جمعہ، 26 اکتوبر، 2018

اسلام کا تصور آخرت


محمد مبشر بدر

          دنیا کی زندگی ایک چھوٹی ، عارضی اور ناپائیدار  زندگی ہے۔ انسانی خواہشات پورا کرنے کے لیے اس کا دامن تنگ ہے۔ دنیا دارالعمل ہے ، یہاں انسان کو ہرنیک و بد عمل کرنے کا اخٹیار دیا گیا ہے، یہ دارالجزاء نہیں ہے کہ انسان کو اس کے ہر اچھے برے عمل کا بدلہ دیا جائے ۔یہ کائنات اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ ہے ، یہ سزا و جزاء کے لیے ناکافی ہے ۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک اور جہان بنایا ہےجسے آخرت کہتے ہیں۔ اگر ہم آخرت کے وجود کو تسلیم نہ کریں ،  دنیا اور اس کی موت کو انسانی زندگی کا خاتمہ قرار دے دیں تو اس سے زیادہ بے معنیٰ اور بے مقصد زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔قدرت نے اس کائنات میں ہر چیز جوڑا جوڑا بنائی ہے اس لیے دنیا کا جوڑا آخرت ہے۔
اسلام کے بنیادی عقائد میں آخرت ،توحید و رسالت کے بعد تیسرے نمبر پر ہے، جسے قرآن نے کھول کر بیان فرمایا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ ان سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا ، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ (سورۃ الجاثیہ : ۲۶)
اس آیت میں انسان کی حیات و موت کے بعد کی زندگی کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں موت کے بعد دوبارا قیامت کے دن زندہ کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے،اور جو لوگ اس دن کا انکار کرتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ جانتے نہیں، جس دن وہ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے تب وہ جان لیں گے کہ اللہ کا وعدہ سچ تھا۔
آخرت کے دن کے نظریئے کو عقل بھی تسلیم کرتی ہے کہ انسان کی خواہشات لامحدود ہیں جنہیں اس جہاں میں پورا کرنا ناممکن ہے ۔ انسان کی زندگی کا مقصد صرف چند روزہ زندگی ، پھر مر کر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجانا نہیں ہےبلکہ اس کا ہر عمل یا تو اسے ہمیشہ کی کامیابی کی طرف لے جارہا ہے یا ہمیشہ کی ناکامی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ دنیا میں خیر و شر کی جنگ ، عدل و انصاف کے تقاضوں کا پورا نہ ہونا، ظلم و ستم ، نیکی و بدی کا وجود ، قاتل اور ظالم کا بغیر سزا کے دندناتے پھرنا،کمزور ، ضعیف اور ناتواں کا اپنے حق کے لیے مارا مارا پھرنااس بات کا متقاضی ہےکہ ایک جہان ایسا ہو جس میں عدل و انصاف کے تمام تقاضے  پورے کیے جائیں ، جس دن میزانِ عدل قائم کی جائے، ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ اور مظلوم کو اس کا حق دلایا جائے، خیر و شر اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کیا جائے، خالق کائنات نے ایسا دن مقرر کرکھا ہے جسے قرآن میں متعدد ناموں سے ذکر کیا گیا ہے۔
یوم الجزاء، یوم الدین  ، یوم الاخرۃ، یوم الفصل ، یوم القیامۃ، یوم العدل ، یوم الحساب ، یوم العاجلۃ ، یوم الحسرۃ ، یوم الواقعۃ ، یوم القارعۃ، یوم الراجفۃ، یوم الرادفۃ، یوم الطلاق، یوم الفراق، یوم التناد، یوم العذاب، یوم الفرار، یوم الحق، یوم الجمع، یوم التغابن اور یوم الساعۃ وغیرہ قیامت کے اسماء ہیں ۔اس کا زیادہ مشہور نام یوم القیامۃ ہے جسے قرآن مجید میں ستر بار ذکر کیا گیا ہے۔
قیامت قائم کرنے اور انسان کادوبارہ  زندہ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی شانِ عدل و انصاف ظاہر فرمائےاور نیکوکاروں کو بہترین جزا دے اور بدکاروں کو ان کے اعمالِ بد کی سزا دے ۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ سورہ انعام میں فرماتا ہے: ’’پھر تمہارے پروردگار کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ ساری باتیں بتا دے گاجن میں تم اختلاف کرتے تھے۔‘‘
سورہ یونس میں فرماتا ہے۔’’ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے ، اللہ کا کیا ہوا وعدہ سچا ہے ۔ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو انصاف کے ساتھ جزاء دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گااور کفر کی وجہ سے ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔‘‘
سورۃ طٰہٰ  میں فرماتا ہے: ’’ قیامت آنے والی ہے جسے میں پوشدہ رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو۔‘‘
ان آیات کے تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے بدکار جو عیش و راحت میں ہیں اور بہت سے نیکوکار ظالموں کے ظلم کا شکار ہیں، اس لیے دنیا میں عدل و انصاف اپنے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔انسان کو دنیا میں بے مقصد و بے فائدہ نہیں پیدا کیا گیا کہ اس کی زندگی ہی سرے سے بے کار و بے سود ہو اللہ نے انسان کی زندگی کو ایک عظیم مقصد دیا ہے اور اللہ ہی کی طرف اس کی پلٹ ہے۔ سورہ مؤمنون میں ہے۔ ’’ سو کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کرنہیں آؤ گے۔‘‘
بروزِ قیامت حساب و جزا پر یقین رکھنا ایمان کے لیے ضروری ہے۔ اس دن انسان کے اعمال کے لیے میزان قائم کیا جائے گا اور اس سے حساب و کتاب لیا جائے گا ۔ اس کے کیے کے مطابق اسے بدلہ دیا جائےگا۔سورہ غاشیہ میں اللہ فرماتا ہے۔ ’’بے شک ہماری طرف ہی ان کو لوٹ کر آنا ہے پھر ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔‘‘سورہ انعام میں  ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’ اور جو کوئی ( اللہ کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ قیامت کے دن حساب کے بارے بیان کیا جائے گا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اپنا کرم بھی بیان فرمارہا ہےکہ قیامت کے دن ایک نیکی کا بدلہ دس گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور برائی کا بدلہ ایک ہی برائی کے بقدر ہوگا۔
سورہ انبیاء  میں اللہ میزانِ عدل کےبارے بیان فرماتا ہے۔ ’’ اور قیامت کےدن ہم انصاف کی ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل ہوگا تو اسے بھی ہم لے آئیں گے اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔‘‘
جنت اور جہنم آخرت کا انجام کار ہیں، حساب و کتاب کے بعد یا تو انسان کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے گا یا پھر جہنم کا، یہ مخلوق کے ابدی ٹھکانے ہیں۔ جنت اہل ایمان کے لیے نعمتوں کا گھر ہے جہاں وہ عیش و عشرت سے رہیں گے ، وہاں ان کے دل بہلانے کا مکمل سامان موجود ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ سورہ البینہ میں فرماتا ہے ۔ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے یہی لوگ ساری مخلوق میں سب سے بہترہیں۔ ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ ان سے خوش ہوگا، اور وہ اس سے خوش ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہو۔‘‘ ایک اور جگہ ارشاد ہے۔ ’’ پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان چھپا کر رکھا گیا ہے۔(سورہ السجدہ)
جب کہ جہنم اللہ کا عذاب ہے جو اس نے مجرمین اور ظالم کافروں کے لیے تیار کررکھا ہے، جو اللہ کے رسولوں اور اس کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ سورہ الکہف میں فرماتا ہے۔’’ بلاشبہ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کررکھی ہے ، جس کی قناتیں انہیں گھیرلیں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تانبے کی طرح پگھلا ہوا ہوگا، جو چہرے کو بھون دے گا۔بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی ہی بری آرام گاہ۔‘‘
ایمان والوں کے لیے آخرت بہت ہی بہتر اور عمدہ جہان ہےقرآن پاک میں اللہ نے اسے اہل ایمان کے لیے بہتر، اعلیٰ اور ہمیشہ رہنے والا جہان قرار دیا ہے۔ سورہ الضحیٰ میں آقا علیہ السلام کو فرمایا گیا ہے کہ آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہت بہتر ہےاور سورہ الاعلیٰ میں ایمان والوں کو فرمایا ۔ ’’ بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہوحالانکہ آخرت بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘ سورہ القصص میں اللہ فرماتا ہے۔’’وہ آخرت والا گھرتو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے، جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں، اور نہ فساد، اور آخری انجام پرہیز گاروں کے حق میں ہوگا۔‘‘

