ہفتہ، 27 جولائی، 2019

پی ٹی آئی حکومت کے ابتدا میں ہی اسلام مخالف اقدامات

محمد مبشر بدر
اہل ایمان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ موجودہ حکومت پر نظر رکھیں کہ وہ کیسے تدریجا اسلامی احکام کو اس ملک سے کالعدم کرتی ہے اور سیکولرازم و لبرازم کی ترویج کرتی ہے۔ وزیر اعظم کا کرسمس سرکاری سطح پر منانے کا اعلان اسی سیکولرازم کی کڑی ہے۔ ہمارا حکمران طبقہ مغربی اقوام کی تائید اور حوصلہ افزائی کے لیے اس ملک کی مذہبی اسلامی شناخت مٹانے پر تلے ہیں۔ یہ جتنا اقلیتوں پر مرتے ہیں اتنا انہیں اکثریت نظر نہیں آتی۔ یہ اقلیت کے حقوق کی آڑ میں اکثریت کے مزاج، کلچراور اقدار پر حملہ آور ہیں۔ بسنت جیسا ہندوانہ تہوار جس کی بنیاد ہی توہین رسالت ﷺ میں سزا یافتہ ہندو کی سزا سے ڈالی گئی اسے اس ملک میں تہذیب و کلچر کے نام پر نافذ کرنا اور سرکاری سطح پر منانا ایک گھناؤنا اور اسلام بیزارانہ طرز عمل ہے۔

جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے تب سے اب تک کے حکومتی اقدامات پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس حکومت نے سب سے پہلے قادیانی عاطف کو مشیر بنانے کی ناپاک کوشش کی حالانکہ انہیں حالات کی نزاکت کا علم تھا اب تو فواد چودھری کی وہ خفیہ ویڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ لندن میں قادیانیوں سے ملاقات کے وقت ایک صحافی کے سوال کہ آپ نے عاطف قادیانی کو کیوں ہٹایا کے جواب میں کہا کہ اب تک ملک چند لوگوں (مذہبی لوگوں) کے دباؤ میں تھا اب آپ نے نہیں دیکھا کہ آسیہ مسیح کیس میں حکومت نے ان مولویوں کے خلاف کس قدر سخت ایکشن لیا ہے آپ دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کا منظر کچھ اور ہوگا۔ ہم پاکستان کو ماڈرن پاکستان بنائیں گے۔ یہ وزیر اطلاعات کی گفتگو کا ماحصل ہے کہ وہ کیسے اپنے ناپاک عزائم سے پردہ اٹھارہے ہیں۔

اس حکومت نے دو عدالتوں سے سزائے موت پانے والی آسیہ ملعونہ کو رہا کروایا اس پر عمران خان کافی فکر مند اور پریشان دکھائی دیتے تھے اور وہ بہت جلد مغربی ایما پر اس ملعونہ کی رہائی چاہتے تھے سو انہوں نے وہ کر دکھایا جس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ مغربی پارلیمنٹ میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے اور مبارک بادیں دی گئی جب کہ مسلمانوں نے احتجاج کیا نتیجتاً ان مسلمانوں سے معاہدہ کرکے احتجاج ختم کروایا اور انہیں گھر بھیج دیا پھر فواد چودھری کا بیان آیا کہ آج کے بعد کوئی مولوی احتجاج کرتا سڑکوں پر نظر نہیں آئے گا۔ ہم آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور فورا ًمعاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علماء اور مذہبی لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر جیلوں میں بھرا جانے لگا۔

اسی حکومت کی رکن پارلیمنٹ خاتون عاصمہ حدید نے پارلیمنٹ میں یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات بنائے اور ان سے دوستی لگائے حالانکہ اللہ نے قرآن میں واضح طور پر یہود و نصاریٰ سے دوستی لگانے سے منع کیا اور انہیں مسلمانوں کا ازلی دشمن بتایا۔

اسی حکومت کے ایک ہندو رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رمیش نے شراب کے لائسنس کینسل کرنے اور پاکستان میں شراب پر پابندی عائد کرنے کا بل پیش کیا جس پر پی ٹی آئی کے فواد چودھری نے ان کا مذاق اڑایا اور انہیں سستی شہرت کا بھوکا کہہ کر ان کا مطالبہ مسترد کردیا۔ اور صاف کہہ دیا کہ پاکستان میں شراب پر پابندی نہیں لگا سکتے کیوں کہ یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے طالبان کا پاکستان نہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیا شراب پر پابندی کا مطالبہ طالابانائزیشن ہے اللہ اور رسول کا حکم نہیں؟؟اس ملک کو کس نہج پر لے جایا جارہا ہے؟  کیا ریاست مدینہ میں شراب کی کھلے عام اجازت تھی اور لائسنس جاری کیے جاتے تھے؟

اسی حکومت نے سکھوں کے مفاد کے نام پر کرتار پور بارڈر کھول کر قادیانیوں کو راستہ فراہم کیا کیوں کہ بارڈر سے 45 منٹ کے فاصلے پر قادیانی ہیڈ کوارٹر قادیان واقع ہے، اس فیصلے پر قادیانیوں نے خوشیاں منائیں اور مبارک بادیں دی۔ اسی حکومت کے دور حکومت میں کے پی میں چوتھی جماعت کی کتاب میں ختم نبوت کا لفظ ہٹا دیا گیا جسے مسلمانوں کے احتجاج کے بعد دوبارہ بحال کردیا گیا۔

اسی حکومت نے فرقہ ورانہ نفرت روکنے کے لیے علماء سے منبر و محراب کا اختیار چھین کر حکومتی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ فرقہ وارانہ سرگرمیاں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں بہت ہی کم کہیں ایسا ہوتا ہو کہ فرقہ ورایت کو ہوا دی جاتی ہو جب کہ ملک کی اکثریتی مذہبی مساجد اس سے پاک ہیں۔ دراصل حکومت قادیانیوں کے خلاف بولنے اور لکھنے پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے تاکہ کوئی انہیں کافر نہ کہہ سکے۔ عالمی دباؤ کے پیش نظر حکومت کو یہ اقدام کرنا پڑ رہا ہے تاکہ حکومت کے کسی اسلام مخالف اقدام کی مخالفت منبر سے نہ ہوسکے اور علماء عوام کو حقائق نہ بتا سکیں۔ کیوں کہ علماء سیکولرازم اور لادینیت کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسی حکومت نے عوامی خوشنودی حاصل کرنے اور سیکولرپاکستان کا نظام آگے بڑہانے کے لیے ہندوانہ رسم بسنت کی اجازت دی حالانکہ گذشتہ حکومتوں نے جانی نقصان ہونے کی بنا پر اس پر پابندی عائد کررکھی تھی۔

اسی حکومت نے پاکستان میں اسلامیات اور عربی نصاب پڑہانے میں اقلیت کا کوٹہ مقرر کر دیا حالانکہ غیر مسلم اقلیت کا اسلامیات اور عربی سے کوئی واسطہ اور تعلق ہی نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی مذہبی تعلیم اورتربیت ہے کہ ایک مسلمان ٹیچر یہ علوم پڑہا کر مسلمان بچوں کو اسلام سے روشناس کراسکتا ہے۔ کیا اب ہندو، سکھ اور قادیانی مسلمانوں کو اسلام پڑھایا کریں گے جو خود اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ یہ کیسا اسلام دشمنی پر مبنی اقدام ہے اور کوئی اس کے خلاف بولنے والا نہیں۔ کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا تھا کہ یہودی مسلمانوں کو قرآن سمجھاتے تھے؟؟

