تحریر:
مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ
اولاد قدرت کا انمول تحفہ
ہے ۔ اولاد کی قدر و قیمت ان سے پوچھیے جو اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں ۔اولاد سے آنگن میں چہچہاہٹ اور رونق لگی رہتی ہے،
اولاد سے خوشیاں اور رنگینیاں جنم لیتی ہیں۔وہ کون بدنصیب ہوگا جس کو اولاد کی
چاہت نہیں ہوگی۔ شادی کے بعد تقریبا ہر انسان اللہ سے نیک اور فرمانبردار اولاد کا
خواہاں اور متمنی رہتا ہے۔لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ والدین کی طرف سے اولاد کی
دینی تربیت کی طرف مسلسل کوتاہی برتی جارہی ہے ، مادی مفادات کو مد نظر رکھ کر صرف
دنیاوی تعلیم پر انحصار کرکے انہیں اسلامی تعلیم و تربیت سے دور رکھا جارہا ہے ،
جس کی وجہ سے نوجوان نسلیں تیزی سے بڑہتے ہوئے بے دینی کے سیلاب میں بہے جارہی
ہیں۔
بچوں کے ننھے منے اذہان
جو شیشے کی طرح صاف ستھرے اور بے داغ ہوتے ہیں بچپن میں کی جانے والی تربیت کا نقش
اپنے اندر سموتے ہیں ، بچہ والدین اور معاشرے کے افراد کی تقلید کرتا ہے، ان کے
طور و اطوار اپناتا ہے، ان سے باتیں سیکھتا ہے اور ان کی نقل اتارتا ہے۔مجمع
الزوائد میں بحوالہ طبرانی نبی کریم ﷺ فرمان لکھا ہے کہ آپ علیہ السلام نے
فرمایا:’’ العلم فی الصغر کالنقشِ فی الحجر۔‘‘
یعنی بچپن کی تعلیم بچے کے ذہن میں ایسے راسخ ہوجاتی ہے جیسے پتھر پر نقش پختہ
ہوتا ہے۔‘‘ اس لیے اپنی اولاد کی دینی تربیت ہی ان کا قد کاٹھ معاشرے میں اونچا
کرسکتی ہے۔
بچہ جب بولنے لگے تو
اسےسب سے پہلے ’’ کلمۂ توحید ، لاالٰہ
الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ یاد کروائیں ۔ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے لا الٰہ
الا اللہ کہلواؤ اور موت کے وقت ان کو اسی کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی تلقین کرو۔‘‘
(بیہقی) حقیقت میں یہ اللہ کی وحدانیت اور جناب نبی اکرم ﷺ کی رسالت کا اقرار ہے۔ایک
اور حدیث میں ہے کہ جس کا اول اور آخر کلمہ لاالٰہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل
ہوجائے گا۔انہی احادیث مبارکہ کےتناظر میں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیں اولاد کی کن
خطوط پر پرورش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کو
بچپن سے ایسی نیک باتوں کی ترغیب سے پہلو تہی کی جانے لگی ہے اور انہیں بجائے کلمہ
، سورتیں اور احادیث پاک یاد کروانے کے الٹا گانے یاد کروائے جاتے ہیں اور ڈانس
سکھائی جاتی ہے۔
بچوں پر ماں باپ اور گھر
والوں کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے، اگر ماں باپ میں اتفاق و اتحاد ، پیار و محبت
اور آداب ہوں تو یہی صفات بچوں میں بھی منتقل ہوتی ہیں ، اسی طرح والدین کی نیکی
اولاد کی طرف منتقل ہوتی ہے، والدین گھر میں نماز ، روزے اور تعلیم و تعلم کا
ماحول بنائیں تو اولاد بھی اسی ماحول میں پروان چڑھ کر ان نیکیوں کے برکات اور
اثرات سے فیض یاب ہوتی ہے۔اولاد عموماً والدین کے طرزِ زندگی میں ڈہلتی ہے
خواہ مذہب ہو ، رسوم و رواج ہوں یا عادات
و خصائل ، اس لیے والدین کو پہلے اپنی اصلاح
کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
- كلُّ
مولودٍ يُولَدُ على الفطرةِ ، فأبواه يُهَوِّدانِه ، أو يُنَصِّرانِه ، أو
يُمَجِّسانِه ، كمثلِ البَهِيمَةِ تُنْتِجُ البَهِيمَةَ ، هل ترى فيها جَدْعَاءَ .