استہزاء ! ایک منافقانہ روش


محمد مبشر بدر
شروع اسلام سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ شیطان کے پیروکار اسلام اور مسلمانوں کا استہزاء اور مذاق اڑاتے آرہے ہیں ، جو دشمنوں کی بے بسی کی واضح دلیل ہے ، کیوں کہ کفر یہ جان چکا ہے وہ مسلمانوں کو دلیل اور جنگ کے میدان میں نہیں ہرا سکتا اس لیے مسلمانوں کی مقدس شخصیات اور دین کی گستاخیاں کر کے مسلمانوں کے ایمانی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے۔اب جب کہ ابلاغ کے ذرائع کا پھیلاؤ ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے اپنی بات دنیا تک پہنچانے کا میدان ہاتھ آیا ہے تو منافقین ، کفار اور دشمنان اسلام کا بغض کھل کرسامنے آیا ہے جو صبح و شام اللہ ، رسالت مآب ﷺ ، مقدس شخصیات ، دین اسلام اور احکامات خداوندی کا کھلے عام مذاق اڑاتے اور گستاخیاں کرتے ہیں جو کہ ایک تشویش ناک امر ہے اور فساد و بد امنی پھیلانے کا موجب ہے۔شروع میں اس کی ابتداء کفار و شیطانی ایجنٹوں نے کی پھر رفتہ رفتہ دین و ملت کے مقام سے ناآشنا  نام نہاد  مسلمان بھی ساتھ شریک ہوگئے ۔
کبھی حدود اللہ کو پامال کرنے کی باتیں ہیں تو کبھی شعائر اسلام کی توہین کی جاتی ہے ،کبھی پردے کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو کبھی داڑہی ، ٹوپی اور پگڑی پر تنقید کی جاتی ہے، کبھی علماء کی عیب جوئی کی جاتی ہے تو کبھی تاریخ اسلام میں تحریف کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہے، کبھی مساجد کو تخریب کے اڈے کہا جانے لگاہے  تو کبھی مدارس کو دہشت گردی کے مراکز اور جہالت کی فیکٹریاں کہا جاتا ہے، کبھی اسلامی ناموں پر اعتراض کیا جاتا ہے تو کبھی عربی زبان پر منہ بگاڑا جاتا ہے۔ کبھی اسلامی تہذیب و تمدن کو مٹانے کی باتیں ہیں تو کبھی سنت رسول ﷺ پر عمل پیراؤوں پر کھلکھلا کر ہنسا جاتا ہے۔ نئی اسلام بیزار نسل پے در پے ایسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے لگے ہیں جن میں رفتہ رفتہ تیزی آرہی ہے اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو یہ دنیا تباہی کے دھانے تک جاپہنچے گی اور دنیا میں خانہ جنگی چھڑ جائے گی۔ آخر ضرورت ہی کیا ہے ایسے مسائل کو چھیڑنے کی ، کیا دنیا کے باقی مسائل حل ہوگئے ہیں جو اب مذہب ، اسلام ، پیغمبر اسلام ﷺ ،قرآن  اور علماء کرام پر تبرا کرنا ہی رہ گیا ہے۔کیا اس سے دنیا میں امن آئے  گا یا انارگی پھیلے گی؟
ایک مسلمان اور مؤمن سے یہ بات بعید ہے کہ اس سے اسلام کے خلاف کوئی  ایسی بات صادر ہو جس سے اسلام پر طنز ہو یا اس کا مذاق اڑے۔ بلکہ وہ اس لمحے سے پہلے مرجانا پسند کرے گا چہ جائیکہ اسلام اور متعلقات اسلام اس کے ہاتھوں مخدوش اور مطعون  ہوں۔مسلمان کی متاعِ حیات ہی اسلام ہے جسے وہ اپنے لیے سرمایۂ افتخار سمجھتا ہے۔وہ اپنے لیے کفر میں جانا اسی طرح ناپسند کرتا ہے جس طرح آگ میں جانا۔گویا ایمان والے کے لیے ایمان اور اسلام سے بڑھ کر کوئی چیز بھی اہمیت و افضلیت نہیں رکھتی۔
یہ منافقانہ طرز اور روش ہے کہ وہ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور ان سے استہزاکرتے ہیں۔ آج کل تو علی الاعلان اپنی معاندانہ اور منافقانہ روش کا اظہار کیا جاتا ہے جب کہ دورِ نبوی ﷺ میں منافقوں کی یہ حالت تھی کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف دل ہی دل میں معاندانہ رویہ رکھتے تھے لیکن کسی ذاتی مصلحت یا مفاد  کی بنا پرقصداً اس کا اظہار نہیں کرتے تھے ، تاہم پھر بھی کبھی کبھار دل کا غبار باہر آہی جایا کرتا تھا،  جس کا اظہار ان کے رویّوں اور باتوں سے ہوجاتا تھا ۔ مسلمان سمجھ جاتے کہ یہ مؤمن نہیں منافق ہے۔تاہم منافقین جب گوشۂ خلوت میں جمع ہوتے اور حلقہ جما کر اسلام کے خلاف اپنا بغض نکالتے اور مذاق اڑاتے تو ساتھ ڈرا بھی کرتے تھے کہ کسی طرح نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو اس کا علم نہ ہوجائے اور ان کی قلعی کھل نہ جائے۔وہ جانتے تھے کہ وحی الٰہی کا نزول ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ پیغمبر علیہ السلام کو ان تمام امور سے باخبر کردیتا ہے جو اسلام کے خلاف منافقین کے مابین ہوتےرہتے  ہیں ۔
چنانچہ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ ان کی اسی حالت کو بیان فرماتا ہے ۔
’’ منافق لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کہیں کوئی ایسی سورت نازل نہ کردی جائے جو انہیں ان ( منافقین ) کے دلوں کی باتیں بتلادے ۔ کہہ دو کہ : (اچھا ) تم مذاق اڑاتے رہو، اللہ وہ بات ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے تھے۔‘‘  ( آیۃ ۶۴ )
منافقین کی طرف سے ان کی نجی محفلوں میں کی جانے والی اسلام مخالف باتیں اور مذاق و ٹھٹھا جب کھل جاتا اور مسلمان اس پر مطلع ہوجاتے تو کہتے  ’’ ہم تو یہ باتیں دل لگی میں کرتے ہیں سچ مچ میں تھوڑی ناں کرتے ہیں۔چنانچہ آگے اللہ اسی بات کو بیان  فرماتا ہے:
’’ اور اگر تم ان سے پوچھو تو یہ یقیناً یوں کہیں گے کہ : ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ کہو کہ : کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کررہے تھے؟‘‘ ( آیۃ ۶۵ )
یہ گویا کہ ان کا ایک بہانہ تھا جس کی بنا پر وہ مسلمانوں کے عتاب سے بچنے کے لیے گھڑتے تھے حالانکہ یہ کوئی دل لگی نہیں تھی، واضح گستاخی اور اپنے کفر کاخفیہ اعلان تھا جسے اللہ تعالیٰ تشت از بام کردیتا، اور ان کا کفر واضح ہوجاتا ۔اسلام کا مذاق اڑانا اور اسے حقیر سمجھنا کفر ہے اسی طرح متعلقات اسلام یعنی جو چیزیں اسلام سے نسبت رکھتی اور اس سے متعلق ہیں ان کا استہزاء بھی موجب کفر ہے۔ہاں اگر کوئی منافق اپنے نفاق سے توبہ کرلے اس کے لیے اللہ کی طرف سے معافی ہے اور جو اپنے نفاق اور عملِ بد پر ڈٹا رہے اس کے لیے درد ناک سزاہے ، چنانچہ  اگلی آیت میں اللہ منافقین کے بہانوں کا رد کرکے  فرماتا ہے:
’’ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کا اظہار کرنے کے بعد کفر کے مرتکب ہوچکے ہو ۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معافی دے بھی دیں تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے ، کیوں کہ وہ لوگ مجرم ہیں ۔ ‘‘ ( آیۃ ۶۶ )
توبہ کرنے کے بعد انسان کے حالتِ کفر اور نفاق میں کیے ہوئے گناہ مٹ جاتے ہیں بشرطیکہ انسان اظہارِاسلام کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی گستاخی کا ارتکاب نہ کرے ورنہ اس کی سزا موت ہے ، جس سے فرار ممکن نہیں۔
سورۂ  مائدہ میں اللہ نے ایمان والوں کو سختی سے روک دیا کہ وہ دین کا مذاق اڑانے والوں کو  دوست بنائیں۔ چنانچہ فرمایا:
’’ مؤمنو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں ( خواہ ) وہ ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے یا کفار ہوں اگر تم مؤمن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔‘‘
اس آیت کو پڑھ کر میری ہر غیرت ایمانی رکھنے والے مسلمان سے درخواست ہے کہ وہ کسی گستاخ اور دین کا مذاق اڑانے والے سے دوستی نہ رکھے ، نہ ایسی مجلس میں بیٹھے جہاں دین یا دین والوں کا مذاق اڑایا جارہا ہو۔ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں اللہ ہمیں بھی انہی ظالمین میں شمار نہ فرمادے۔آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ اغیار تو غیر رہے اپنے مسلمان بھی مغربی پروپیگنڈوں کا شکار ہوکر اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں اور اسلام کی بنیادوں پر تیشے چلاتے ہیں جو کہ انتہائی ایمان لیوا اور مہلک عمل ہے۔ اس منافقانہ عمل سے خود کو بھی بچائیں اور اپنی اولاد کو بھی۔