اسی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں بھارتی فلمیں بند نہیں کر سکتے، فواد چودھری نے کہا کہ وہ غیر ملکی فلم سازوں کو لانے کی کوشش کررہے ہیں، ملک میں 187 سینما سکرینز ہیں جو 1100 ہونی چاہییں۔ اس طرح اس حکومت نے فحاشی کو پرموٹ کرکے اس ملک کو بے حیائی اور بدکرداری کی راہ پر ڈالنے کا عزم کرلیا ہے تاکہ ان فلموں کے ذریعے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوتے رہیں، اس کے لیے 14 ارب روپے مختص کیے جاچکے ہيں۔ کیا یہی ہے ریاست مدینہ کا تصور؟؟

اسی حکومت نے فیملی پلاننگ کا ناپاک منصوبہ پاکستان میں شروع کررکھا ہے تاکہ مسلمانوں کی شرح پیدائش کم ہوجائے حالانکہ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ اللہ نے اس کائنات میں اس سے زیادہ وسعت رکھی ہے جتنی وہ اس میں اپنی مخلوقات بسا رہا ہے یہ اس خدائی نظام سے بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔

بھائیو! علماء کرام شروع سے کہتے تھے کہ ان بے دین لوگوں کو ووٹ دے کر مت جتواؤ جن کی اپنی حقیقی زندگی میں اسلام کی ادنیٰ رمق بھی باقی نہیں، اگر یہ لوگ اقتدار میں آگئے تو سب سے پہلے وہ اس ملک سے اسلامی تشخص مٹائیں گے اور اسے سیکولر اور شراب و کباب، اور رقص وسرود کا مرکز بنادیں گے اور مخالفت کرنے والے علماء کو جیلوں میں ڈال کر ان پر تشدد کریں گے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا حکومت نے اتنے اقدامات کرلیے ہیں سوچیں وہ آنے والے دنوں میں کیا کرنے والی ہے۔ اللہ کی پناہ مانگیں اور توبہ تائب ہوں۔ اس تحریر کو خوب سے خوب شیئر کریں تاکہ حق لوگوں تک پہنچتا رہے اور مسلمان حالات کی نزاکت سمجھ جائیں۔

بدھ، 3 اپریل، 2019

قبول اسلام کا قضیہ اور میڈیائی پروپیگنڈا


محمد مبشر بدر
ایک کالم نظر سے گزرا، جسے کسی لبرل صحافیہ نے لکھا۔ اسے گھوٹکی سندھ کی نادیہ اور آسیہ نامی دو نومسلم لڑکیوں کے مسلمان ہونے پر شدید اختلاف اور غصہ ہے، اپنے کالم میں اسی خفگی کا اظہار کرکے اپنی اسلام دشمنی کا کھلم کھلا اظہار کیا، موصوفہ نے لڑکیوں کے اغوا اور جبری تبدیلئ مذہب کا الزام مسلمانوں کے سر تھونپ دیا۔ حالانکہ نہ تو یہ اغوا تھا اور نہ ہی جبر، نومسلم لڑکیوں نے اپنی مرضی سے ہی اسلام قبول کیا اور مسلمان لڑکوں سے شادی کرلی۔ یہ بات مسلم ہے لیکن یہودی سرپرستی میں چلنے والی نیوز ایجنسی " بی بی سی" نے اس متعصبانہ اور غلط اوہام پر مبنی کالم کو نمایاں جگہ دی۔ نومسلم لڑکیاں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے جبرا اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اپنی خوشی سے قبول کیا ہے۔ وہ اپنے تحفظ کے لے ماری ماری پھر رہی ہیں اور ہائیکورٹ سے التجا کررہی ہیں کہ ان کے خلاف غلط میڈیائی پروپیگنڈا ختم کیا جائے اور ان کی جان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ قبول اسلام پر ویڈیو بیانات بھی سامنے آچکے۔ لیکن اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں غیرمسلموں کو اسلام قبول کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی بلکہ ان کے لے مزید مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں تاکہ کوئی غیر مسلم اسلام قبول ہی نہ کرسکے۔
میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہم ایک اسلامی ملک میں جی رہے ہیں؟ ہم نے اپنا ملک کن کے ہاتھوں میں سونپ دیا ؟ ان لوگوں کے جو اسلام پر یقین ہی نہیں رکھتے اور مسلمانوں میں پیدا ہوکر بھی فکری الحاد اور ارتداد کا شکار ہوچکے ہیں، ایسے ملحدین میڈیا پر ہر سو چھا چکے ہیں، پاکستان کے کلیدی عہدوں اور وزارتوں پر انہیں بڑی مقدار میں تعینات کردیا گیا ہے۔ میڈیا مسلمان نسلوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرے تب یہ موم بتی مافیا اسے تحفظ فراہم کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ دو ماہ قبل " رہف " نامی سعودی لڑکی نے اسلام چھوڑا تو اسے مکمل تحفظ فراہم کیا گیا اور کینیڈا نے اسے شہریت دے دی، موم بتی مافیا اس پر خوشی کے شادیانے بجاتا رہا کسی نے آواز نہیں اٹھائی اور نہ ہی جبر اور اغواء کا الزام لگایا، اس کے برعکس اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرے تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوجاتا ہے۔ اللہ انہیں کافی ہو، انہوں نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔
کالم نگار کویہ غم ستائے جارہا ہے کہ آخر قیام پاکستان کے وقت 23 فیصد اقلیتیں سکڑ کر 5 فصد کیوں رہ گئی ہیں؟ ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ مغربی ممالک میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے وہاں تو ریاستیں اور حکومتیں بھی غیرمسلموں کی ہیں پھر وہاں کفر کیوں سکڑ رہا ہے اور آئے دن مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ یہ تو اسلام کا حسن ہے جو پھیلتا جارہا ہے اور اس پھلاؤ کی نوید قرآن سناتا ہے۔ کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو جبراً مسلمان کرنے پر رضامند نہیں اور نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے الزامات لگانے کے بجائے حقائق کا ادراک کرنا ناگزیر ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کی سورت ممتحنہ میں واضح فرماتا ہے کہ اگر غیر مسلموں کی عورتیں مسلمان ہوکر تمہارے پاس آجائیں تو انہیں جانچو کہ یہ مسلمان ہوگئی ہیں یا نہیں اگر مسلمان ہوگئی ہوں تو انہیں کافروں کے حوالے نہ کرو۔ ؎
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡہُنَّ ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِہِنَّ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡہُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡہُنَّ اِلَی الۡکُفَّارِ ؕ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ  (الممتحنۃ)
ترجمہ: " اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے والا تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وہ تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو ، یہ ان کے لئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کے لئے حلال ہیں۔"
کاش ان لبرلز کو ان کے والدین نے قرآن کا علم سکھایا ہوتا تو آج یہ اسلام دشمنوں کی صفوں میں نہ کھڑے ہوتے اور قرآن کے برخلاف شیطانی راہ اختیار نہ کرتے۔ آج اسلام کی راہ میں رکاوٹ کوئی غیر مسلم نہیں، وہ تو پہلے ہی اسلام کی سچائی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں بلکہ اسلام کی راہ میں بڑی رکاوٹ یہی اسلام کے ظاہری دعوے دار ہیں جو آئے روز پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے اسلامی نظریے کی بقا اور تحفظ کے لیے ان کا صفایا کرنا ضروی ہے انہیں برطرف کرنا اور اعلیٰ اور کلیدی عہدوں سے معزول کرنا ایک لازمی امر اور وقت کا تقاضا ہے۔ ان لفافہ خور صحافیوں کی صفائی بھی ضروری ہے تاکہ پاکستانی میڈیا پاکستان کی صحیح ترجمانی کرسکے، ورنہ یہ پاکستان میں بیٹھ کر اسلام دشمنوں سے روپیہ لے کر انہیں کی زبان استعمال کرتے رہیں گے۔ اس کے لیے پاکستانی عدالتوں اور اسلام کا درد رکھنے والے حکمرانوں سے التماس ہے کہ وہ پاکستان کے نظریے کی حفاظت کریں اور ایسے اسلام دشمن عناصر کے خلاف کاروائی کریں اور اسلام قبول کرنے والی بچیوں کی بات توجہ سے سن کر انہیں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دی جائے۔
اسلام کسی کو جبراً مسلمان کرنے کی اجازت نہیں دیتا، مسلمان یہ بات بخوبی جانتے ہیں لیکن اپنی خوشی سے مسلمان ہونے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے اور انہیں خوش آمدید کہتا ہے۔