’’ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر
پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اس کو یا تو یہودی بنا دیتے ہیں ، یا نصرانی یا مجوسی
بنادیتے ہیں ، کیا تم نے( پیدائشی طور پر) ان کے جسم کا کوئی حصہ کٹا ہوا دیکھاہے۔‘‘
( بخاری )
بچے کی تربیت کے ابتدائی سات سال نہایت ہی
اہم ہوتے ہیں اس میں وہ اپنے مستقبل کے مزاج کا نقشہ خود کھینچ لیتا ہے ، اس دور
کو یہ کہہ کر ضائع اور رائیگاں نہیں کرنا چاہیےکہ ابھی تو بچہ ہے ، بڑا ہوکر خود
بخود سیکھ جائے گا۔ یہ ہماری بنیادی غلطی ہے۔ شکاگو کے مشہور ماہر تعلیم فرانسس دے
لینڈ پارکر بچوں کی تعلیم و تربیت پر لیکچر دے رہے تھے ، اختتام پر ایک خاتون نے
سوال کیا:۔ ’’مجھے اپنے بچے کی تعلیم کا آغاز کب سے شروع کرنا چاہیے۔؟ ‘‘’’ آپ
کے ہاں بچہ کب تک ہونے والا ہے ۔؟‘‘لینڈ پارکر نے پوچھا : ’’ ہونے والا‘‘ عورت حیران
ہوکر بولی ’’ وہ تو پانچ سال کا ہونے والا
ہے۔‘‘ حد ہوگئی خاتون آپ بچے کی تربیت کےپہلے
بہترین پانچ سال ضائع کر چکی ہیں۔‘‘حقیقت یہی ہے کہ پیدا ہوتے ہی اپنے بچوں
کی تربیت شروع کردینی چاہیے ، ان کے سمجھدار اور بڑا ہونے کا انتظار نہیں کرنا
چاہیے۔نہیں تو پانی سر سے گزرجانے کے بعد
سوائے پچھتانے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
بچوں کے ذہنوں میں بچپن
سے ہی انبیائے کرام ؑ ، صحابہ ؓ و صحابیات ؓ، امہات المؤمنین ؓ، محدثینؒ ، فقہاءؒ
اور مسلمان فاتحینؒ کی عزت و عظمت
بٹھادینی چاہیے، اور بچپن سے ہی ان کا یقین اللہ کی ذات پر پختہ کرنا چاہیے، کھانے
پینے ، سونے جاگنے ، بات کرنے ، پانی پینے ، کپڑے پہننے ،بڑوں کی عزت کرنے ،مجلس
میں بیٹھنے ، نیکی کرنے اور برائی سے بچنے
جیسے آدابِ زندگی اچھے سے سیکھا دینا چاہیےاور سات سال کی عمر میں انہیں نماز کا
حکم کرنا چاہیے۔ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پہلے شوہر کا بیٹا نبی کریم ﷺ کی پرورش
میں تھا ، جب کھانا کھانے بیٹھے تو بچہ ہونے کی وجہ سے ارد گرد سے ہاتھ گھما کر کھا
رہے تھے، نبی کریم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے سمجھایا ۔ ’’ بیٹے پہلے بسم
اللہ پڑہو پھر اپنے سامنے سے کھاؤ ۔‘‘
معاشرہ افراد سے تشکیل
پاتا ہے اور معاشرے کا امن اور فساد افراد کے بگاڑ اور سنوار کا مرہون منت ہوتا ہے۔یہی
بچے یا تو تربیت پا کر معاشرے کے لیے تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں یا پھر تربیت نہ
ہونے کی وجہ سے معاشرے کے لیے بگاڑ کا موجب بن سکتے ہیں ، اس لیے ان کی دینی تعلیم
و تربیت پر کامل توجہ دے کر ان کے دل میں خدا خوفی اور فکر آخرت پیدا کیجیے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر انسان کا سنورنا
مشکل ہوجاتا ہے۔
بچوں کے ساتھ شفقت کا
پہلو اختیار کیا جانا چاہیے ، نہ تو حد سے زیادہ محبت ہو کہ لاڈ میں آکر بچہ بگڑ
جائے اور نہ ہی حد سے زیادہ سختی روا رکھی جائے کہ جس سے وہ باغی بن جائے اور آپ
سے نفرت کرنے لگے۔ درمیانہ درجہ اختیار کرنا چاہیے۔ خود نبی اکرم ﷺ اپنے نواسوں
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے کس قدر پیار فرماتے انہیں سینے سے لگاتے ،
چومتے اور سونگھتے تھے۔ یہ طرز آج ہمیں اپنانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ یاد رہےکہ نیک اولاد
انسان کے لیے صدقہ جاریہ ہے نبی کریم ﷺ نے کے فرمان کا مفہوم ہے:
: إِذَا مَاتَ ابنُ آدم انْقَطَعَ
عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلْمٍ يُنْتَفَعُ
بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ. رَوَاهُ مُسْلِم
ترجمہ: " جب ابن آدم
مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے ( کہ وہ جاری رہتی
ہیں) صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، یا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے
دعا کرتی رہے۔"
غور کیجیے کہ انسان مرنے
کے بعد کس چیز کا زیادہ محتاج ہوتا ہے جب کہ اس کا سب کچھ اس سے منقطع ہوچکا ہوتا
ہے ایسے میں نیک اولاد اس کے لیے دعائیں کرتیں رہتی ہے جس کا فائدہ مرنے کے بعد تک
انسان کو پہنچتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے بعد اگر کوئی بیدار نہ ہو اور
اولاد کی نیک تربیت سے غفلت برتے تو وہ نہ صرف خود خسارے میں پڑ چکا ہے اور اتنے بڑے اجر عظیم سے محروم
ہورہا ہے بلکہ اپنی ذمہ داری نہ نبھانے کی وجہ سے گناہ کا مرتکب ہورہا ہے کیوں کہ
انسان سے اس کی اولاد بارے سوال ہوگا کہ اس کی تربیت کیسی کی۔ اللہ فرماتا ہے اے
ایمان والے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندہن انسان
اور پتھر ہیں۔" (تحریم) جہنم کی آگ سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ خود کو اور اپنی اولاد اور اہل خانہ کو دینی
علوم سے روشناس کرکے انہیں اعمالِ صالحہ کا پابند بنائے۔ تبھی نجات ممکن ہے ورنہ
ہمیشہ کا نقصان و خسارا ہے جو بہت گھاٹے کا سودا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں