل علیہ السلام کو روح القدس ، روح الامین ، ذوی القوۃ المتین کہا گیا ہے، یہ تمام فرشتوں کے سردار ، سب سے طاقتور اور اللہ ہے ہاں بہت مرتبت والے ہیں ۔ انبیاء علیہم السلام کے پاس پیغامِ خداوندی آپ ہی لاتے رہے ہیں۔شب معراج میں آپ کو حضرت محمد ﷺ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔قرآن پاک میں ان کا نام تین مرتبہ آیا ہے جب کہ دیگر صفات سے ان کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔یہودیوں پر عذابات لانے کی وجہ سے یہود ان سے دشمنی رکھتے ہیں۔
میکائیل علیہ السلام کا قرآن پاک میں صرف ایک مرتبہ نام استعمال ہوا ہے ۔ ان کے ذمے بارش ، زمین ، نباتات اور لوگوں کی روزی کا انتظام ہے۔
اسرافیل علیہ السلام کے ذمے صور پھونکنے کی ذمہ داری ہے جو صور کو منہ میں لیے اللہ کے حکم کا انتظار کررہے ہیں ۔ ان کے صور پھونکتے ہی قیامت برپا ہوجائے گی۔یہ دو دفعہ صور پھونکیں گے۔ قرآن پاک میں ان کا نام  موجود نہیں جب کہ ان کی صفت صور پھونکنے کو متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ طَرْفَ صَاحِبِ الصُّورِ مُذْ وُکِّلَ بِه مُسْتَعِدٌّ يَنْظُرُنَحْوَ الْعَرْشِ مَخَافَةَ أنْ يُؤْمَرَ قَبْلَ أنْ يَرْتَدَ إِلَيْهِ طَرْفُه کَأنَّ عَيْنَيْهِ کَوْکَبَانِ دُرِّيَانِ ۔
’’بلاشبہ حضرت اسرافیل جب سے صور پھونکنے پر مقرر ہوئے ہیں تب سے تیار ہیں۔ عرش کے اردگرد اس خوف سے نظر کر رہے ہیں کہ انہیں نظر جھپکنے سے قبل حکم نہ دے دیا جائے، اس کی دونوں آنکھیں چمکدار ستاروں کی مانند ہیں ۔ ‘‘ ( مستدرک حاکم )
حضرت عزرائیل علیہ السلام کو ملک الموت بھی کہا جاتا ہے ، ان کے ذمے لوگوں کی روحیں قبض کرنا ہے۔ان کے ماتحت بہت سے فرشتے ہیں ۔ سورہ السجدہ میں اللہ فرماتا ہے:
قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ۔
’’  کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔‘‘
اس کے علاوہ کراماکاتبین جو انسان کے کندھوں پر ان کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں، سورۂ انفطار میں اللہ فرماتا ہے : وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَO كِرَامًا كَاتِبِينَO يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ O
’’یقیناً تم پر نگہبان عزت والے۔لکھنے والے مقرر ہیں، جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں۔‘‘
ہاروت اور ماروت دو فرشتے جن کا ذکر سورہ بقرہ میں کیا گیا جو عراق کے شہر بابل میں بنی اسرائیل کی آزمائش کے لیے اتارے گئے تھے۔ ابرا ہیم علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت اور قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے فرشتے، داروغہء جہنم  جسے مالک کہا گیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کا عرش تھامے ہوئے آٹھ فرشتے اور سورۂ مدثر میں جہنم کے عذاب دینے والے انیس فرشتے ۔اسی طرح جو فرشتے مسلمانوں کی مدد کے لیے بدر کے میدان میں اتارے گئے تھے، ان سب کا قرآن میں ذکر آیا ہے۔
رعد نامی فرشتے کا ذکر بھی قرآن مجید میں ملتا ہے ، یہودیوں نے آقا علیہ السلام سےیہ سوال بھی کیا تھا کہ رعد کیا چیز ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ ایک فرشتہ ہے جو بادلوں پر مقرر ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق انہیں ادھر سے ادھر لے جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ گرج کی آواز کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: یہ اسی فرشتے کی آواز ہے۔
 قبر میں مردوں سے سوال کرنے کے لیے دو فرشتے مامور ہیں جنہیں منکر اور نکیر کہا جاتا ہے۔ یہ ہر انسان سے قبر میں تین سوالات پوچھتے ہیں

پیر، 20 فروری، 2017

عفت مآب کا پردہ اور مغربی فریب

 محمد مبشربدر

ہم سب مسلمان ہیں لیکن اسلامی تہذیب سے باغی ہو کر یورپی تہذیب و تمدن کو حرزِ جان بنائے جارہے ہیں۔ اسلام جو شرم ، حیا اور شرافت جیسے اوصاف انسانوں کو سکھاتا ہے اس دین متین کی تعلیمات سے ہم کنارہ کش ہوتے جارہے ہیں۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ قیمتی چیز ایمان ہے اس کے بعد عزت و ناموس ہے ، ان کے چھن جانے کے بعد انسان کے پاس کچھ باقی نہیں رہتا ۔ ایمان جانے سے آخرت تباہ ہوجاتی ہے جب کہ عزت چھن جانے سے دنیا ہاتھ سے چلی جاتی ہے۔

آج جدیدیت کا فتنہ ہمارے ایمان و عزت دونوں پر حملہ آور ہے ۔ یورپی تہذیب ہمیں ظاہری و باطنی دونوں لباسوں سے عاری کررہی ہے، ہماری نسلیں آج جدیدیت کا شکار ہوکر اپنے ماضی سے اپنا رشتہ کاٹ رہی ہیں۔ ہم ایک بنیاد رکھتے ہیں اور ہماری بنیاد اسلام ہے ،۔ اس پر ہمیں فخر ہے ۔ یورپی تہذیب و تمدن شرم و حیا سے عاری ، حلال و حرام کے تقاضوں سے ناآشنا آج اپنی ظاہری اور  فانی چکاچوند کے نشے میں دھت ہے ، وہ اپنی خرافات مسلمانوں میں شامل کردینا چاہتا ہے ، یورپی دماغ مسلسل اسی سوچ میں سرگرداں ہیں کہ وہ کیسے مسلمان بیٹیوں کی چادر سروں سے اتروا کر بازاروں اور چوکوں میں گھمائیں پھرائیں۔ مسلمانوں کی نسل کو آوارگی کا درس دیں اور انہیں صراطِ مستقیم سے بھٹکا دیں۔

آئے روز نئے فیشنوں نے تمام حدیں پار کرلیں ہیں، مسلم ممالک کے بازار خواتین سے بھر چکے ہیں ۔ جہاں مرد کم اور خواتین زیادہ پائی جاتی ہیں۔ وہ مسلم عزت مآب بہنیں جو گھر کی ملکہ ہوا کرتی تھیں آج بازاروں کی زینت بن رہی ہیں۔ خواتین کے کثرت سے بڑہتے فیشن کی وجہ سے آج خواتین سے متعلق اشیاء کی قیمتیں مردوں کے مقابلے میں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔

اہلِ مغرب کی طرف سے دخترانِ مشرق کو یہ پٹیاں پڑہائی جارہی ہیں کہ وہ گھر سے باہر نکل کر دنیا کی دوڑ میں مردوں کے شانہ بشانہ چلیں ، چاہے اس دوڑ میں اس کا  شانہ ہی نہ رہے۔ مغربیت سے مرعوب مسلم بیٹی ذرا اپنے بند ذہنیت کے دریچے کھول کر سوچے ، کیا گھرکی چار دیواری میں پرسکون اور محفوظ زندگی بہتر ہے یا دوکان ، دفتر اور پبلک مقامات پر گزرتی غیر محفوظ اور دشوار زندگی۔ ؟ بھلا دن بھر کی تھکی ہاری اور دھکے کھاتی عورت جب شام کو گھر پہنچے گی اور  اپنے شوہر کی قربت میں بیٹھے گی تو کیا وہ ذہنی و جسمانی آسودگی کے ساتھ اپنے میاں کو وہ محبت و الفت دے پائے گی جو ایک گھریلو خاتون دیتی ہے۔؟ کیا وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت اسی طرح کرسکتی ہے جیسے ایک چار دیورای میں بیٹھی یکسو عورت اپنے آنگن میں بچے کو چلنا سکھاتی ہے ۔؟ ہر گز نہیں ! لامحالہ جیسا سکون اور یکسوئی گھر میں امورِ خانہ داری کے سرانجام دینے میں ہے ویسی باہر  تو نہیں ہوسکتی جہاں سوائے ذلت کے اور کچھ نہیں ہے۔

خالقِ کائنات نے عورت کو بنایا ہی اس طرز پر ہے کہ اس کی آواز اور جسم کی ملائمت کی طرف ہر مرد کی نگاہ اٹھتی اور اسے پوری طرح گھورتی ہے۔ اس کی نسوانی کشش لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی ہے۔ اس کے لیے عورت کی عزت اور ناموس کو بہت سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ، جس سے بچنے کے لیے کوئی لائحہ عمل اور قانون کا ہونا ضروری ہے ، جس پر عمل درآمد کروا کر صنفِ نازک کو نامحرموں کے حملوں سے بچایا جاسکے۔اس کے لیے جو نظام انسانیت کو اسلام دیتا ہے اس سے زیادہ محفوظ اور محتاط نظم اور کوئی نہیں ہے ، جس پر  عمل پیرا ہوکر عزت و ناموس کی بہتر طریقے سے حفاظت کی جاسکتی ہے اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ کارگر نہیں ہوسکتا، چاہے جتنا مرضی عورت کو کھلی چھوٹ دے کر سخت سے سخت قوانین بنا لیے جائیں۔اگر ایسا ہوتا تو امریکہ و برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر آزادانہ ماحول کے پروردہ ممالک میں عورت محفوظ ہوتی حالانکہ وہاں مرد سے زیادہ عورت کو سپوٹ کیا جاتا  ہے اور وہاں کا آئین مرد کی بنسبت عورت کو زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے، حتیٰ کہ کنواری ماں بننے والی لڑکیوں کے لیے بھی قوانین بنا دئیے گئے ہیں اور انہیں تحفظ دیا گیا ہے۔اس سب کے باوجود وہ  عورت کے ساتھ ہوتی زیادتی اور تشدد روکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

یورپ میں ساٹھ سے ستر فیصد خواتین جسم فروشی کو اپنا ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں ۔ لاکھوں عورتیں ہر سال جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ امریکہ میں حقوق نسواں اور انسانی حقوق کی جتنی تنظیمیں کام کررہی ہیں ان کی رپورٹس میں موجود ہوتا ہے کہ ہر سال ساٹھ یا ستر فیصد خواتین اپنے باس یا سینئر کے ہاتھوں جنسی بلیک میلنگ یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

عورت کو آزادی کے نام پر دی جانے والی غلامی آج واضح ہوچکی ہے اور صنف ناک آج پہلے سے زیادہ جکڑ بندیوں میں پھنس چکی ہے ۔ آج بھی عورت معاشی بھاگ دوڑ کے ساتھ اپنے گھر کو بھی خود ہی چلارہی ہے، مرد ان کےساتھ امورِ خانہ داری میں بالکل ہاتھ نہیں بٹاتے ۔ ڈاکٹر عابد علی مغرب کی طرف سے عورت کی نام نہاد آزادی سے متعلق لکھتے ہیں:

’’یورپ کے مرد نے جو عورت کو آزادی دی، وہ بظاہر آزادی تھی، لیکن حقیقی آزادی نہ تھی، اس آزادی و مساوات کا محض یہ مطلب تھا کہ مرد عورتوں سے ہر جگہ خدمت لیں، نوکریاں کروائیں اور بھاری بوجھ اُٹھوائیں اور مردوں کی عیاشی کا آسانی سے شکار بن سکیں۔‘‘

حقیقت بھی یہی ہے کہ عورت کو آج دل بہلانے کا کھلونا بنا لیا گیا ہے ۔  اسلام نے جو تقدس عورت کو ماں ، بیٹی ، بہن اور بیوی کی صورت میں دیا ہے اس کی کہیں سے بھی مثال نہیں لائی جاسکتی۔عورت کی تخلیق اس لیے نہیں کہ اسے پروڈکٹس پر چسپاں کرکے فروخت کیا جائے ، اور اشتہارات میں اس کے جسم کی عریاں نمائش کرا کر اس کی بولی لگائی جائے ، بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کے لیے تخلیق ہوئی ہے۔ جیسے مرد کی تخلیق کا مقصد ہے اسی طرح عورت بھی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اسی کی وجہ سے کائنات میں رنگ اور روشنی ہے۔ اسی سے خاندانوں کی بقا اور تسلسل ہے۔ عورت چھپا کر رکھنے کے لائق ہے اسے سب کے سامنے ظاہر کرنا  اس کی عزت اور مرتبے کو گرانا ہے۔