آزادانہ قرآن اور حدیث پڑہنے کے نتائج

محمد مبشر بدر
علماء کرام کی رہنمائی کے بغیر آزادانہ قرآن و حدیث کے تراجم سے استفادہ کرنے کے مہلک نتائج سے سامنا ہوتا رہتا ہے۔ ایک واقعہ اسی نوعیت کا پیش خدمت ہے۔یہ لاہور کا واقعہ ہے ایک پچاس سالہ بزرگ ہوٹل پر نانبائی کے پیشے سے منسلک تھا۔ میں اکثر نان لینے کے لیے اس کے ہاں آنا جانا رہتا تھا۔ اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا آپ مجھے عالم دین لگتے ہیں، عرض کیا میں طالب علم ہوں، اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی پوچھا پھر تو آپ نے قرآن ترجمے کے ساتھ پڑہا ہوگا۔
جی بالکل الحمدللہ!
بھائی جان! میں بھی قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑہتا رہتا ہوں ، جتنی بار پڑہوں اتنا مزہ آتا ہے۔
ماشاء اللہ بہت خوب یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ لیکن ساتھ ہی علماء کرام کی رہنمائی بھی لیتے رہا کریں، کبھی کوئی مشکل مقام آجاتا ہے جسے سمجھنے میں غلطی لگ سکتی ہیں اور ایک مسلَّم موقف کو سمجھنے میں خطا سے سوچ غلط سمت ٹک سکتی ہے اور انسانی گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ میں نے اس سے ایک اصولی بات کی۔اس نے کہا : نہیں محترم! قرآن کو اللہ نے سمجھنے لیے آسان بنایا ہے اس کے لیے کسی عالم کی ضرورت نہیں۔ ترجمہ ہی کافی ہے، اور اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ کسی عالم سے رہنمائی لیں، ویسے بھی آج کے دور میں کون سا عالم قابل اعتماد ہے۔ سب ہی ماشاء اللہ ہیں۔
اس کی یہ بات سن کر سمجھ گیا کہ یہ بھی علماء بیزاری کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ علماء سے دوری ہی ہے۔ اگر یہ علماء کرام کے قریب ہوتے ، ان سے استفادہ کرتے تو شاید یہ بدگمانی پیدا نہ ہوتی جس میں آج لوگ مبتلاء ہورہے ہیں۔ ساتھ ہی ایک بڑی وجہ یہ بھی سمجھ آئی کہ علماء نے درس قرآن دینا چھوڑ دیا ہے یا انتہائی کم کردیا ہے جس کی وجہ سے عوام کی ٹھیک سے اس طرح رہنمائی نہیں ہو پارہی جس طرح مغربی میڈیا اور دیگر شیطانی گروہ انہیں اپنے جال میں جکڑ رہے ہیں۔ اس لیے علماء کو اس سنجیدہ مسئلے کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی کہ کس طرح وہ عوام میں ربط بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور انہیں دین کے قریب کرتے ہیں۔
خیر! میں وہاں سے چلا آیا: کچھ دنوں کے بعد اس کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا تو اس نے باتوں باتوں میں قرآنی آیات کی تفسیر چھیڑ دی کہ مولانا صاحب! مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے کہ جب ہم جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے تو ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں سے نکل بھی نہیں سکیں گے۔ کیسا درد ناک عذاب ہوگا۔ اور پھر اس آیت کا ترجمہ سنانے لگے جو کافروں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جس میں ان کا ابدی جہنمی ہونا بیان کیا گیا تھا۔
میں یہ سن کر چونکا اور اصلاح کی غرض سے کہا کہ اس آیت کا تعلق کفار اور مشرکین کے ساتھ ہے جب کہ مسلمانوں کے بارے آیا ہے کہ اگر وہ اپنی خطاؤوں کے سبب جہنم میں چلے بھی گئے تو ایک دن اپنی سزا پوری کرکے جہنم سے نکال لیے جائیں گے۔
میری بات سن کر اس نے کہا مولوی صاحب! آپ قرآن کا حکم تبدیل کررہے ہیں، اور میرے سامنے غلط بیانی کر رہے ہیں، قرآن کی آیات سب کے لیے ہیں کسی کافر وغیرہ کے لیے نہیں اس لیے اس آیت میں میرے لیے ہی پیغام ہے۔ اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی اہل ایمان کی دیگر آیات جن میں ہے کہ اللہ توبہ کرنے سے انہیں معاف کردے گا اور احادیث مبارکہ جن میں وضاحت سے مذکور ہے کہ اہل ایمان ایمان کی بدولت جہنم سے نکال یے جائیں گے اس کے سامنے پیش کیں ، لیکن اس نے ایک بھی نہ سنی اور اپنی ضد پر ڈٹا رہا کہ جو بھی جہنم میں گیا وہ ہمیشہ رہے گا بس۔ آخر جب اس کی ضد دیکھی تو اسے ہدایت کی دعا دے کر واپس لوٹ آیا۔
اسے اس کے آزادانہ مطالعے نے ایک تو ضدی بنا دیا کہ صرف وہی ٹھیک قرآن سمجھا ہے باقیوں نے نہیں سمجھا دوسرا اس کا نظریہ بھی گمراہانہ خوارج والا ہوگیا کیوں کہ انہی کا نظریہ تھا کہ جو جہنم میں داخل ہوگیا وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر وہ احادیث اور آیات لگانے سے طوالت کے پیشِ نظر گریز کررہا ہوں۔ بے شک قرآن ایک راہ ہدایت ہے اس سے ہدایت ہی پھیلتی ہے لیکن کم علمی کی بنا پر کچھ لوگ اس کے معانی ومطالب سے غلط مفہوم و مطالب کشید کرلیتے ہیں اور انہیں عوام میں پھیلانا شروع کردیتے ہیں جو کہ ایک برترین گمراہی ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔

پیر، 7 مئی، 2018

مذاح اور دل لگی کے آداب اور حدود


محمد مبشر بدر
          زندگی کا نشاط اور تازگی انبساط ، مذاح اور دل لگی میں ہے۔ وہ لوگ خود  میں زیادہ کھنچاؤ اور کشش رکھتے ہیں جو ظریف الطبع اور ہنس  مکھ ہوتے ہیں بنسبت ان لوگوں کے جو خشک مزاج اور کھردرے یا چپ چاپ رہتے ہیں۔زندگی کا مزہ ہی خوش رہنے اور دوسروں کو خوش رکھنے میں ہے۔مزاح کہتے ہیں کسی کو تکلیف دیے بغیر اس سے خوش طبعی کرنا۔ چونکہ اس طرح کی مذاح میں کسی کی دل آزاری اور خفت و ملامت نہیں ہوتی اس لیے اس کے جواز میں دو رائے نہیں ہیں۔چنانچہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ظرافت طبعی اور مذاح کی بہت سے واقعات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  میں نے آپ ﷺ سے بڑھ کر کسی کو مذاح والا نہیں دیکھا۔
یہ مذاح جائز حدود اور حق طریق پر ہوتی  جس میں کوئی نامناسب پہلو کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی، اور نہ ایسی ہوتی جس سے دل مردہ ہوجائے کیوں کہ کثرت ضحک سے آقا علیہ السلام نے سختی سے منع فرمایا کہ اس سے دل مردہ ہوتا ہے۔ ایسی مذاح بھی مسلمانوں کے لیے ناجائز ہے جس سے انسان آخرت  اور ذکر خداوندی سے غافل ہو، دل مردہ ہوجائے  اور مقاصد شریعت کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے۔ چنانچہ شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ ’’ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ  آپ ﷺ ہم سے مذاح فرماتے ہیں ؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ہمیشہ حق بات کہتا ہوں۔‘‘  آپ علیہ السلام کو خود پر کامل ضبط حاصل تھا جس سے حدود سے تجاوز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے اگر کسی کو خود پر قابو نہ ہو کہ وہ حدود کو قائم نہ رکھ سکے اس کے لیے مذاح سے بچنا لازم ہے۔
اگر کسی کی دل آزاری اور تکلیف کی نیت سے مذاح کی جائے تو وہ سخریہ کہلاتا ہے  جو شریعت میں ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ آقا علیہ السلام نے فرمایا: نہ اپنے مسلمان بھائی سے جھگڑا کرو اور نہ خوش طبعی۔ اس روایت میں خوش طبعی سے مراد وہ خوش طبعی  جو کسی کی دل آزاری،  تکلیف اور خفت  کا باعث ہو۔ چنانچہ چند واقعات سیرت نبویہ ﷺ سے پیش کیے جاتے ہیں تاکہ آقا علیہ السلام اور صحابہ کرام ؓ کی خوش طبعی اور ظرافت کا پہلو سامنے آجائے۔
’’ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہم سے گھل مل کر رہتے تھےحتیٰ کہ میرے چھوٹے بھائی  سے فرمایا: اے عمیر! چڑیا کا کیا بنا؟ ان کی ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتے تھے وہ مرگئی تھی۔‘‘ آقا علیہ السلام کا یہ فرمانا خوش طبعی کی بنا پرتھا۔
’’ ایک بوڑہی عورت آقا علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی  اور جنت میں جانے کے لیے دعا کی درخواست کی۔ آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں تو جنت میں نہیں جائیں گی۔ تو وہ عورت روتی ہوئی واپس ہوئی ۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرمایا: اسے خبر دے دو کہ  بوڑہی عورتیں بڑہاپے کی حالت میں جنت میں نہ جائیں گی (بلکہ جوان ہو کر جائیں گی) کیوں کہ اللہ نے فرمایا: انا انشأنٰہن انشاءً فجعلنٰہن ابکارا: یعنی ’’ ہم نے وہاں کی عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے ۔ پس ہم ان کوایسا بنایا ہے کہ وہ  کنواریاں ہیں۔‘‘ یہ آقا علیہ السلام کی بوڑہی خاتون سے خوش طبعی تھی، ساتھ ہی قرآنی خوش خبری بھی سنا دی کہ وہ جوان اور کنواری ہو کر جنت میں داخل ہوں گی۔
ترمذی کی روایت میں ہے کہ آقا علیہ السلام نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مذاح میں فرمایا : ’’ اے دو کانوں والے!‘‘ گویا یہ فرما کر آپ ﷺ نے حضرت انس ؓ کی فہم و سمجھ کی تعریف فرمائی۔اسی طرح ایک شخص نے آپ ﷺ سے سواری کے لیے جانور مانگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم تجھے اونٹنی کے بچے  پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا یارسول اللہ! اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا؟ فرمایا: ہر اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔ یہ بھی ظرافت اور خوش طبعی کی اعلیٰ مثال  ہے مذاحیہ مزاج والوں کو اپنی مذاح میں اس اسلوب  کی  اتباع کی ضرورت ہے۔
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں غزوۂ تبوک میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ چمڑے کے ایک چھوٹے خیمے میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: اندر آجاؤ! میں نے عرض کیا کیا سارا ہی آجاؤ؟ حضور ﷺ نے فرمایا: سارے ہی  آجاؤ۔چنانچہ میں اندر چلا گیا۔‘‘ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ سارا ہی آجاؤں خیمے کے چھوٹا ہونے کی بنا پر تھا۔ ان کے اس  جملے میں وہ خوش طبعی ظاہر ہوئی جس سے بلا اختیار ہنسی آجاتی ہے۔
یہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین مذاح کی چند مثالیں پیش کی ہیں۔ اس سے ہم میں موجود معاشرتی مذاح کا پیمانہ مقرر کیا جاسکتا ہے ، جب کہ آج کے دور میں مذاح کے نام پر ایسے طریقے ایجاد کیے جارہے ہیں جو سراسرمزاجِ  شریعت کے خلاف اور دین و عقبیٰ  کے تقاضوں سے ہٹ کر ہیں۔ایسی خلافِ شریعت مذاح کو پیش کرنے میں میڈیا کا بنیادی اور کلیدی کردار ہے۔ لوگوں کو ہنسانے کے لیے ایسے پروگرامز پیش کیے جارہے ہیں جن میں اداکار جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساتا ہے، جب کہ جھوٹ بولنے والوں پر قرآن میں اللہ کی لعنت آئی ہےاور تمام برائیوں کی جڑ بھی جھوٹ کو قرار دیا گیا ہے۔آقا علیہ السلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے مذاح  حقیقت پر مبنی ہوتی تھی اس میں جھوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔


جمعرات، 3 مئی، 2018

اپنے اور اہل خانہ کے ایمان کی حفاظت کیجیے



 محمد مبشر بدر

یہ دنیا دھوکا ہے جس میں ہم سب مبتلاء ہیں، جب سے مادیت نے اپنے پر پھیلائے اور دنیا نے اپنی ظاہری زینت کھولی تب سے ہم سب اس میں اتنا مست و منہمک ہوگئے ہیں کہ اپنی آخرت تو دور دنیا میں رشتوں ناتوں کا بھی احساس بھول گیا۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس کا کمایا ہوا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا، ہرگز نہیں اس نے فنا ہونا ہے اور انسان کے مرنے کے بعد غیروں کا ہوجانا ہے۔ موبائل کا فتنہ اور میڈیا کی خباثت اپنے زوروں پر ہے، ایسے میں ایمان کی فکر کرنا بہت ہی ضروری امر ہے، ایک ہی متاع ہی تو ہے جس نے نجات دلوانی ہے۔ یہ ہی چھن گئی تو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور ہمیشہ کی تباہی و بربادی مقدر بن جائے گی۔ ایمان بچانے کے لیے ضروی ہے کہ نیک محفلوں میں بیٹھیں اور اپنے عقائد کی حفاظت کریں، غلط عقائد والوں کی صحبت سے بچیں، شرک و بدعات سے کنارہ کریں، علماء صالحین کی صحبت اختیار کریں کہ اللہ والوں کی صحبت سے ہی اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے اور عبادت کی حلاوت نصیب ہوتی ہے۔ یہ فتنوں کا دور ہے، اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ایمان کی حفاظت کرنا اور خود کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانا ضروری اور لازمی امر ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ فرماتا ہے۔
 ’’ اے ایمان والو! خود کو اور اپنے گھروالوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندہن انسان اور پتھر ہوں گے۔ جو کہ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘ ( التحریم )
ایک اور جگہ نبی علیہ السلام کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے ۔
’’  اے نبی آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجیے اور خود بھی  اس پر ثابت قدم رہیے۔ ہم آپ سے رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم آپ کو دیں گے اور بہتر انجام تقویٰ ہی کا ہے۔‘‘ (سورہ  طٰہٰ)
اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ حکم فرمارہا ہے کہ اپنے اہلِ خانہ ،اولاد کو  نماز کا حکم کرتے رہیں۔ حالانکہ نبی علیہ السلام خود اور آپ کے اہلخانہ نماز کے سختی سے پابند  تھے لیکن امت کو اہمیت بتانے کے لیے نبی علیہ السلام کو خطاب کیا گیا ہے تاکہ  لوگ خود بھی دین پر قائم رہیں اور اپنے اہل خانہ کی بھی نگہداشت کرتے رہیں۔ قرآن پاک کی آیت ’’ وانذر عشیرتک  الاقربین‘‘  ( سورہ الشعراء ) کہ ’’ اے نبی! اپنے قریبی رشتہ داروں کو  خبر دار کر دیں۔‘‘ میں بھی یہی حکم ہے کہ گھر والوں کی طرف سے تغافل نہیں برتنا چاہیے بلکہ اس پہلو کو سنجیدگی سے لینے کی بہت ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ کو حق جل و علا نے شروع میں ہی یہ حکم دے دیا تھا کہ اولاً اپنے اہلخانہ اورقریبی رشتہ داروں  کو دین کے بارے خبردار کیجیے اس کے بعد فرمایا کہ اپنے اعلانیہ لوگوں کو اللہ کے احکامات سے خبردار کیجیے اور ان کی تربیت کیجیے، چنانچہ آقا علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔
جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ عموماً اپنے اعمال و ایمان کی ہی فکر سے پہلو تہی کی جارہی ہے اور جہاں کہیں والدین یا سرپرست خود نماز یا دیگر عبادات  بجا لارہے ہیں وہاں وہ اپنے ماتحتوں اور اولاد کے بارے سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ والد صبح کی نماز میں خود مسجد  آکر اپنی اولاد کو گھر سوتا چھوڑ کر آتا ہے ۔ انہیں جگا کر بے آرام بھی نہیں کرنا چاہتے کہ مبادا جان سے پیاری اولاد  کی نیند خراب نہ ہوجائے۔ یہ لوگ اپنی اولاد و اہل خانہ کے خیر خواہ نہیں بلکہ بدترین دشمن ہیں جو اپنی جنت تو دیکھ رہے ہیں لیکن اپنی اولاد کو جہنم کا ایندہن بننا گوارا کررہے ہیں۔ کل قیامت میں والدین سے اولاد کی دینی تربیت و تعلیم بارے ضرور پوچھا جائے گا، ہم دنیاوی تعلیم اور ڈگری کے پیچھے تو بھاگتے ہیں اور اولاد پر اس حوالے سے کڑی نظر رکھتے ہیں جب کہ دینی تعلیم و تربیت کے حوالے سے تساہل، غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہیں، چنانچہ بخاری شریف اور متعدد کتب احادیث میں صحیح سند کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’ سن لو! تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحتوں  کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘
اس ارشاد کو سن کر بھی اگر آنکھ نہ کھلے تو ہم سے بڑھ کر بد نصیب اور محروم الہدایت اور کون ہوسکتا ہے۔ یہ غفلت کا وقت نہیں بیداری اور فکر کا وقت ہے۔ ایک مومن کی زندگی ہی آقا علیہ السلام کی اتباع و اطاعت میں گزرتی ہے، ہم کیسے مومن ہیں کہ ہر آن اور ہر پل غفلت میں گزر رہا ہے۔ خود تو ٖغافل رہے اہل خانہ کے بارے بھی غفلت برت رہے ہیں۔ ہم خود اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں۔ ترمذی شریف کی روایت کا مفہوم ہے کہ ’’ حسن اخلاق کی تعلیم اور اچھی تربیت سے بڑھ ایک والد کا اپنی اولاد کے لیے اور کوئی بڑا تحفہ نہیں ہے۔‘‘