اتوار، 2 دسمبر، 2018

ہمیں اسرائیل کیوں تسلیم نہیں؟

محمد مبشر بدر
تحریک انصاف کی ایم این اے عاصمہ حدید نے قومی اسمبلی میں اسرائیل کے تسلیم کرنے اور یہودیوں سے دوستی بڑہانے کی تجویز پیش کردی ہے۔ اور کہا کہ بیت اللہ مسلمانوں کا قبلہ ہے اور بیت المقدس یہودیوں کا تو یہاں پر مسلمانوں اور یہودیوں کی لڑائی ختم ہوجانی چاہیے۔ حضور علیہ السلام اور حضرت علی نے کہا کہ اپنے دشمن کو دوست بنالو اور آپ علیہ السلام نے بہترین بات یہ کی کہ آپ نے یہودیوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

قارئین ! جس بے باکانہ انداز میں پی ٹی آئی رہنما خاتون نے یہ بات قومی اسمبلی میں کہی ہے اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کہتے ہوئے زبان رک کیوں نہیں گئی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے خاموش کیوں نہی  کرا دیا اور اراکین پارلیمنٹ نے مذمت کیوں نہ کی۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی مقدس پارلیمنٹ میں ایک غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنے کی ہمت آخر ان مرعوب ارکان کو  کون دلاتا ہے؟ کون نہیں جانتا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست  ہے جو ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کرکے ناجائز قبضہ کرکے قائم کی گئی ہے۔ یہود جن کی اسلام اور مسلمان دشمنی سے بچہ بچہ واقف ہے اور اللہ نے قرآن میں واضح آیات میں ان سے دوستی سے سختی سے روکا اور دھمکی دی ان کو دوست بنانے کی تجویز دینا اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا اور اللہ کے فیصلے کو چیلنج کرنا ہے۔ آقا علیہ السلام نے کبھی یہودیوں کے ساتھ کام نہیں کیا بلکہ ان سے جنگ بندی پر معاہدہ کیا تھا تاکہ مدینہ میں امن رہے لیکن یہودیوں نے نبی ﷺ سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا جس کے نتیجے میں آقا علیہ السلام نے یہودی قبیلہ بنو قریظہ سے جنک کی اور ان کے بالغ مردوں کو قتل کروادیا اور بنو نضیر کو جلا وطن کردیا۔

یہود و نصاریٰ کا قبلہ اول بیت المقدس پر کوئی حق نہیں کیوں کہ مسیحیوں  نے ۱۷ ہجری یعنی ۶۳۹ء میں ایک معاہدہ کے تحت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیت المقدس کی چابیاں تھما کر اسے مسلمانوں کے حوالے کردیا تھا اور یہ سب نصاریٰ کی رضا مندی سے بغیر جنگ کیے ہوا تھا جس کی بنا پر مسلمان اس کے حقیقی وارث بن گئے پھر ۱۰۹۹ء میں صلیبی جنگ میں یورپی مسیحیوں نے  بیت المقدس پر قبضہ کیا اور ستر ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا۔پھر ۱۱۸۷ء میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو دشمن کے قبضے سے آزاد کرایا۔ دسمبر ۱۹۱۷ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے اس پر قبضہ کرکے یہودیوں کے حوالے کردیا۔ یہ ایک ناجائز ریاست ہے جو ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے خون بہانے کے بعد قائم کی گئی ہے اس پر صرف مسلمانوں کا حق ہے جو دین حق کے پیروکار ہیں اور یہود و نصاریٰ اپنے اصل دین سے منحرف ہوچکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے دوستی لگانے سے سختی سے منع کیا ہے اور قرآن میں صاف فرما دیا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾ سورہ مائدہ ۔

’’ اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔‘‘

علامہ ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے:

فَذَكَرَ السُّدِّيُّ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي رَجُلَيْنِ قَالَ أَحَدَهُمَا لِصَاحِبِهِ بَعْدَ وَقْعَةِ أُحُدٍ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى ذَلِكَ الْيَهُودِيِّ فَآوِي إِلَيْهِ وَأَتَهَوَّدُ مَعَهُ، لَعَلَّهُ يَنْفَعُنِي إِذَا وَقَعَ أمر أو حدث حادث. وقال الآخر أما أنا فإني ذاهب إِلَى فُلَانٍ النَّصْرَانِيُّ بِالشَّامِ فَآوِي إِلَيْهِ وَأَتَنَصَّرُ معه، فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصارى أَوْلِياءَ الْآيَاتِ، (مجلد۳ ص۱۲۱)

ترجمہ: ’’ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے ، دوسرے نے کہا ، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں ، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا ۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔‘‘

اس آیت میں کس قدر دھمکی دی گئی ہے کہ جو ان سے دوستی لگائے گا وہ انہیں میں سے شمار کیا جائے گا۔ اس قدر دھمکی کے باوجود ان سے تعلقات بنانے کے مطالبے کرنے والے اپنا یہودی ایجنٹ ہونا ثابت کررہے ہیں۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾ سورہ مائدہ

’’مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں ( خواہ ) وہ ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ( یہود اور نصاریٰ ) یا کفار ہوں اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو ۔‘‘

ان یہودیوں کا مسلمانوں سے بغض اور عناد کا عالم دیکھیے کہ خود خلاق عالم نے قرآن میں فرما دیا:

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ مائده ۸۲

یعنی: ’’ یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔‘‘

ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچنا چاہیے کہ کیا اس کے بعد بھی یہودیوں سے دوستی لگائی جائے اور اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔؟ یقینا نہیں۔ یہودی ہمارے دشمن ہیں ان کے دلوں میں مسلمانوں کا اور پاکستان کا بغض دفن ہے وہ مسلمانوں کے قاتل اور بیت المقدس پر قابض ہیں۔ ان کا نہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی بیت المقدس سے۔ ہم روزانہ نماز میں سورہ فاتحہ میں غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھ کر یہود و نصاریٰ کے راستے سے بچنے کی دعا کرتے ہیں المغضوب علیہم سے مراد یہودی اور الضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد موصوفہ کا وضاحتی بیان آیا ہے جس میں کوئی وضاحت نہیں پچھلی بات کو ہی دہرایا گیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی قومی اسمبلی میں ایسے غیر ذمہ دار لوگوں کا داخل ہوکر اسلام دشمن بیانات کرنا اور اس پر اراکین پارلیمنٹ اور اسپیکر کا خاموش رہنا قابل مذمت ہے اور اس بات کا عکاس بھی کہ یہ سارے لیڈران دینی تعلیمات سے ناواقف اور نااہل ہیں جنہیں قرآن مقدس کی بنیادی تعلیمات کا بھی علم نہیں۔

اراکان پارلیمنٹ کو اس بیان کا نوٹس لینا چاہیے، اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور جناب اسپیکر سے درخواست ہے کہ وہ فی الفور اس گفتگو کو کارروائی سے نکالیں اور آئیندہ کے لیے اراکان پارلیمنٹ کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ ایسی متنازعہ اور مسلمانوں کے لیے تکلیف دہ گفتگو پر پابندی عائد کرے۔

جمعہ، 26 اکتوبر، 2018

انکارِ قرآن عقلوں کا نقص




محمد مبشر بدر

حقیقت قرآن اور نبی کریم ﷺ کے فرمان کی صورت میں موجود ہے ، پر حقیقت کو سمجھنے والے بہت ہی کم ہیں جن میں عقل و شعور کا کمال ہو اور حقیقت کو سمجھ سکیں ، معاملہ فہم اور وسیع النظر ہوں ۔ ایسی عقلیں ناپید ہوتی جارہی ہیں جو قرآن کا ٹھیک سے ادراک  اور اسلام کا غیرجانب دارانہ مطالعہ کرسکیں ۔ علامات قیامت کے باب میں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا تھا  ’’ ان من علامات الساعۃ ان تعزب العقول و تنقص الاحلام ‘‘ کہ قرب قیامت میں عقلیں ناپید ہوجائیں گی اور کم عقلوں کی کثرت ہوگی۔
آج وہی ذہن اکٹھے ہوگئے ہیں جو عقلوں سے خالی ہیں ، ظالم مادیت کا شکار ہو کر روحانیت کا انکار کررہے ہیں ، حالانکہ یہی لوگ جسمانی سیرابی کے باوجود بھی روحانی پیاس کا شکار ہوکر بلبلا رہے ہوتے ہیں ، روحانی کبیدہ خاطری کو قرار میں بدلنے  کے لیے یا تو منشیات کا سہارا لیتے ہیں یا گناہ کے پہلو میں لذت تلاش کرتے ہیں ۔ لیکن نہیں!  گناہ خود نیگٹو اور منفی ہے اورمنفی چیز سے سکون نہیں بے چینی اور اضطراب  ہی ملتا ہے۔ یہ ناہنجار وجود انسانی میں وقتی لذت کے بعد دائمی آگ لگادیتا ہے اور تڑپنے کے لیے آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ سکون و قرار تو نیکی میں ہے جو پازیٹیو اور مثبت ہے اور مثبت چیز ہی اپنے دامن میں ذہنی و قلبی آسودگی رکھتی ہے، اور اسی نیکی کا راستہ تو قرآن ہی دکھاتا ہے، اس سے ہٹ کر تو بھٹکتا ہوا صحرا ہے ریت ہے اور نا ختم ہونے والی پیاس ۔
فَقُلۡ ہَلۡ لَّکَ اِلٰۤی اَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۸﴾ وَ اَہۡدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخۡشٰی ﴿ۚ۱۹﴾
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے ۔ اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راہ دکھاؤں تاکہ تو ( اس سے ) ڈرنے لگے ۔(النازعات)
ناسمجھ کہتا ہے کہ ’’ اگر دین الہامی ہوتا تو دنیا میں ملحد نہ ہوتے ‘‘ قائل اگر قرآن سمجھتا تو ایسی بے تکی بات نہ کہتا۔ انسانی عقل کی حد ہی کتنی ہے کہ وہ الٰہیات میں فیصل بنے ، جو عقلِ مجرد روح کی بے قراری کا علاج ہی دریافت نہیں کرسکی وہ خدائی فلسفوں کو کیسے سمجھ سکتی ہے؟ قرآن محیر العقول کتاب ہے، اس کے لیے  دل و دماغ کے بند دریچے کھول کر غیرجانب دار ی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ جن غیرمسلموں نے قرآن کا مطالعہ کیا وہ اس کے اعجاز اور حقانیت سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے  قطع نظر اس کے کہ کوئی مسلمان قرآن سے دور رہ کر غیر مسلم بن جائےکیوں کہ یہ لازمی امر ہے کہ جس چیز کی قدر  و قیمت کا اندازہ نہ ہو اور دل اس کی اہمیت سے خالی ہو،  لوگ اس میں پڑنے سے دور رہتے ہیں ، الحاد کی بھٹی میں ہمیشہ وہی لوگ گرتے ہیں جن کے دل قرآن کی قدر و قیمت اور مرتبہ و مقام سے تہی دامن ہیں ، اور ان کے دماغ قرآن کے بارے شکوک و شبہات  کا شکار ہیں جس کی بنا پر وہ اس کے پڑہنے اور سمجھنے سے عاری رہے ۔
اگر عقلِ انسانی قرآنی حقانیت اور اعجاز  کا انکار کرتی ہےتو یہ عقلیں قرآن کے بارے متفاوت کیوں ؟ ان میں اس بارے آراء کا اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟ اگر ہم ملحدین اور غیرمسلموں کی ہی آراء اور عقلی  جہتیں دیکھتے ہیں تو وہ قرآن کے بارے ایک نظریئے پر استوار نظر کیوں نہیں آتیں ؟ پھر انہی  غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد ہے  جو قرآن  کی حقانیت کا اعلان و اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ عقل کی افادیت کا انکار نہیں کیا جارہا بلکہ عقل کی حد کا معیار جانچا جارہا ہے کہ کتنا ہے، بہت سے لوگ عقل میں آنے والی ہر بات کو حتمی اور قطعی قرار دیتے ہیں ، ان کی سوچ عقل کے مادی حصے میں بند اور اس تک ہی محدود ہوتی ہے ، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو عقلیات کا ہی سرے سے انکار کردیتے ہیں اور روحانیت کی رسیوں میں جکڑے خلاؤوں میں تکتے رہتے ہیں ، جب کہ حقیقت روحانیت و مادیت کے مابین راہِ اعتدال میں دائر ہے۔
چنانچہ مشہور متعصب پادری ”ریورینڈر جی ایم ایڈویل“ قرآن کو بت پرستی ، جنات ،  مادیت کا شرک ، بچوں کے قتل، حرمتِ شراب ،چوری،  جوا ، زنا کاری اور قتل وغیرہ ایسے  جرائم کے مٹانے والا اور ان پر سزائیں مقرر کرنے والا قرار دیتا ہے۔
نپولن بونا پارٹ نے قرآن کا مطالعہ کیا اور تعصب کو بالائے طاق رکھ کر قرآن کے انصاف اور عدل سے لبریز نظام کو دیکھ کر اسے انسانی فلاح کا ضامن قرار دیتا ہےاور اس کے اصولوں کو سچا اور اس کے قوانین کو کھرا کہتا ہے۔
نامور فرانسیسی فاضل ’’ کلاضل ‘‘ قرآن کو صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ اسے اجتماعی اور سماجی اصولوں پر مبنی نظامِ برحق کہتے ہیں اور اسے انسانیت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔
ڈین شیلی نے تو کھلے الفاظ اقرار کیا کہ  ’’ قرآن پاک کا قانون بلاشبہ بائبل کے قانون سے زیادہ مؤثر ہے‘‘
ان کے علاوہ غیر مسلم دانشوروں کے ایسے سینکڑوں اقوال پیش کیے جاسکتے ہیں جنہوں نے قرآن کو گہرائی سے جانچا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں اس کی حقانیت کا اقرار کرنا پڑا۔ ڈاکٹر موریس بوکائے ایک مشہور سائنس دان سرجن  ہیں جنہوں نے بائبل ، قرآن اور سائنس نامی کتاب لکھ کر قرآن کی حقانیت کا اقرار کیا اور اسے خدا کا آخری کلام اور پیغام قرار دیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن کو تعصبات سے بالاتر ہوکر سمجھنے سے انسان کفر کی تاریکیوں میں نہیں رہ سکتے بشرطیکہ اس کے ذہن پر ذاتی مفادات کا پردہ نہ پڑا ہو۔
قرآن ایک عمل کی کتاب ہے ،اس کا موضوع انسان ہے ۔ پورا قرآن انسانی زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور اسکی عقلی ، روحانی اور جسمانی مکمل تربیت کرتا ہے ۔  نہ تو یہ سائنس کی کتاب ہے کہ اس میں سائنسی وجوہات اور پہلو تلاش کیے جائیں اور نہ ہی یہ محض قصہ گوئی کا صحیفہ ہے کہ اس سے دل بہلایا جائے۔ چنانچہ سید قطبؒ اپنی تفسیر ظلال القرآن میں لکھتے ہیں :
’’ قرآن نہ تو سائنٹفک نظریات کی کتاب ہے نہ وہ اس لیے آیا ہے کہ تجربی طریقہ سے سائنس مرتب کرے۔ وہ پوری زندگی کے لیے ایک نظام ہے۔ یہ نظام عقل کی تربیت کرتا ہےتاکہ وہ اپنی حدود کے اندر آزادانہ سرگرمِ عمل ہوسکے۔ وہ سماج کو ایسا مزاج عطا کرتا ہے کہ وہ عقل کو مکمل آزادانہ عمل کاپورا  موقع دے ۔ قرآن ایسی جزئیات اور تفصیلات سے نہیں تعرض کرتا جو سائنٹفک ہوں ۔ یہ امور عقل کی تربیت اور اس کے لیے آزادیٔ عمل کے اہتمام کے بعد عقل کے لیے ہی چھوڑدیئے گئے ہیں۔‘‘
جس وقت قرآن نازل ہورہا تھا تب  مشرکین و کفار نے اس کے انسانی کلام ہونے کے الزامات لگائے جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج دیا کہ اگر یہ انسانی بنایا ہوا کلام ہے تو تم بھی انسان ہو اور الفاظ تمہارے پاس بھی ہیں، تم بھی اس جیسا کلام بنا کر لاؤ ، چنانچہ وہ عاجز آگئے اور آج تک اس جیسا کلام نہیں بنا سکے ۔ پھر اللہ نے فرمایا: ’’ اگر تم اس جیسی کتاب نہیں لاسکتے تو دس سورتیں اس طرح کی  بنا کر لاؤ۔ کفار اس پر بھی بے بس رہے بالآخر اللہ نے آخری چیلنج دیا کہ اگر تم دس سوتیں بھی اس کی مثل نہیں لا سکتے تو کم از کم ایک سورت ہی بنا لو ، کفار تب بھی اس چیلنج کا جواب نہیں د ے سکے ، جو اس قرآن کے اعجاز کی بہت بڑی دلیل ہے۔اس کلام کا تحریف و تبدّل سے پاک ہونا اور اس کے احکامات کا ابدی اور تمام زمانوں کے لیے یکساں قابل عمل ہونا اس کے معجز اور حقیقی ہونے کی واضح دلیل ہے جس کا کوئی ضدی اور ہٹ دھرم ہی انکار کرسکتا ہے ، ایک عقلمند جس میں عقل و شعور کی کچھ مقدار ہے وہ اس کی حقانیت کا انکار نہیں کرسکتا۔

انڈیا اور ایران ایک پچ پر


محمد مبشر بدر

پاکستان چاروں طرف سے جنگ کے شعلوں میں گھرا ہوا ہے، سوائے چینی سرحد کے پاکستان کی تمام سرحدات ایکٹو ہیں اور پڑوسی ممالک کی سازش کا شکار ہیں۔انڈیا نے پچاس سال سے پاکستان میں دہشت گردی کا جال بچھا رکھا ہے اور اس میں اچھی خاصی سرمایہ کاری کررہا ہے۔  جب  نوّے کی دہائی میں بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کی لپیٹ میں جکڑا تو پاک آرمی نے بروقت کارروائی کرکے اس سازش کو کمزور کردیا تھا۔ کشمیر میں اٹھائے ہوئے زخم بھارت سو کر بھی نہیں بھلا سکتا ، وادیٔ کشمیر میں اپنی پھنسائی ہوئی سات لاکھ فوج کے اخراجات اور مسلسل شکست کا بدلہ لینے کے لیے مختلف حربے آزما رہا ہے ۔ وہ پاکستان سے اس کا بدلہ اس صورت لے رہا ہے کہ پاکستانی سرحدوں کو ایکٹو کردیا تاکہ پاکستان چاروں  طرف  اپنے مخالفین سے نبرد آزما رہے اور کبھی سکون سے نہ بیٹھ سکے۔
امریکہ ، روس اور اسرائیل کے ساتھ انڈیا  کا یارانہ کون بھلا سکتا ہے جس کے بل بوتے پر  اس نے ایران کو ساتھ ملایا پھر افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑہایا اور یوں پاکستان کو کمزور کرنے اور چاروں طرف سے جکڑنے کے لیے بھارت دوہری چال چل رہا ہے۔انڈیا پاکستان کو چاروں طرف سے بے آسرا و تنہا کرکے شکار کرنا چاہتا ہے۔  وہ اپنے ایجنٹس براستہ ایران و افغانستان پاکستان کی حدود میں داخل کرکے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ جس پر پاکستانی فوج کو کئی ثبوت ہاتھ لگے ہیں ۔ عزیر بلوچ کے بیانات  منظرِ عام پر  ہیں،  جس میں اس نے انڈین اور ایرانی خفیہ ایجنسی سے تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ حاجی ناصر کو ایرانی خفیہ ایجنسی کے نمائندے کے طور پر جانتا تھا، جس نے ایران میں ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسر سے ملاقات کرائی۔ عزیر بلوچ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ایرانی انٹیلی جنس افسر کو کراچی میں آرمڈ فورسز ،کور کمانڈر، اسٹیشن کمانڈر، نیول کمانڈر کراچی سے متعلق معلومات دیں۔ انڈین خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادو کی گرفتاری بھی عزیر بلوچ کے بتائے گئے سرغنوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ۔ لیاری گینگ وار کے سربراہ نے مزید انکشافات میں بلوچستان میں انڈین ایجنسی را کے نیٹ ورک اورپاکستانی سرحد کے قریب  ایرانی علاقے میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے بیس کیمپ اور افغان خفیہ ایجنسی کا ذکر کیا، جو پاکستان کے لیے خطرے کا الارم ہے۔
گزشتہ دنوں ایرانی فوج سربراہ جنرل باقری نے سعودیہ اور پاکستان کو اکٹھے دھمکی دی ہے۔ جس پر پاکستان نے ایرانی سفارتی نمائندے کو بلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ایران کو اپنے ملک میں مذہبی اقلیتوں کی طرف سے جارحیت کا سامنا ہے ۔ ایرانی قبائل کی بلوچ قوم میں سنیوں کی اکثریت ہے ۔ ایرانی افواج ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے متعدد بار پاکستانی حدود میں داخل ہوئی  اور گولہ باری کی اور اپنے دشمنوں کو آ کر قتل کیا ۔ گزشتہ دنوں ایرانی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید جنگ چھڑی جس کے نتیجے میں ایران کو اچھا خاصا نقصان اٹھانا پڑا ۔ ایرانی زخمی فوجیوں کو ’’ جیش العدل ‘‘ نامی باغی اپنے ساتھ اغوا کرکے بھی لے گئے ، جس کا ایران کو سخت غصہ ہے اور وہ اپنا غصہ پاکستان پر اتار رہا ہے ۔ایران چاہتا ہے کہ پاکستان ایران دشمن باغیوں کے خلاف اپریشن کرے حالانکہ ایران کے پاس اس بارے کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستان نے ایک گولی بھی ایران پر چلائی ہواور نہ ہی کوئی پاکستانی ایران میں ہونے والی کارروائیوں میں ملوث ہے۔سارا گند پاکستان پر گرانے کا مقصد انڈیا کو خوش کرنا اور اس سے امداد سمیٹنا ہے۔
یہ وہی ایران ہے جس پر پاکستان نے احسانات کیے اور عالمی برادری کی مخالفت مول لے کر بھی اس کے ہاں میں ہاں ملائی اور مزید ترقیاتی کاموں میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔جب ایران پر مغربی ممالک نے ایٹمی ٹیکنالوجی کا الزام لگا کر اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کی   تب پاکستان ہی تھا جس نے ایرانی موقف کی حوصلہ افزائی کی اور اسلامی ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ایران کی مدد کے الزام میں وہ سزا بھگتنا پڑرہی ہے جس کے وہ حق دار ہی نہیں تھے ۔ آج ان کے لیے دنیا اپنی وسعتوں سمیت تنگ ہوچکی ہے تو اس کی بنیادی وجہ ایران ہے۔ اب ایران اس احسان کو بھول کر پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے؟