پیر، 5 دسمبر، 2016

رؤف و رحیم آقا



            محمدمبشربدر
               دنیا میں یہ سمجھاجاتا ہے کہ حقیقی اور بےلوث محبت وہ ہوتی ہے جو والدین کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے۔ اس میں کوئی طمع اور لالچ کا عنصر نہیں پایا جاتا، یہ  خالص اور   بے غرض  محبت ہوتی ہے۔اس کے سوا باقی محبتوں میں کوئی نہ کوئی غرض یا طمع کی ملاوٹ ہوسکتی ہے، اسے خالص کہنا مشکل ہوگا۔جب کہ ایک ایسی ہستی اللہ نے بنائی ہے جسے اپنی امت سے بےپناہ محبت اور بے انتہا شفقت تھی جس کا مقابلہ ماؤوں کی محبت بھی نہیں کرسکتی۔جو اپنی امت کی ہدایت  کے لیے راتوں کو روتے اور تڑپتے تھے ، ان کی آہوں اور سسکیوں کی آوازیں ایسی ہوتیں جیسے چولہے پر ہنڈیا ابل رہی ہو، حتیٰ کہ انہیں تسلی دینے کے لیے رب کا قرآن نازل ہوتا تھا۔’’ اے نبی! اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے؟(سورہ الکہف )
                 رسول اللہ ﷺ کی امت پر شفقت اور نرمی کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیے کہ خود خالقِ کائنات قرآن میں اس کا ذکر فرماتا ہے۔ ’’(اے پیغمبر) یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ۔ ورنہ اگرکہیں تم تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے، ان کا قصور معاف کردو ، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو۔‘‘ (سورہ آل عمران)
                 اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں پر اپنا احسان اور رحمت جتاتا ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کو ایمان والوں اور ان کی اطاعت کرنے والوں کے لیے شفیق اور مہربان بنایا ہے۔اللہ کی رحمت کے بغیر اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی۔حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ نبی اکرم ﷺ کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔‘‘مسند احمد میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوامامہ باہلی کا ہاتھ پکڑکر فرمایا:’’ اے ابو امامہ! بعض مؤمن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو آپ کا شیدا اسی لیے بنادیا تھا کہ آپ ان کے لیے نرم خو اور درگزر کرنے والے تھے، آپ ﷺ کی اسی نرم مزاجی کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل آپ ﷺ کے ساتھ لگے رہتے تھے۔
                 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’ میں آپ ﷺ کے اوصاف اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام ، سخت دل ، بازاروں میں شور مچانے  والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ درگزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں۔‘‘ ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’ لوگوں کی آؤ بھگت ، خیر خواہی اور چشم پوشی کا اللہ کی جانب سے  اسی طرح حکم کیا گیا ہےجس طرح فرائض کی پابندی کا، چنانچہ ان آیات میں صحابہ کرام سے درگزر کرنے کا حکم ہے۔اسی محبت  اور نرمی کا اثر تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ علیہ السلام کے لیے جان تک دینے کو تیار رہتے تھے۔ جب بھی حکم ہوتا سب جانثار میدان میں کود پڑتے تھے۔ ایک لیڈر کی مقبولیت کے پیچھے اس کی نرم مزاجی کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے اور یہ صفت ہمارے آقا ﷺ  میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی امت پر شفقت کو ایک اور جگہ بہت پیارے پیرائے میں بیان فرماتا ہے۔
                 ’’یقیناً تمہارے پاس تم ہی  میں سے ایک رسول آچکا ہے، جس پر تمہارا ہلاکت میں پڑنا بہت شاق ہے ۔ وہ تمہارے ایمان کا حریص اور اہلِ ایمان کے لیے سراپا شفقت و رحمت ہے۔‘‘ (سورہ توبہ)
                 اس آیت مبارکہ میں ایمان والوں کے ساتھ آقا علیہ السلام کے دووصف خصوصیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ایک رؤف دوسرا رحیم، رؤف کا مطلب ’’ سراپا شفقت اور مہربانی‘‘  کے آتے ہیں اور رحیم کا مطلب ’’بے انتہاء رحم کرنے والا‘‘ کے ہیں ، یعنی آپ مؤمنین کے لیے بے انتہاء شفیق ، مہربان اور حد درجہ رحم کرنے والے ہیں۔سورۂ شعراء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ ۔یعنی  ’’ اور جن اہلِ ایمان نے تمہاری پیروی کی ہے ، ان کے لیے اپنی شفقت کے بازو جھکائے رکھو۔‘‘  اور سورہ الحجر میں فرمایا:
لَاتَمُدَّنَّ عَینَیْکَ اِلٰی مَامَتَّعْنَابِہ اَزوَاجًاِّ مِنْہُمْ وَ لَاتَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَاخْفضْ جَنَاحَکَ  لِلمُؤْمِنِیْنَ   ﴿۸۸
’’ آپ ہرگز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رہیں۔‘‘
                 چنانچہ آپ علیہ السلام اپنے اصحاب پر انتہاء درجہ شفیق رہے ، صحابہ کرام رضٰ اللہ عنہم سے نظر نہ ہٹانا بھی آپ کی  بے انتہاء شفقت ہےجیسا کہ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے  اپنی نظریں مت ہٹائیے۔امت کا غم اور فکر تو تھا ہی شفقت بھی انتہا درجے کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آپ کا ایک وصف’’ نذیر ‘‘بیان کیا ہے،جس کا مطلب ہے شفقت کی بنا پر ڈرانے والا یعنی ہمارے نبی کریم ﷺ کا اپنی امت کو عذابِ الٰہی سے ڈرانا شفقت کی بنا پر ہی تھا جیسے ماں اپنے بچے کو شفقت کی بنا پر آگ سے ڈراتی ہے جو آگ کی طرف لپکتا ہو۔
                 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مروی  ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا:’’ میری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور جب اس آگ نے ارد گرد کو روشن کردیا ، تو اس میں پروانے اور حشرات الارض گرنے لگے ، وہ آدمی ان کو آگ میں گرنے سے روکتا ہے اور وہ اس پر غالب آکر آگ میں دھڑا دھڑا گررہے ہیں ، پس یہ میری مثال اور تمہاری مثال ہے ، میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو جہنم میں جانے سے روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ ، اورتم لوگ میری بات نہ مان کر جہنم میں گرے جارے ہو۔‘‘ امت کو جہنم کی آگ سے بچانا امت پر بے پناہ شفقت کی بنا پر ہے۔ یہ ہیں امت کے غم خوار نبی جن کو امت کی ادنیٰ سی تکلیف بھی برداشت نہیں ہے۔
                 سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے اللہ تعالیٰ کا یہ قول تلاوت کیا:  "رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي"(إبراهيم: (36)) وقال عيسى عليه السلام : "إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ"(المائدة: (118)