تبلیغی اجتماع رائیونڈ میں میری سرگزشت


محمد مبشر بدر
ہر  سال کی طرح اس سال بھی تبلیغی عالمی اجتماع رائیونڈ کی تاریخ قریب آگئی اور احباب روانگی کی تیاریاں کرنے لگے۔9 نومبر 2017ء کو اجتماع کا دوسرا مرحلہ شروع ہونا تھا۔چنانچہ بسیں، گاڑیاں بھر بھر کر رائیونڈ پنڈال کی طرف روانہ ہوگئیں اور میں اپنی کسی مجبوری کی بنا پر بروقت نہ جاسکا، اگلے دن بروز جمعہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد مہمان آگئے ان سے فراغت پائی تھی کہ بھائی عدیل میو کی کال آئی اور اجتماع پر جانے کا ارادہ معلوم کیا ، میں نے جانے کی حامی بھری اور نمازِ مغرب کے بعد ہی تیار ہوگئے ساتھ ہی قاری عثمان فاروقی بھی تیار تھے ہم ڈسکہ سے لاہور روانہ ہوئے لاہور پہنچ کر معلوم ہوا کہ داتا علی ہجویری رحمہ اللہ  کا عرس چل رہا ہے جس کی بنا پر بعض مقامات پر ٹریفک بند ہے چنانچہ کچھ راستہ پیدل چلے ۔ ہر طرف اوباش اور آوارہ لوگ ڈھول کی تاپ پر رقص کررہے تھے اور اسے عرسِ کی مناسبت سے ثواب کی چیز سمجھ رہے تھے۔  ان کی اس حالت پر دل گرفتہ ہوا کہ ان کم علموں کو کون سمجھائے کہ اللہ کی اولیاء ان ڈھول، تماشے ، رقص و سرود جیسی تمام خرافات سے بری ہیں اور ان کی تعلیمات کے سر سر خلاف اور منافی ہیں۔ ان کے لیے ہدایت کی دعا کی اور آگے چل پڑے۔
چلتے چلتے دریائے راوی پر پہنچے اور وہاں سے رکشہ کروا کر سیدھا ریلوے اسٹیشن پہنچے ۔ دھند اور سردی اپنا اثر دکھارہی تھی  اور وقت بھی کافی ہوچکا تھا۔ گھڑی پر نظر ڈالی تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔ باہم مشورہ ہوا کہ اب شاید پنڈال کی کوئی گاڑی نہ ملے  لہٰذا رات لاہور میں گزار کر صبح ہوتے ہی رائیونڈ روانہ ہوا جائے۔چنانچہ عدیل میو نے اپنے  بھائی اسد میو کو کال کی جو علی ہجویری یونیورسٹی میں میڈیکل سٹوڈنٹ ہے ، اس نے ہماری رہائش کا بندبست کیا اور ہم اسٹیشن سے رکشہ کروا کر کلمہ چوک سیون اپ سٹاپ پر پہنچے وہاں اسد اور ان کے کزن ہمیں لینے کے لیے پہلے ہی پہنچے ہوئے تھے۔ ہمارے بیگ انہوں نے اٹھالیے اور ہم سیدھا ہاسٹل میں جا پہنچے وہاں کھانا کھایا نماز عشاء باجماعت پڑھ کر سو گئے۔اگلا دن ہفتے کا تھا۔ دس بجے ناشتہ کیا اور ساڑہے گیارہ بجے کریم کی سروس سے رابطہ کیا اور پنڈال تک جانے کے لیے ایک کار منگوا لی۔ کریم اور اوبر کی سروسز بہترین سروسز ہیں جنہوں نے فی زمانہ سفر کو کم کرائے اور برقت پہنچ کی بنا پر بہت آسان بنا دیا ہے۔ اب ہم چار افراد ہوگئے اور پنڈال کی طرف رواں دواں ہوئے۔
بوقت ظہر ہم پنڈال پہنچ چکے تھے۔ ہر طرف انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ ہم قدم اٹھاتے گوجرانوالہ کے حلقے سے ہوتے سیالکوٹ  حلقے میں پہنچے جہاں ہماری مسجد کے ساتھیوں نے ہمارا استقبال کیا اور نہایت گرمجوشی سے ملے۔ میری نظر چار سو پھیلے وسیع و عریض پنڈال پر تھی جہاں انسانوں کا ایک جم غفیر تھا۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں سے ہزاروں، لاکھوں فرزندانِ اسلام اللہ کے دین کی نشر و اشاعت کے لیے سامان اٹھائے نکلتے ہیں، یہیں سے ان کی تشکیل ان دور افتادہ علاقوں کی طرف ہوتی ہیں جہاں کے باسیوں کو کلمہ و اسلام کی ابتداء تک سے آشنائی نہیں ہوتی۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں آج میں کھڑا تھا اور لاکھوں کا مجمع دیکھ کر مفکر اسلام مولانا الیاس دہلوی رحمہ اللہ کے لیے دل سے دعائیں  کررہا تھا۔ جن کی کڑہن، محنت اور دینی فکر کی بنا پر یہ عظیم الشان انقلاب برپا ہوا۔ حقیقت ہے کہ اللہ نے انہیں اس  دور کے ہزاروں علماء میں سے چنا تھا اور ان سے یہ عظیم دعوت کا کام لیا کہ آج مختلف علاقوں، قوموں، قبیلوں ، نسلوں، رنگوں اور متنوع مزاجوں کے لوگ سمٹ کر کھلے آسمان تلے ایک میدان پر گداگروں کی طرح ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ یہاں ذات پات ، رنگ نسل، لسانیت و قومیت سے ماوراء اور کوسوں دور سبھی ایک ہوئے نظر آئے۔ یہاں غلام و آقا کی کوئی تمیز نہیں تھی، بندہ و بندہ نوازی بھی عنقاء تھی۔ مرتبے اور حیثیتیں اس میدان میں دفن ہوچکی تھیں، اب صرف ایک پہچان باقی تھی کہ‘‘  ہم سب مسلمان ہیں’’۔ نمازِ ظہر کا وقت ہوچکا تھا۔ وضو کیا اور صف میں کھڑے ہوگئے۔ جس طرف نظر دوڑائی محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔
آج لاکھوں کا مجمع بیک وقت ایک ہی فرش پر اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے سر بسجود تھا۔ مجھے  خود پر بہت فخر ہورہا تھا کہ میں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں لاکھوں کے مقبول بندگانِ خدا کے ساتھ نماز پڑہنے کا شرف حاصل ہورہا ہے۔یہ صرف اللہ کی عطا تھی اس میں میرا کوئی کمال نہیں تھا۔ نیکی کی توفیق بھی اسی در سے ملتی ہے اور بدی سے بچنے کی طاقت بھی۔نماز کے بعد بیان شروع ہوا اور معرفت کے موتی بکھیرے گئے اور ہم انہیں چننے میں مصروف ہوگئے۔ انبیاء علیہم السلام کی مشقت و محنت کے واقعات سنائے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیاں بتائی گئیں۔ دنیا کی بے ثباتی بیان کی گئی اور آخرت کے دوام کی یاد دہانی کی گئی۔ مقصدِ حیات بتایا گیا ، اللہ سے تعلق اور اتباعِ نبوی ﷺ کی تلقین کی گئی اور مردہ دلوں کو جھنجھوڑا گیا۔
رائیونڈ پنڈال کے ساتھ ہی ایک عظیم الشان مدرسہ جامعہ موسیٰ البازی کے نام سے موجود ہے ، وہاں میرے ایک دوست مفتی نعیم صاحب تدریس و افتاء کے شعبے سے منسلک ہیں ان سے رابطہ پہلے ہی چکا تھا انہوں نے پنڈال آنے پر جامعہ میں آنے کی پہلے ہی دعوت دےرکھی تھی۔ جامعہ موسیٰ البازی ولی وقت ، مولف ، مفکر اسلام شیخ الحدیث مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور  کے نام پر ان کے فرزندان مولانا زبیرالبازی اور مولانا زہیر البازی حفظہما اللہ نے قائم کیا ہے۔ ان کی فکر و محنت سے ماشاء اللہ مدرسہ پوری آب و تاب سے چل رہا ہے اور شہری آبادی سے کافی دور ہونے کی بنا پر مخیر حضرات کےتعاون کا منتظر ہے۔ان دونوں حضرات کی بھی زیارت و ملاقات مقصود تھی ۔ چنانچہ مغرب کی نماز کے بعد ہم جامعہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس سے قبل میں نے بازار سے علامہ ڈاکٹر خالد محمود حفظہ اللہ کی مشہور اور اہم کتب خرید چکا تھا۔ ان میں سے ایک ‘‘ آثار التنزیل ’’ دو جلدوں  میں انتہائی اہم اور نادر کتاب ہے جس میں قرآنیات سے متعلق اہم مواد کو جمع کیا گیا ہے۔ دوسری کتاب علم حدیث سے متعلق ‘‘ آثار الحدیث’’ دو جلدوں پر مشتمل ہے اس میں حدیث مبارکہ سے متعلق اہم او ر نادر ذخیرہ جمع ہے۔ تیسری کتاب فقہ جیسے وقیع موضوع پر دو جلدوں میں ‘‘ آثار التشریع ’’ ہے، یہ بھی مطالعہ کے لائق  اور اہم ترین کتاب ہے جو فقہ کے اہم شعبوں ، فقہاء ،  کتب فقہ ا وراس کے درجات کی تفصیل پر مشتمل ہے۔ چوتھی کتاب تصوف و احسان و سلوک پر مشتمل ہے اس کی بھی دو جلدیں ہیں جو ‘‘ آثار الاحسان ’’ کے نام سے معنون ہے، یہ کتاب  تصوف کی حقیقت  ،  مراتب ، تاریخ اور صوفیاء کے تذکرے پر محتوی ہے۔
تقریبا عشاء کے قریب ہم جامعہ میں پہنچ چکے تھے ۔ہم کل تین تھے۔ مفتی  نعیم صاحب کو کال کی انہوں نے مرحبا کہا اور ہمارا سامان محفوظ کرکے سیدھا حضرت مولانا زبیر البازی اور مولانا زہیر البازی حفظہما اللہ سے ملاقات کے لیے ایک ہال کمرے میں لے گئے وہاں دیگر حضرات بھی جمع تھے۔ میں مولانا زہیر کی طرف بڑھا، نہایت وجیہہ چہرہ اور سر پر عمامہ ، لمبا اٹھا ہوا قد اور انتہائی سفید رنگت دیکھ کر میں مبہوت ہوکر رہ گیا ، یہ مولانا زہیر سے میری پہلی ملاقات تھی۔ حضرت نے مجھے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور معانقہ کیا میں شرم سے پانی ہوگیا کہ مجھ ناچیز کے لیے ولی وقت نے اتنی تکلیف اٹھائی۔خیر خیریت پوچھی اور دعاؤوں کی درخواست کی۔ ان سے ملاقات کر کے مولانا زبیر صاحب کی طرف بڑہا ان کے گرد کافی لوگ بیٹھے تھے۔ انتہائی بارونق، وجیہہ الشکل، دراز زلف اور سر پر عمامہ لیے ہوئے، رعب دار شخصیت کے حامل جنہیں دیکھ کر قرونِ اولیٰ کے اہل علم و فضل کا گمان ہوتا ہے۔ میں پہلے جامعہ اشرفیہ لاہور میں متعدد بار ان کی زیارت کرچکا تھا۔ فارغ ہوکر ان سے ملاقات ہوئی، تعارف کروایا اور حضرت موسیٰ البازی رحمہ اللہ کے وظائف کی اجازت چاہی اور دعائیں لے کر باہر نکل آیا۔
نمازِ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ وضو بنا کر جماعت میں  شامل ہوگیا اور فراغت کے بعد دارالافتاء میں مفتی نعیم کی ہدایت پر بیٹھ گیا۔ مفتی صاحب تشریف لائے اور بغیر اجازت لیے باہر سے کھانا منگوا لیا۔ جامعہ میں مولانا موسیٰ البازی کی کتب کا سٹال لگا تھا وہاں سے ایک کتاب ‘‘ فلکیاتِ جدیدہ و سیر القمر و عید الفطر’’ خریدی۔ مفتی نعیم صاحب سے باتیں ہوتی رہیں بالآخر ان سے اجازت لی اور پنڈال کی طرف نکل آئے۔ پنڈال پہنچے وہاں مزید دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ کچھ سیکھنا سکھانا ہوا اور یوں رات کے دو بجے بستر پر لیٹ گئے صبح جلدی اٹھے اور نماز کی تیاری کی نماز کے بعد بیان سنا اور حاجی عبدالوہاب صاحب نے دعا کروائی۔ یہ اتوار کا دن تھا۔دعا کے بعد  مجمع منتشر ہونے لگا اور ہم نے ناشتہ کرکے ظہر کے بعد واپسی کا پروگرام بنایا۔ چنانچہ رات عشاء کے قریب ہم ڈسکہ سیالکوٹ پہنچ چکے تھے۔ دماغ پر اجتماع کا روحانی منظر چھایا ہوا تھا اور دل سرور و انبساط سے بھرا ہوا تھا۔یوں اجتماع میں تھوڑا سا بتایا  وقت اتنا قیمتی بن  گیا کہ میں اس پر جتنا اللہ کا شکر ادا کروں کم ہے۔ ولہ الحمد والشکر

فحاشی اور پھیلتی بے راہ روی کے برے نتائج

 محمد مبشر بدر
درندگی اپنا ناچ دکھا رہی ہے۔ معصوم کلیوں کی عصمت دری ہورہی ہے۔ شہوت پوری طرح دماغوں پر خندہ زن ہوچکی ہے۔ عورت کی عریاں تصویریں اور ویڈیوز دکھا دکھا کر پیسہ کمانے والوں کی دکانوں پر جوانوں کا رش لگا ہوا ہے۔ حیا رخصت ہوچکی ہے۔ اللہ کا ڈر بھی دلوں سے نکل گیا ہے۔ پاکستان کے ہر قریہ و بستی سے کم سن معصوم بچوں سے ریپ کی خبریں بکثرت موصول ہورہی ہیں۔ پاک پتن اور قصور کے خونین واقعات منظر عام پر آچکے ہیں اور امت کی معصوم بچیاں کلثوم اور زینب درندوں کی ہوس کا نشانہ بن کر خالق حقیقی کے دربار میں پہنچ چکی ہیں۔ اس مقدس دربار میں وہ اپنا استغاثہ پیش بھی کرچکی ہوں گی ۔ وہاں عدل کا راج ہے ، بس عدل کا فیصلہ آنے ہی والا ہے۔ یہ کوئی پاکستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں کہ ظالم کو بچنے کے ہزاروں رستے فراہم کیے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ احکم الحاکمین کا دربار ہے جس کی پکڑ سخت ہے جس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
کیا اللہ کے نیک بندو ں نے نہ کہا تھا کہ اگر فحاشی اور عریانی کو نہ روکا گیا تو یہ پاکستانی معاشرے کو تو کیا پوری دنیا کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گی۔کیا صلحاء و نیک باز لوگوں نے فحش ویب سائیٹوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائی تھی اور انہیں بلاک کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا؟یہ علماء ہی تھے جو ہالی وڈ ، بالی وڈ اور لالی وڈ سے امنڈتی بے حیائی و عریانی کے خلاف امت کو خبردار کررہے تھے اور فلموں، ڈراموں اور فحش اشتہارات کے برے اثرات سے امت کو ڈرا رہے تھے اور دوسری طرف لبرلز تھے کہ اسے انٹرٹینمنٹ کا نام دے کر انسانی شہوتوں کو ابھارنے کا جواز ڈھونڈ رہے تھے اور ان بوریہ نشین، پاکباز علماء و مشائخ کا مذاق اڑا رہے تھے اور ان کی خامیاں تلاش کرکے اپنے برائیوں کے جواز کے لیے بطور دلیل پیش کررہے تھے۔
علماء کرام نے تو حکومت سے پر زور مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اس میں تمام چھپنے والے فحش ناولز اور لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے اور اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، لیکن حکومت نے مغربی تقلید میں آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر کہا ہر شخص اپنا خود ذمہ دار ہے جسے دیکھنا ہے دیکھے اور جیسے نہیں دیکھنا وہ آنکھیں بند کر لے۔
عورت کے جسم کو ننگا کرکے صبح و شام چینلوں، اخبارات اور ویب سائیٹس پر دیکھانے والے میڈیا کو بے لگام کرنے کے بھیانک نتائج آج پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔ پاک پتن کی پانچ سالہ معصوم کلثوم کو میڈیا کی پھیلائی شہوت رانیوں کے ستائے بھیڑیوں نے دبوچ لیا اور اس معصوم کلی کو مسل کر اس کی آبرو ریزی کرڈالی ، آسمان کیوں نہیں پھٹا اور زمین کیوں نہیں لرزی، اس وقت سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب اللہ کی پکڑ آئے۔ ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ قصور میں عمرے پر گئے والدین کی معصوم بیٹی زینب کو شیطانوں نے اغوا کیا اس کی آبرو ریزی کرکے قتل کردیا اور بھاگ گئے۔
آہ! افسوس امت کی معصوم بچیاں بھی درندوں سے محفوظ نہیں رہیں۔ کم سن بچیاں، بیٹیوں والے اس تصور سے ہی لرز جاتے ہوں گے لیکن بے حس درندوں کو اس سے کیا غرض؟ جو یہ بھول گئے کہ آخر ان کی بھی تو بہنیں اور بیٹیاں ہوں گی۔ ایسی شہوت کی آگ میں جلنے والے شادی شدہ افراد کم کنوارے زیادہ ہیں جن کے والدین نے ان کے نکاحوں میں تاخیر کی اور ان کے جائز حقوق انہیں وقت پر دینے سے پہلو تہی کی جس کا خمیازہ یہ نکلا کہ وہ باؤلے کتے کی طرح گلیوں میں آوارہ پھرتے ہیں اور کسی معصوم کلی کا شکار کرتے ہیں۔ نہ ان کے شر سے معصوم بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی کم سن بچیاں۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ وہ انصاف کرتا ہے تو بڑے بڑوں سے اپنی زمین کو پاک کردیتا ہے پھر نہ تو ان پر زمین روتی ہے اور نہ آسمان آنسو بہاتا ہے۔
ہم نے اپنی تباہی و بربادی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن وہ کریم اللہ ہے جو ستاری کا معاملہ فرما کر دنیا میں درگزر کررہا ہے۔ جب اس کی پکڑ آئی تو کوئی نہیں بچے گا۔ ان حکمرانوں اور ان کو مضبوط کرنے والوں کو نہ دنیاوی مال و زر بچا پائے گا اور نہ ہی وہ آخرت میں نجات پاسکیں گے۔ ان ظالم حکمرانوں نے اپنے اقتدار کا غلط استعمال کیا۔ اللہ کے احکامات کو معطل کیا اور شیطان کے بنائے ہوئے یورپی قوانین کو نافذ کیا۔ اسلام کے نام لیواؤں پر زمین تنگ کی اور بدکاروں کے لیے راہیں فراہم کیں۔ انہوں نے ہی شراب خانوں کو لائسنس فراہم کیے اور عصمت دری کے اڈوں کو پرموٹ کیا۔ اللہ کی ان پر لعنت ہو فرشتوں کی بھی اور تمام انسانوں کی۔

کبھی شبستاں کے رہنے والو! غریب کی جھونپڑی بھی دیکھو

خزاں کے پتوں کی جھانجھنوں میں کسی کی عصمت تڑپ رہی ہے

تلاوتِ قرآن کی حیرت انگیز تاثیر

                                مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ تاریخ عالم میں کوئی شخص ایسی ایک   معجزاتی کتاب پیش نہیں کرسکتا جو اپنے وجود می...