اگر پاکستان ایران کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کلبھوشن یادو کو ایرانی پاسپورٹ کس نے دیا، عزیر بلوچ کو ایرانی شہرت کس نے دی، عزیر بلوچ کے رائیٹ ہینڈ کے پاس کس ملک کا پاسپورٹ تھا؟ کلبھوشن، عزیر بلوچ اور احسان اللہ احسان کے انکشافات اور بیانات سے انڈیا، ایران اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف اکٹھ کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ انڈیا کو سی پیک چبھ رہا ہے اسی لیے ایران کے چاہ بہار کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے بھارتی عملہ ایرانی ایماء پر آنے والا ہے۔
انڈیا نے ایرانی  ساحلی شہر ’’ چاہ بہار ‘‘ میں اپنا انٹیلی جنس بیس کھول رکھا ہے۔ یہ باقاعدہ ایرانی اجازت سے قائم ہوا ہے،  کیوں کہ چاہ بہار گوادر سے متصل  ساحلی شہر ہے۔’’ را  ‘‘یہاں بیٹھ کر گوادر اور اقتصادی راہداری کو آسانی سے نشانہ بنا سکتی ہے۔کلبھوشن یادو کو بھی انڈیا نے فارسی اور بلوچی زبان سکھا کر اول چاہ بہار میں بھیجا جہاں اس نے ایک کارگو کمپنی کھول لی اور حسین  مبارک  پٹیل کےجعلی  نام سے تاجر بن گیا۔ کلبھوشن  2004 ء اور 2005ء میں کراچی بھی آیا اور یہاں  اس نے اپنے رابطے استوار کیے۔یہ ترقی کرتے پاکستان آپریشن کا سربراہ بن گیا۔ بھارت نے اسے چار سو ملین جو پاکستانی روپوں میں اکتالیس ارب روپے بنتے ہیں دیے۔کلبھوشن نے یہ رقم بلوچ علیحدگی پسندوں اور کراچی میں بدامنی پھیلانے والوں میں تقسیم کی۔یہ حربیار مری ، براہمداغ بگٹی اور عزیر بلوچ جیسے لوگوں سے بھی رابطے میں تھا اور ایم کیو ایم الطافی کو بھی فنڈ دیتا تھا۔
پاک آرمی نے حسین مبارک نامی انڈین ایجنٹ کا پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ بلوچستان علیحدگی پسند ہوں، کراچی کے مافیاگروپس ہوں یا پھر ملک میں خود کش بمبار وں  کے ماسٹر مائینڈوں ہوں یہ تمام لوگ چاہ بہار سے ہی آپریٹ ہوتے ہیں۔کلبھوشن کا پکڑا جانا ایک طرف تو انڈیا کے منہ پر زور دار تھپڑ تھا دوسری طرف ایران کے خبثِ باطن کی نقاب کشائی تھی۔پاکستانی آئی ایس آئی نے معلومات پا کر اپنے بندے بلوچ علیحدگی پسندوں میں شامل کرکے کلبھوشن سے رابطے استوار کیےاور اسے انڈیا سے واپس بلوانے میں کامیاب ہوئے۔ بلوچستان کے ضلع خاران کی تحصیل ماشکیل میں اسے گرفتار کیا گیا ، کلبھوشن پاکستان آپریشن کا سربراہ تھا، یہ عام جاسوس نہیں تھا ،  اور دنیا میں آج تک کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے اتنے بڑے انٹیلی جنس آفیسر کو نہیں پکڑ سکا ۔اس نے تمام اطلاعات اور رابطے پاکستان  کے حولے کردیے، جس کے نتیجے میں چار سو ایجنٹ گرفتار کیے گئے اور اہم سیاسی چہروں سے بھی نقاب اترا۔اسلحے کی بھاری کھیپ برآمد ہوئی نیز  ایم کیو ایم اور  پیپلز امن کمیٹی میں چھپے غدارانِ وطن بھی سامنے آئے۔
ہمیں ایران کے ساتھ تعلقات پر غور کرنا چاہیےاور از سرِ نو جائزہ لینا چاہیے۔ زائرین کے روپ میں ایران نے اپنے حما یتیوں کو ٹریننگ دی اور انہیں پاکستان میں لانچ کردیا۔سی آئی ڈی کاؤنٹرٹیرا رزم یونٹ کے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کی چونکا دینے والی پریس کانفرنس نے پاکستان میں جاری ایرانی دہشت گردی کی حقیقت کھول دی  ۔کالعدم تنظیم سپاہ محمد کے دو دہشت گردوں جوہر حسین اور ارشاد حسین  کو گرفتار کیا گیا ہےجنہوں نے اقرار کیا کہ ایک کالعدم شیعہ تنظیم کے ماتحت ایران میں اہل سنت علماء اور فعال افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے ٹریننگ حاصل کی ،اس گروپ کے ٹارگٹ کلرز چند برسوں کے دوران شہر میں سینکڑوں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی کاروائیاں کر چکے ہیں ۔یہ سب جنگجو ایران سے تیار ہوکر پاکستان کی سرزمین کو فرقہ ورانہ فسادات میں دھکیلنے کے لیے دہشت گردانہ کروائیوں میں ملوث ہیں۔
 ایران ہمارے دشمنوں کو پناہ دیتا آیا ہے اس لیے ایرا ن کو سخت جواب دینا چاہیے۔انڈیا کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کی ایرانی سعی اور پاکستان کے خلاف بیانات دینے پر بھی  ہمیں سخت موقف اپنانا چاہیے۔ انڈیا ، ایران اور افغانستان ایک پچ پر کھڑے ہوگئے ہیں اب پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں غور کرنا چاہیے جہاں کمزوریاں ہیں انہیں دور کرنا چاہیےاور دشمن کے عزائم کو ناکام کرنے کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔

امت ِ مسلمہ کی داستانِ عروج و زوال


محمدمبشر بدر

کائنات کا وجود انسان کے دم سے ہے ۔جب انسا نیت نہیں رہے گی تو کائنات کا وجودبھی ختم ہو جا ئے گا۔اس جہانِ رنگ و بو میں کئی قومیں اور امتیں آ ئیں ،کچھ صفحہء ہستی پراپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئیں تو بعض بے نام و نشاں اور نیست و نابود ہو ئیں ۔
امتِ مسلمہ غالب ہو نے کے لیے ہے۔اس کا بند ھن اسلام جیسے لا زوال مقدس دین سے بندھا ہوا ہے ۔اسے ذات ِ باری تعالیٰ نے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے کے لیے نازل فرمایا ۔یہی وجہ ہے رسول اللہ  ﷺ نے فتح مکہ کے بعد پورے جزیرئہ عرب پر اسلام کے نظامِ حیات کو عملًا نافذ کر دیا ۔ اس نظام کی جزیرئہ عرب سے باہر توسیع کے لیے آپ  ﷺ نے غزوئہ تبوک سے اس کا آغازکیا ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق  ؓنے جیش اسامہ ؓ کی روانگی اور فتنہ ء ارتدادکے بارے میں انتہائی مدبرانہ فیصلہ کیا اور دین اسلام کو محفو ظ کر کے عظیم الشان کارنامہ سر انجام دیا، پھر فارس اور روم کے علاقے فتح کرنے کے لیے لشکر بھیجے ۔چنانچہ دونو ں جگہ لشکر اسلام نے زبر دست معرکے لڑ کر بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں ۔
خلفائے اربعہ ؓ کی خلافتوں میں خوب کار ہائے نمایاں سر انجام دیے گئے۔ امیر المومنین سیدنا معاویہ ؓ کے زمانہ میں ہند ،افریقہ اور دیگر علاقوں میں فتوحات ہوئیںاور ایک وسیع رقبہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ اموی خلفاء نے ملکی نظم ونسق ،امن و امان ، جہاد اور نئی فتوحات کے ذریعے اشاعت اسلام جیسے شاندار کارنامے سرانجام دیے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی شاندار پے در پے فتوحات کے بعد ،قیصر و کسریٰ کے پر خچے اڑانے سے لے کر یورپ و افریقہ کی فتوحات حاصل کرنے کے با وجود وہ کیا عوامل و اسباب ہیں جن کی وجہ سے امت مسلمہ پر زوال کے سیاہ بادل منڈلانے لگے اور اب وہ دھیرے دھیرے پستی و انحطاط کے گہرے گڑہوں میں گرتی چلی جارہی ہے؟
اس کی سب سے بڑی وجہ مسلمان حکمرانوں کے آ پس کی کشمکش اور خانہ جنگی ہے ۔ امویوں کے بعد متعدد عباسی حکمرانوں نے حکومت کی ، لیکن جہاد اور توسیع سلطنت سے محروم رہے ۔ان کی آ پس کی رقابتیں اور خانہ جنگی جاری رہی ۔جب عباسی سلطنت انتہائی زوال کو پہنچی تو اس د وران منگولیا سے تاتاریوں کا طوفان اٹھا اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔656 ھ میں بغداد سے خلافت کا وجود ختم ہو گیا ۔
مجموعی طور پر آٹھ صدیوں تک مسلمان خلفاء اور امراء نے اندلس میں حکومت کی، لیکن سلطان بادشاہوں کی عیش کوشی،دین سے دوری،خانہ جنگی اور شمشیر وسناں سے لا تعلقی کی وجہ سے عیسائی مختلف علاقوں پر قبضہ کرتے کرتے آخر کار ربیع الاوّل  897 ھ میں اندلس کے آ خری شہر غرناطہ پر بھی غالب ہو گئے۔
سلطان عثمان دولت عثمانیہ کا پہلا تاجدار تھا ۔سلطان عثمان نے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا اور اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی ۔گیلی پولی کی فتح کے ساتھ ہی یورپ میں عثمانی فتوحات کا آغاز ہوا ۔پھر عظیم عثمانی جرنیل اور مجاہد سلطان محمد فاتح  ؒ نے 29  مئی 1453ء کو قسطنطنیہ بھی فتح کرلیا۔
اس طرح گیارہ صدیوں سے قائم با زنطینی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔جنوری 1517 ء میں سلطان سلیم اوّل نے مصر کے مملوکوں کو قاہرہ کے قریب رضوانیہ کے مقام پر فیصلہ کن شکست دے کر برائے نام عباسی خلیفہ سے خلافت اپنے نام منتقل کرا لی ۔اس طرح اب خلافت کا مرکزبغداد اور قاہرہ کی بجائے قسطنطنیہ بن گیا۔ستمبر 1516 ء تک خلافت عثمانیہ مصر ،شمالی افریقہ ، ایشیائے کوچک ، فلسطین ،شام ،ریاست ہائے بلقان اور ہنگری تک پھیلی ہوئی تھی ۔1914ء میں پہلی جنگ عظیم میں اتحادیوں نے جرمنی اور ترکی کو شکست دے کر تین براعظموں پر پھیلی ہوئی خلافت عثمانیہ کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے بعد29  اکتوبر 1923ء میں مصطفی کمال پاشا کی صدارت میں جمہوری حکومت قائم ہوئی ،جس نے  2 مارچ  1924 ء کو منصب خلافت ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور ترکی کو سیکولر اسٹیٹ قرار دیا ۔
ولید بن عبدالملک کے زمانہء خلافت میںحجّاج بن یو سف کے حکم پر محمد بن قاسم ـ  ؒ نے سندھ کو فتح کیا اور پورے مغربی ہندوستان کو اسلامی سلطنت میں شامل کر لیا ۔شہاب الدین غوری نے شمالی ہند کو فتح کر کے باقاعدہ حکومت قائم کی ۔غلام خاندان کے بعد خلجی خاندان اور ان کے بعد تغلق ،پھر لودھیوں نے ہندوستان پر حکو مت کی ،لودھیوں کے بعد ظہیر الدین بابر نے مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی جو کہ انیسویں صدی کے پہلے نصف اوّل تک کسی نہ کسی صورت میں برقرار رہی ۔
امت مسلمہ تدریجاََ تنزلی کے منازل طے کرتی اس موڑ پر آ پہنچی ہے کہ ا ب اس کا دوبارہ ترقی کی راہوں کی طرف پلٹنا بظاہر نا ممکن نظر آتا ہے۔خلافت عثمانیہ کے ٹوٹنے کے بعد اس کا شیرازہ تسبیح کے دانوں کے دانوں کی طرح بکھرتا جا رہا ہے ۔کفار اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ مسلم خطوں پر چڑھ دوڑا ہے حتیٰ کہ مسلمانوں کی املاک اور معدنیات پر قابض ہو چکا ہے ۔مسلمانوں کی شناخت ایک مغلوب اور محکوم قوم طور پر ہوتی ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ یہ اپنے اوپر ناروا مظالم کا انتقام لیتے،اپنے خطوں اور معدنیات کو کفار کے تسلط سے آزاد کراتے ،اپنی وحدت و جمعیت کو مضبوط کرتے ،آپس میں اتفاق و اتحاد کو بر قرار رکھتے ،کفار کی نقالی کو اپنی زندگیوں سے نکالا دیتے ،اسلامی اقدار اپناتے، لیکن افسوس!بجائے اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے اسی شاخ کو کاٹنے میں مصروف ہیں جس پر آشیانہ ہے۔
امت مسلمہ کا ایک فرد ہونے کے ناطے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق ان کا  سدِّ باب کرنا ہو گا اور غلبہ و ترقی کے جو اصول مولائے کل ،دانائے سبل ، ختم الرسل  ﷺ نے سیکھائے انہیں مضبوطی سے تھامنا ہو گا ، تب ہی ہم اس پستی اور ذلت سے نکل سکتے ہیں ورنہ ’’ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں ــــ‘‘ کا مصداق بن کر بے نام و نشان ہو کر رہ جا ئیں گے۔