یعنی ’’اے رب انہوں نے گمراہ کیا بہت لوگوں کوسو جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ ماناسو تو بخشنے والا مہربان ہے(سورہ ابراہیم: ۳۶ ) ‘‘ عیسی علیہ السلام نے فرمایا : ’’ اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور تو ان کو معاف کردے تو تو ہی زبردست حکمت والا ہے۔‘‘ (المائدہ :۱۱۸)
                 پس آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اٹھا ئے اور آنکھوں میں آنسو کے موتی برسا کر فرمانے لگے ’’ اے میرے پروردگار!  میری امت کو بخش دے میری امت کو بخش دے‘‘اللہ عزوجل نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا:’’ اے جبرائیل ! تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ حالانکہ تمہارا پروردگار بہتر جانتا ہے اور ان سے رونے کی وجہ دریافت کرو۔ چنانچہ جبرائیل امین رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور رونے کی وجہ دریافت کی، آپ نے انہیں وجہ بتائی ، اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: ’’ تم محمد ﷺ کے پاس جاکر کہہ دو کہ آپ کا پروردگار فرمارہا ہے :’’ ہم آپ کی امت کے معاملے میں آپ کو راضی کردیں گےآپ کو ناراض نہیں کریں گے۔‘‘ ( مسلم)
                 مسلم شریف کتاب الفتن کی ایک دوسری روایت میں آقا علیہ السلام کی اپنی امت کے لیے شفقت صاف جھلکتی نظر آتی ہے جس میں آپ ﷺ نے اللہ عزوجل سے اپنی امت کے لیے تین دعائیں خصوصیت سے فرمائیں ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالی نے میرے لیے زمین کو اس حد تک سمیٹ اور سکیٹر دیا کہ میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھ لیے۔ میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین مجھے سمیٹ کر دکھائی گئی۔ اور مجھے سفید(چاندی)اور سرخ(سونا)دوخزانے عطا کیے گئے۔ اور میں نے اپنی امت کے لیے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ عام قحط سالی سے اسے ہلاک نہ کرے۔ اور ان پر کوئی ایسا بیرونی دشمن بھی مسلط نہ کرے جو نھیں تباہ کرکے رکھ دے۔ میرے رب نے فرمایا: اے محمد(ﷺ!) جب میں کوئی فیصلہ کردیتا ہوں تو اسے ٹالا نہیں جاسکتا ۔میں آپ کی امت کے بارے میں آپ کی یہ دعا قبول کرتا ہوں کہ میں انہیں عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر کوئی ایسا بیرونی دشمن بھی مسلط نہیں کروں گا جو انھیں تباہ کرکے رکھ دے اگرچہ سارے دشمن ان کے خلاف متحد اور مجتمع کیوں نہ ہو جائیں۔ البتہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بھی بنائیں گے۔‘‘
                 اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت پرمشقت کے خدشے کے پیشِ نظر کچھ اعمال میں احیاناً ترک بھی فرمایا کہ کہیں وہ اعمال امت میں فرض نہ ہوجائیں، ان میں سے  مسواک اور تراویح سرِ فہرست ہیں ۔ چنانچہ تراویح کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ﷺ رمضان المبارک کی راتوں میں نوافل پڑہتے تھے صحابہ کرام بھی آپ ﷺ کے ساتھ شریک ہوجاتے ، آپ نے جب اصحاب کا اس درجہ انہماک اور اہتمام دیکھا تو گھبرا گئے کہ کہیں رمضان کا قیام ( تراویح )  امت پر فرض نہ ہوجائے چنانچہ آپ نے جماعت کروانا چھوڑ دیا اور صحابہ کرام کو انفراداً پڑہنے کا حکم دیا حالانکہ آپ ﷺ جماعت کو پسند فرماتے تھے۔ اس قسم کی روایات بخاری ، مسلم اور صحیح ابن حبان وغیرہ میں موجود ہیں ۔مسواک کے بارے آ قا علیہ السلام کا یہ ارشاد مشہور ہے کہ : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ہر وضو کے وقت ان پر مسواک کو فرض کردیتا۔‘‘ امت پر شفقت کی بنا پر مسواک کو لازم قرار نہیں دیا ۔ گویا کہ آپ ﷺ نے امت کے لیے آسانیوں  کی تلاش میں رہے ہیں، حتیٰ کہ معراج کی شب پچاس نمازوں میں تخفیف کرواکے پانچ تک لے آئےاور ثواب وہی رہنے دیا۔
                 صحیحین کی روایت جس میں آقا علیہ السلام نے فرمایا :’’ اے میرے پروردگار ! یقیناً میں ایک انسان ہی ہوں ، پس مسلمانوں میں سے کسی شخص کو میں نے کوسا ہو ، یا لعنت کی ہو یا کوڑا مارا ہوتو اس کو اس شخص کے حق میں پاکیزگی اور رحمت کا سبب بنا۔‘‘یقیناً اس حدیث مبارک میں آقا علیہ السلام کی اپنی امت پر شفقت صاف محسوس ہورہی ہے کہ آپ کو کس قدر اپنے ادنی سے امتی پر مہربانی تھی کہ تکلیف دینے پر بھی اس کے لیے دعا گو ہیں۔آپ کی امت پر ایک شفقت کا پہلو یوں بھی عیاں ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی امت کی جانب سے قربانی کی ہے۔
                 حضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مدینہ کے ارادے سے مکہ سے روانہ ہوئے، جب ہم عزوزا کے قریب ( جو مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے ) پہنچے تو آنحضرت ﷺ ( اونٹنی سے ) اترے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر تھوڑی دیر تک  ( دعا مانگتے ) رہے۔ آپ ﷺ دیر تک سجدے میں رہےپھر کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے رہے۔ پھر سجدے میں گرپڑے، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ’’ میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے شفاعت کی ، چنانچہ مجھے تہائی امت کی مغفرت عطا فرمادی گئی، میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیےسجدہ میں گر پڑا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا ،  پس میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کےلیے دعا مانگی۔ چنانچہ مجھےتہائی امت کی مغفرت عطا کی گئی۔ میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیےسجدے میں گر پڑا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اور اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا، چنانچہ مجھے اخری تہائی کی بھی مغفرت عطا کی گئی تو میں اپنے رب کے شکریہ ادا کرنے کی خاطر سجدے میں گر گیا۔‘‘ ( مسند احمد و ابوداؤد)
                 اس حدیث پاک میں دنیا کے عذاب و بلا سے نجات کے لیے آقا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے تین طبقوں کے لیے خصوصی دعامانگی کہ جس طرح دیگر امتیں دنیا ہی میں اپنے جرائم اور گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں اس طرح میری امت ہلاک نہ  ہو۔ یہ آقا علیہ السلام کی امت پر بے پناہ شفقت ہے کہ امت ابھی تک بچی ہوئی ہے۔

جمعہ، 2 دسمبر، 2016

خدا پر دل مطمئن نہ ہو تو؟

                       
محمدمبشربدر
ایک دوست نے کہا : ’’ اگر مذہب انسان کو شعور سے کام لینے کی آزادی دیتا ہے تو پھر خدا پر دل مطمئن نہ ہو تو کیا اس صورت میں خدا کا انکار کیا جاسکتا ہے۔؟ ‘‘
عرض کیا :  خدا پر اسی کا دل مطمئن نہیں ہوگا جو علم کے ذرائع سے رہنمائی نہیں لے گا۔ علم کے تین ذرائع ہیں : حواسِ خمسہ ، عقلِ مجرد اور وحیٔ الٰہی ، اللہ نے انسان کو پانچ حاسے عطا فرمائے ہیں جن سے انسان کو کچھ چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے ۔ آنکھ دیکھنے کا کام کرتی ہے ، کان سننے کا کام کرتا ہے، ناک سونگھ کر کسی چیز کی بو کا علم دیتا ہے ، زبان سے ذائقہ معلوم ہوتا ہے اور  ہاتھوں سے چھو کر کسی چیز کے ٹھنڈے ، گرم ، سخت اور نرم کا علم حاصل ہوتا ہے۔
ان میں سے  ہر ایک کی اپنی الگ حد ہے ۔ کیوں کہ ایک حد حواسِ خمسہ کی ہے ، جہاں یہ حد ختم ہوتی ہے وہاں سے عقل سے سوچنے کی حد شروع ہوجاتی ہے اور جہاں عقل کی انتہاء ہوتی ہے وہیں سے وحی کی ابتدا ہوتی ہے ۔ اب خدا کی تلاش میں تینوں سے رہنمائی کی ضرورت ہے ، اور یہ تینوں ذرائع خدا کے وجود کو دلائل سے ثابت کرتے ہیں ، یہ بتاتے ہیں کہ کوئی ایک ہے جو کائنات میں تصرف کرتا ہے ، وہ ایک اکیلا اللہ ہے جس نے ہر ایک کی الگ الگ حد مقرر فرمادی ۔
حواسِ خمسہ خدا کے ہونے کو بتاتے ہیں کہ کوئی تو ہے جس نے زبان کو چکھنے اور بولنے ، آنکھ کو دیکھنے ، کان کو سننے ، ناک کو سونگھنے  اور ہاتھ کو چھونے کی طاقت دی ہے۔ ایک حاسہ دوسرے حاسے کا کام نہیں کرتا ، مثلاً زبان سونگھنے اور کان بولنے کا کام نہیں کرتے ، جب کہ یہ ایک ہی گوشت سے بنے ہیں اس کے باوجود کام الگ الگ نوعیت اور جہت سے کررہے ہیں، ہر ایک حاسہ اپنے دائرے اور حد میں ٹھیک طرح سے کام  کررہا ہے ۔ آخر وہ کون سی ذات ہے جس نے ان کے دائرے اور حدیں مقرر فرمادی ہیں    ؟ کوئی تو ہستی ہے جس نے ان کی راہیں متعین کی ہیں ، کوئی ذات تو ہے جس نے ان کے عمل کو محدود کیا ہے ، یہ خود بخود تو ایسے نہیں ہوگئے اور نہ ہی یہ ایک اتفاقِ محض ہوسکتا ہے کیوں کہ اس جیسے اتفاق کی کوئی نظیر اور مثال عالم میں موجود نہیں ہے۔
اسی طرح عقل بھی خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کام بغیر فاعل کے نہیں ہوتا ، ہر فعل کا کوئی نہ کوئی کرنے والا فاعل لازمی  ہوتا ہے ، ہر مصنوع  کا کوئی نہ کوئی صانع ضرور ہوتا ہے، جب ایسا ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ اتنی بڑی عظیم الشان کائنات از خود بغیر خالق کے کیسے وجود میں آئی۔؟ سورج بھی اندازے سے لگ گیا اور چاند کی بھی از خود منزلیں مقرر ہوگئیں ، اسی طرح ستارے بھی از خود جگمگانے لگےاور کہکشائیں بھی اپنے تئیں وجود پا گئیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ۔؟یہ نظام اتنا خوبصورتی اور صحیح اندازے سے جیسے وجود میں آگیا۔کیا یہ محض ایک اتفاق ہے ؟ پھر تو حسنِ اتفاق ہے!! ایسے اتفاق کی ملحدین کوئی ایک  مثال ہی پیش کردیں۔
اسی طرح وحیٔ الٰہی بھی خدا کے وجود پر دلائیل قائم کرتی ہے اس کے دلائل سے تو پورا قرآن بھرا ہوا ہے اس کا مطالعہ ہی انسانیت کو اندہیرے سے نکال دیتا ہے۔


پھر بھی خدا کے وجود پر کسی کا دل مطمئن نہیں ہوتا تو اسے کج روی اور عناد ہی کہا جاسکتا ہے ، جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

بدھ، 16 نومبر، 2016

انسانی زندگی پر فلموں کے مضر اثرات


                     
 محمد مبشر بدر

فلم انڈسٹری نے دنیا کو ایک نئی جہت اورموڑ دے دیا اور پورے کلچر کو بدل کر ہی رکھ دیا ہے۔ یہ جہاں دیکھنے والوں پرایک خاص اثر ڈالتی  ہیں ، وہاں انسانی دماغوں کو بھی اپنے سحر میں مبتلا کردیتی ہیں ۔ سکرین پر ہر سیکنڈ بدلتے مناظر انسانی دماغ میں تجسس اور جستجو پیدا کردیتے ہیں کہ اس سین کے بعد کون سا منظر ہوگا ۔ ہر لمحہ بدلتے مناظر لوگوں کی توجہ اپنے طرف مبذول کیے رہتے ہیں ، اگر بیچ میں کوئی بول پڑے تو سبھی ناگواری محسوس کرتے ہوئے بولنے والے کو روک دیتے ہیں تاکہ دیکھنے میں خلل پیدا نہ ہواور سسپینس برقرار رہے۔
            فلموں اور ڈراموں سے متعلق لوگوں کی آراء دو قسموں میں بٹی ہوئی ہیں ۔ بعض لوگ ان میں مثبت پہلو  دیکھ کر انہیں تعمیرِ معاشرہ میں ایک اہم عنصر قرار دیتے ہیں جب کہ دوسرا گروہ  ان کے مضر اثرات اور نقصان دہ پہلوؤں  کی جانب دیکھ کر انہیں  انسانی اقدار و اخلاق کی تباہی کا سبب بتلاتا ہے ۔
            اس میں کوئی شک نہیں کہ فلموں اور ڈراموں نے انسانیت کو بجائے اخلاقیات ، حیاء داری ، نیکی ، تقویٰ ،  دیانت داری ،  برداشت اور تعمیرِ معاشرہ کے بداخلاقی ، بے حیائی ، فسق و فجور ،  بددیانتی ، تکبر ،  عدم برداشت اور تخریبِ معاشرہ کا ہی درس دیا ہے۔ انسانی رویوں میں بڑی حد تک تبدیلی پیدا کرنے میں فلموں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس میں شہرت ، عزت اور پیسے کی ہوس ہی پائی جاتی ہےجن کی تلاش میں  اداکار ہر گھٹیے سے گھٹیا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔اور خواتین پیسے اور شہرت کی بھوک میں اپنا جسم تک ظاہر کرنے اور عزت لٹوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں ، بلکہ الٹا اسے ایک آرٹ اور فن سمجھا جاتا  ہے۔
ٹیلی ویژن ، ڈش ، کیبل ، انٹر نیٹ نے  لوگوں کی ذہنیت کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ پوری مشرقی تہذیب بدل کررکھ دی ۔ بچیوں کا لباس اور اور لباس پہننے کا ڈھنگ بدل گیا، حجاب چہروں سے اتر گیا اور سروں سے دوپٹہ غائب ہو گیا، سوچنے سمجھنے کے معیار اور پیمانے تک بدل گئے۔کل تک جن برائیوں کو برائی سمجھا جاتا تھا آج اس کو برائی ہی نہیں سمجھا جاتا۔جن عریاں مناظر کو کل تک انسان اپنے لیے دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا آج اپنی بیٹیوں ، بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتا ہے، مجال ہے کہ چہرے پر کچھ ملال آئے اور کچھ غیرت جاگے۔
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ فلمیں انسان کی ادبی زندگی پر بڑا  اثر ڈالتی ہیں اور اس سے اردو میں روانی اور پختگی پیدا ہوتی ہے ، جب کہ ان  سے انسان کی ادبی صلاحیت پر کچھ اثر نہیں پڑتا ، الٹا وہ متکبرانہ جملے اور ڈائیلاگ دماغ میں گھومتے رہتے ہیں جو ہیرو یا ولن بولتے ہیں ۔ حتیٰ کہ آج وہ ڈائیلاگز بچوں اور جوانوں کی زبان پر اس طرح جاری ہوتے ہیں ایسے قرآن پاک کی سورتیں بھی جاری نہیں ہوتیں ،  وہ خود کو ہیرو  سمجھنے لگتے ہیں   ۔بلکہ ہر شخص خود کو ہیرو کے کردار میں تصور کرتا ہے اور خود کو اسی گیٹ اپ میں دیکھنا پسند کرتا ہے ، کوئی بھی خود کو ولن کے روپ میں دیکھنا پسند نہیں کرتا چاہے اس کا کردار کتنا ہی منفی کیوں نہ ہو۔
جہاں تک میرا خیال ہے کہ ان فلموں کے جذباتی اور پرتشدد مناظر کی وجہ سے معاشرے میں عدم برداشت کا عنصر پروان چڑہا ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک ایکشن فلم ریلیز ہو کر سینما گھروں اور انٹرنیٹ پر آتی  ہے جنہیں مسلسل دیکھ کر جوانوں میں اسی تناسب سے لڑائی جھگڑے کا شوق و جوش بھی پروان چڑھ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو سگریٹ،  شراب اور چرس کے علاوہ آوارگی کا درس انہی فلموں سے ملتا ہے ۔حال میں دنیا میں بڑہتی ہوئی منشیات فروشی کے کاروبار کے سدِ باب کے لیے تمام ممالک نے ایڑہی چوٹی کا زور لگادیا لیکن منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بجائے کمی کے الٹا خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔حتیٰ کہ عالمی رپورٹ میں بڑہتے ہوئے منشیات کے استعمال کا سبب فلموں کو قرار دیا جا چکا ہے ، جن میں ہیرو کو بار بار ایکشن سے سگریٹ ، شراب وغیرہ پیتا  دکھایا جاتا ہے ، جنہیں دیکھ کر نوجوان بھی ان مضر صحت اشیاء کا شکار ہوجاتے ہیں۔
جرائم کا فروغ بھی انہی فلموں کا مرہون منت ہے، جن سے جرائم پیشہ افراد وارداتوں کی تربیت لیتے ہیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ  انڈیا کی بت پرستانہ اور مشرکانہ تہذیب انہی فلموں کی وجہ سے مسلمانوں میں در آئی ہے ۔آج مسلمان کی نسل بجائے خدائے واحد کی ذات پر یقین رکھنے کے بجائے دیوی دیوتاؤوں ، مندروں اور گرجوں کی اسیر ہورہی ہے ۔ آج  مسلمان کا بچہ شادی میں باپ سے پوچھتا ہے پاپا! شادی میں سات پھیرے کب لیے جائیں گے۔؟ اسی طرح آج مسلمان بچے  گھروں میں کھلونوں کے سامنے ہاتھ جوڑے ہندوانہ پوجا پاٹ کی ایکٹنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہندوانہ کلچر آج جس تیزی سے مسلمان نسلوں میں پھیل رہا ہے اس کی بنیادی وجہ انڈیا کی فلمیں اور ڈرامے ہیں۔شادی ، غمی کی تمام رسمیں ہندو کلچر سے آج ہمارے معاشرے میں رواج پکڑتی جارہی ہیں۔اسلامی احکامات کا مذاق اڑایا جاتا اور انہیں روندا جاتا ہے۔  نکاح و شادی اور دیگر معاملات میں مسلم و غیر مسلم کی تفریق ختم کرکے انسانیت کو بطورِ مذہب پیش کیا جارہا ہے۔
فلموں میں سماجی مسائل کا حل کم اور عریانیت زیادہ پیش کی جارہی ہے جس کی وجہ سے بچے قبل از بلوغت جوان اور نوجوان قبل از نکاح بےکارے ہورہے ہیں ۔فحاشی کا عنصر پہلے سے بہت بڑھتا جارہا ہے ، جس کے نقصانات نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ہر فلم میں ایک ہی جیسی پریم کہانی ہوتی ہے جس میں ہیرو اپنی ہیروین کو حاصل کرنے کے لیے سماج سے ٹکراجاتا ہے اور ہزاروں افراد کا خون کرکے اپنا گھر بساتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی ہیں پھر بھی شوق سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ پروفیسر گیل ڈائنز نے لکھاہے کہ :‏ ”‏جس طرح کی فحاشی کو چند سال پہلے نہایت ہی بےہودہ خیال کِیا جاتا تھا،‏ آج‌کل اُسے معمولی سی فحاشی خیال کِیا جاتا ہے۔‏“‏ یہ سب مسلسل فلم بینی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، جس کے حل کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتا بلکہ اسے برائی اور گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا ، جو کہ سنگین گناہ ہے۔


ان فلموں کی سب سے بڑی خرابی فیشن پرستی کو رواج اور تقویت دینا ہے ۔فلم بینی کو کسی صورت محمود نہیں کہا جاسکتا یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا شیطانی ہتھیار اور فتنہ ہے جس نے بچوں اور بچیوں کے اذہان کو غلاظت سے بھردیا ہے ۔انڈیا فلم انڈسٹری میں سب سے اوپر جارہا ہے لیکن خواتین کی عصمت دری بھی اسی تناسب سے بڑہتی جارہی ہے، عصمت دری کے حساب سے انڈیا نمبر ون ملک قرار دیا جاچکا ہے ۔جب کہ ہالی وڈ کی خباثت ، فحاشی اور عریانی تو سب پر سبقت لے گئی ہے۔ آج سنبھلنے کا وقت ہے ، اپنی اور اپنی اولاد کی صحیح دینی تقاضوں کے مطابق نگہداشت بہت ضروری ہے ورنہ دنیا بھی جائے گی اور عقبیٰ بھی۔

اتوار، 6 نومبر، 2016

ایک کا سات سو گنا




محمدمبشربدر

انسان دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور جاتا بھی  خالی ہاتھ ہی ہے۔ دنیا میں جو کچھ اس کی ملک میں آتا ہے وہ سب اللہ عزوجل کی دین ہے جو وہ اپنے لطف و کرم سے اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔وہ انسانوں کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے، وہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی، اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔انسان کہتا ہے ’’میرا مال ، میرا مال ‘‘ حالانکہ اس نے جو کھایا وہ فائدہ میں رہا جو آخرت کے واسطے بھیجا وہ ذخیرہ ہوگیا جو اسے بڑہا چڑہا کر دیا جائے گا اور جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑا اس کے بارے قیامت کے دن اس سے سوال کیا جائے گا۔
فطری طور پر انسان کے دل میں مال کی محبت ڈال دی گئی ہے، چنانچہ انسان کے لیے مال کی کمی طبعاً ناگوار ہوتی ہے، وہ ذخیرہ اندوزی کا قائل ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس سونے چاندی کے انبار لگے ہوں ،لیکن اس کا پیٹ مٹی ہی بھر سکتی ہے ۔  جیسا کہ حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر گھر میں داخل ہوتے وقت یہ فرماتے تھے ’’  اگر ابن آدم کے پاس  سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تمنا کرنے لگے گا کہ اس کے ساتھ تیسری بھی مل جائے اور ابنِ آدم کا پیٹ تو مٹی ہی پر کرے گی۔‘‘( بخاری و مسلم)
مال کی اس حد درجہ محبت کی وجہ سے انسان میں بخل کا مرض پیدا ہوجاتا ہے ، جس کی شریعتِ مطہرہ میں مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سخی ہے اور سخاوت کو پسند کرتا ہے ۔ بخیل کبھی بھی اللہ کا دوست نہیں بن سکتا، اسی وجہ سے خدائے لم یزل نے انسانوں کو اپنے پاکیزہ مالوں  میں سے خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے اور قرآن مقدس میں جابجا صدقہ و خیرات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ عبادات دو قسم کی ہیں :ایک کا تعلق انسان کے بدن سے ہے جسے بدنی عبادات کہا جاتا ہے اور دوسری قسم کا تعلق انسان کے مال سے ہے جسے مالی عبادات کہا جاتا ہے۔ مالی عبادات میں صدقات و خیرات وغیرہ شامل ہیں جن کی دو قسمیں ہیں ’’صدقاتِ واجبہ اور صدقاتِ نافلہ‘‘ صدقاتِ واجبہ میں اول  درجہ زکوٰۃ کا ہے ، جو ارکانِ اسلام میں اہم ترین رکن ہے اور مشہور قول کے مطابق قرآن مقدس میں بیاسی (۸۲) جگہ نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم ہے ، جہاں جہاں صرف زکوٰۃ کا ذکر ہے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ترجمہ:
’’ اور میری رحمت ( ایسی عام ہے کہ ) تمام چیزوں کو محیط ہے ۔ پس اس کو ان لوگوں کے لیے( کامل طور پر خاص طور سے )  لکھوں گا جو خدا سے ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ۔‘‘
آیت مبارکہ میں زکوٰۃ دینے والوں کے لیے اللہ کی رحمت کاملہ کی مکمل بشارت ہے، جو بہت بڑی سعادت اور نعمتِ عظمیٰ ہے کہ محض چند روپے اللہ کے راستے میں دینے سے انسان اتنے بڑے انعام کا مستحق ہوتا ہے ۔زکوٰۃ سے مال پاکیزہ اور محفوظ ہوجاتا ہے، چنانچہ حدیثِ پاک میں آیا ہے کہ:
’’ اپنے مالوں کو زکوٰۃ کےذریعے محفوظ بناؤ ، اپنے بیماروں کا صدقہ کے ذریعے علاج کرو، بلا اور مصیبت کی موجوں کا دعااور اللہ کے سامنے عاجزی سے مقابلہ کرو۔‘‘ (ابوداؤد ، طبرانی، بیہقی)
صدقہ دینے سے مصیبتیں ٹل جاتی ہیں ، صدقہ جہنم کی آگ سے بچاؤ ہے۔ فقراء و مساکین پر خرچ اللہ کی رضا اور خوشنودی کا سبب اور آمدنی کا ذریعہ ہے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ اے ابنِ آدم تو( میرے ضرورت مند بندوں پر ) اپنی کمائی خرچ کر ، میں اپنے خزانے سے تجھے دیتا رہوں گا۔‘‘( بخاری و مسلم)
سورہ بقرہ میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں  کے روپے کو اس دانے سے تشبیہ دی گئی ہے ، جسے زمین میں بویا جائےپھر اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں ، یعنی کہ ایک دانے سے سات سو دانے بن جاتے ہیں ، اسی طرح اللہ اخلاص والوں کے اخلاص کے بقدر مقدار میں اضافہ فرماتا جاتا ہے۔ ایمان والا ایک روپیہ خرچ کرے اللہ اس کو سات سو گنا تک بڑہا کر واپس کرتا ہے۔جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔
’’ کون ہے جو اللہ کو قرض دے کہ اللہ اس کو بڑہا چڑہا کر لوٹائے گا۔‘‘القرآن
اسلام کا یہ حکم انسانیت کی فلاح اور پرسکون معاشرہ تشکیل  دینے میں  اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر تمام مال دار لوگ اپنے مالوں  کی زکوٰۃ نکالیں تو معاشرے میں غربت و افلاس ختم کی جاسکتی ہے، جس کے ہاتھوں تنگ آکر اچھے بھلے شریف لوگ بھی ڈاکہ زنی اور چوری چکاری کی عادت اپنا لیتے ہیں۔دنیا میں خود کشی کا عنصر تیزی سے پھیل رہا ہے اس میں سب سے زیادہ تعداد غربت کے ہاتھوں مجبور افراد کی ہوتی ہے جو بے روز گاری اور افلاس کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ہم شادی بیاہ اور دیگر رسومات میں فضول پیسہ اڑا دیتے ہیں ، محض دل بہلانے کے واسطے لاکھوں کروڑوں روپے ضائع کردیتے ہیں ، لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اللہ نے ہمارے مالوں میں غرباء کا حق رکھ دیا ہے۔ 

انسانیت کی ابتداء اور انتہاء


    محمد مبشر بدر
خلقتِ انسانی ایک انوکھے انداز میں ظہور پزیر ہوئی ، مٹی سے بنے انسان کو نورانی مخلوق پر ترجیح دے کر اسے مسجودِ ملائکہ کا اعزاز دینا قدرت کی زبردست حکمت تھی ۔ حضرتِ انسان کو وسیع و عریض اور پرتعیش جنت کی سیر کروا کر مقامِ اعلیٰ سے دنیا کے بے ثبات ،  بے مزہ اور پرمشقت مقامِ ادنیٰ پر آباد کرنا ایک بہت بڑے امتحان کی تمہید تھی، جہاں نہ جنت سا سکون میسر تھا ، نہ وہ راحت و چین ، نہ ہی ویسی  نعمتوں کی بہتات تھی اور نہ ہی وہ فراغ و لذت آفرینی۔

            فرشتے یہ دیکھ کر بول اٹھے’’ خدایا! یہ انسان دنیا کی وحشتوں میں کیوں کررہ سکے گا؟ جہاں نہ من مانی ہے اور نہ ہی جی بہلانے کا سامان ، نہ ہی لذت نفسانی کے اسباب میسر ہیں اور نہ ہی وہ حاکمانہ حیات ۔‘‘ ارشادِ باری ہوا ’’ ہم انسانوں کو زمین میں ایک خاص وقت تک کے لیے منفعت دیں گے پھر انہیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہوگا۔میں ان میں امید پیدا کردوں گا جس کی بنا پر یہ زمین پر بسیرا کریں گے۔ ان میں سے نیکوں کاروں کو جنت میں دوبارا وہی مقام عطا کروں گا جو ان سے چھن چکا ہے اور ان کے بدکرداروں کو جہنم کا ایندہن بناؤں گا۔

            چنانچہ انسان کو زمین پر بھیج دیا گیا اور اس کو خیر و شر کی دو راہیں سجھا دی گئیں  ’’ وَھَدَیْنَاہٗ النَّجْدَیْنِ ‘‘  اب اس کی مرضی ، چاہے اللہ کی رضا والے راستے پر چل کر کامیاب و سرخرو ہو یا شیطان کے نشاناتِ قدم کی اتباع کر کے گمراہی کے راستے پر خود کو ڈال دے اور ناکامی و نامرادی کو اپنے سر لے۔انسان کی دنیاوی زندگی ایک امتحان ہے ، اس کی مثال ایک حباب و بلبلے کی سی ہے جو تہہ سے اٹھ کر سطحِ آپ پر آکر فنا ہوجاتا ہے۔یہ جسدِ خاکی بھی کائنات کی فنائیت کی طرح فنا ہوجائے گا ، پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ حیات دے کر اپنے روبرو لا کھڑا کرے گا۔ ’’ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (۲۶) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (۲۷) ’’ سب پر فنا ہےبس  ایک اللہ کو بقا ہے۔

`           کامیابی کا راستہ اسلام ہے جو انسان کی مکمل رہنمائی کرتا ہے اور  اسے نیکی کا حکم  کرتا اور برائی سے روکتا ہے ۔ اسلام کی بنیاد کلمہ ٔ توحید پر ہے ، جس میں خدا کی وحدانیت اور حضرت محمدﷺ کی رسالت کا اقرار ہے۔ اسلام میں انسانوں کو برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکنے اور بچانے کے لیے ایک اہم نظریہ پیش کیا گیا ہے جسے نظریۂ آخرت کہتے ہیں ۔ اس نظریۂ آخرت کو سن کر ملحدین مذاق اڑاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں کہ بھلا مرنے کے بعد کی زندگی کیوں کر سچ ہوسکتی ہے ، جب کہ قبر میں انسان مر کھپ جاتا ہے، ہڈیاں بوسیدہ ہو کر چورہ چورہ ہوجاتی ہیں۔  ان کے اس نظریئے کی کھلے الفاظ میں تردید کی گئی اور واضح الفاظ میں فرمایا گیا : آیاتِ ربانی کا مفہوم ہے۔’’ جس ذات نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا  کیا اس کے لیے تمہیں دوبارا پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔جس ذات نے تمہیں عدم سے وجود دے کر حیاتِ دنیوی بخشی وہ تمہیں دوبارا نابود کرکے بھی وجود میں لا سکتا  ہے۔بھلا دیکھو تو! آسمان کا بنانا زیادہ مشکل ہے یا انسان کابنانا؟۔ حالانکہ اس ذاتِ باری تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے مضبوط آسمانوں کو بنایا، جن میں کوئی پھٹن اور شگاف بھی نہیں ہے۔ اس کے لیے  تمہیں دوبارا پیدا کرنا کچھ بھی ناممکن نہیں۔‘‘

اللہ فرماتا ہے:

            وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا(۴۹) قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا (۵۰) أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا (۵۱) يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا(۵۲)

’’اور یہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہمارا وجود ہڈیوں میں تبدیل ہوکر چورا چورا ہوجائے گا تو بھلا کیا اُس وقت ہمیں نئے سرے سے پیدا کرکے اُٹھایا جائے گا ؟‘‘ کہہ دو کہ : ’’ تم پتھر یا لوہا بھی بن جاؤ یا کوئی اور ایسی مخلوق بن جاؤ جس کے بارے میں تم دل میں سوچتے ہو کہ (اس کا زندہ ہونا) اور بھی مشکل ہے، ( پھر بھی تمہیں زندہ کردیا جائے گا) ‘‘ اب وہ کہیں گے کہ : ’’ کون ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا ؟‘‘ کہہ دو کہ : ’’ وہی زندہ کرے گا جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ پھر وہ تمہارے سامنے سر ہلا ہلا کر کہیں گے کہ : ’’ ایسا کب ہوگا؟‘‘ کہہ دینا کہ : ’’ کیا بعید ہے کہ وہ وقت قریب ہی آگیا ہو۔ ‘‘ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اُس کے حکم کی تعمیل کرو گے ، اور یہ سمجھ رہے ہوگے کہ تم بس تھوڑی سی مدت ( دنیا ) میں رہےتھے ۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل)

            خداوندِ کریم قرآن میں انسان کے دوبارہ پیدا کیے جانے اور اپنے روبرو کھڑا کرنے کے بارے متعدد مقامات پر کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ بندگانِ خدا کو اپنی فنائیت اور بے ثباتی کا یقین آجائے تاکہ  وہ خواہشات کی اتباع کے بجائے  خدا کی منشاء و مراد کی پیروی کریں۔انسان اپنی ابتدا سے لے کر انتہا تک اپنے خالق کی نعمتوں اور احسانات میں جکڑا ہوا ہے۔ اس کا وجود ، اس کے لیے لاکھوں چیزوں کو ایجاد محض اتفاق اور خوش فہمی نہیں بلکہ ایک خالقِ قیوم کی قدرت کا مظہر اور ایک امتحان ہے جس سے انسان کو گزرنا ہے ، اس لیے کامیاب اور عقلمند انسان وہ ہے جو اپنا وقت  ضائع کیے بغیر اپنے مولا کی رضا کو تلاش کرے ۔ اس کے حکموں کو دل و جان سے تسلیم کرکے ان کی پیروی کرے  اور ابدی بہشت کا مستحق بن کر ہمیشہ کے مزے اڑائے۔

تلاوتِ قرآن کی حیرت انگیز تاثیر

                                مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک   معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود می...