امام الانبیاء ﷺ کے رمضان میں معمولات


محمد مبشر بدر

          نبی اکرم ﷺ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی دعوت و تبلیغ کی پرصعوبیت گھاٹیوں میں گزری ، وعظ و نصیحت ، انذار و تبشیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد اسے اسلامی اسٹیٹ بنا کر مسلمانوں کو عبادات ، معاملات ، اخلاقیات ، معاشرت ، عدالت اور سیاست وغیرہ کے احکامات سیکھانے کی طرف باضابطہ متوجہ ہوئے ۔ اسی دوران دو ہجری میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے۔ 2 سے 11  ہجری تک آپ علیہ السلام پر 9   ماہِ رمضان  آپ کی حیاتِ طیبہ میں آئے۔ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرکے دیکھتے ہیں کہ آپ ماہِ  رمضان کی مبارک گھڑیاں کیسے گزارا کرتے تھے۔
آقا علیہ السلام کی مستقل عادت شریفہ تھی کہ خود چاند دیکھ کر  یا کسی بااعتماد ذرائع کی شہادت کی بنا پر روزہ رکھا کرتے ، چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ لوگ چاند دیکھنے کے لیے جمع ہوئے پس میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ آپ شعبان کے مہینے کی گنتی پر خصوصی توجہ دیتے جتنی دیگر مہینوں کی گنتی پر نہیں دیتے تھے تاکہ رمضان کی تاریخ میں غلطی واقع نہ ہواور امرِ شرعی فوت نہ ہو  چنانچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ’’ آپ شعبان کے مہینے کے دن اتنا اہتمام سے گنا کرتے تھے کہ اس کے علاوہ مہینوں کے اتنے اہتمام سے نہیں گنتے تھےپھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتےاور اگر اَبر ہوتا تو تیس دن پورے کرتےپھر روزہ رکھتے۔‘‘
آقا علیہ السلام سحری کھانے پر تاکید فرماتے اور خود بھی اس کا اہتمام فرماتے چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’ سحری کھاؤ، اس لیے کہ سحری کے کھانے میں برکت ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ سحری کھاؤ اگرچہ پانی کا یک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو ۔ سحری کھانے سے روزے میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اتباعِ سنت کی وجہ سے اجر عظیم ملتا ہے۔ مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ’’ ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے۔‘‘یعنی اہل کتاب پر رات کو سونے کے بعد کھانا حرام تھا اور ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر بھی یہی حکم تھا جسے بعد میں منسوخ کردیا اور سحری کھانے کا حکم دے دیا گیا۔جس طرح آپ علیہ السلام اپنی امت کو سحری کاھنے کی ترغیب دیتے اسی طرح جلد افطاری کرنے کی تاکید فرماتےتھے کہ جب غروب آفتاب ہوجائے تو افطار کرنے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔کیوں کہ اہل کتاب افطاری میں تاخیر کرتے تھے اس کی مخالفت بھی مقصود  ہے۔اس پر بخاری و مسلم نے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ’’ مجھے اپنے بندوں میں سے وہ لوگ زیادہ محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کریں۔(ترمذی)
آقا علیہ السلام کھجور سے روزہ کھولنا پسند فرماتے اگر کھجور میسر نہ ہوتی تو پانی سے کھول لیا کرتے تھے اور امت کو بھی اسی کی ترغیب دیا کرتے تھے ،چنانچہ ترمذی کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب تم میں سے کوئی افطار کرے چاہیے کہ کھجور سے افطار کرےپس کھجور برکت کا سبب ہے ، اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرےکہ وہ پاک کرنے والا ہے۔‘‘ کھجور ایک زودِ ہضم اور طاقتور غذا ہے ۔ اس کے کھانے سے ایک تو معدہ صاف ہوجاتا ہے دوسرا  روزے کی وجہ سے جسم میں غذائیت کی کمی کو پورا کردیتی ہے۔ عرب لوگ اسے شوق سے بکثرت کھاتے تھے۔تبھی آپ علیہ السلام نے کھجور کو بہترین سحری قرار دیا ہے۔بیہقی شعب الایمان کی ایک روایت میں ہے کہ  ’’ رمضان کے داخل ہوتے ہی  آپ علیہ السلام قیدیوں کو آزاد فرمادیتے اور ہر مانگنے والے کو عطا فرماتے۔‘‘ویسے تو غیر رمضان میں بھی آقا علیہ السلام سائلین کو خالی نہیں لوٹاتے تھے کہ اس در سے کبھی کوئی خالی لوٹ کر نہیں گیا لیکن  رمضان المبارک میں اس عادت شریفہ کو زیادہ کرتے۔
پیارے نبی ﷺ سے روزہ افطار کے وقت مختلف دعائیں پڑہنا منقول ہے جن میں سے یہ دعا زیادہ مشہور ہے  ’’ اَلّٰلھُمَّ إِنِّیْ لَکَ  صُمْتُ وَ بِکَ آمَنْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ‘‘ ( اے پروردگار! یقینا میں نے تیرے لیے ہی روزہ رکھا اور تجھ پر ہی ایمان لایا اور تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور تیرے رزق پر ہی افطار کرتا ہوں۔) روزے کے ساتھ آپ علیہ السلام مسواک کا استعمال بھی کثرت سے فرماتے تھے۔
رمضان کے داخل ہوتے ہی آپ علیہ السلام کا قرآن پاک کے ساتھ شغف بڑھ جاتا اور آپؑ بکثرت قرآن کی تلاوت فرماتے جناب جبرائیل امین علیہ السلام نازل ہوتے اور آقا علیہ السلام سے قرآن پاک کا دور کرتے۔ آپ کی تلاوت کا  وقت نمازِعشاء  کے بعد ہوتا تھا۔اور رات کے پچھلے پہر اٹھ کر بھی قرآن کی تلاوت فرماتے۔رمضان میں آپ اپنی کمر کس لیتے اور راتوں میں لمبا قیام کرتے تراویح کا اہتمام فرماتے اور صحابہ کرام کو پڑہنے کی ترغیب دیتےصحابہ کرام آپ علیہ السلام کی اقتدأ میں نماز تراویح پڑہنے کے لیے مسجد میں جمع ہونے لگے، آپ کو خدشہ ہوا کہ کہیں یہ امت پر فرض نہ ہوجائے چنانچہ آپ نے صحابہ کو انفرادا پڑہنے کا حکم دیا۔چنانچہ آپ علیہ السلام نے وصال کے بعد مزاجِ شناسِ پیغمبر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کو سیدنا ابی بن کعب کی اقتداء میں بیس رکعت تراویح باجماعت پڑہنے کی ترتیب مقرر فرمائی اور یوں اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع و اتفاق قائم ہوگیا۔
بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ’’ نبی کریم ﷺ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں بہت سخی تھے اور رمضان میں بہت سخاوت کرتے تھےاور  رمضان کی ہر رات جبرائیل امین آپ سے ملاقات کرتے تھے، نبی اکرم ﷺ ان کے سامنے قرآن پڑہتے تھے، پس جس وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام سے ملاقات کرتے تو نبی کریم ﷺ کی سخاوت اس وقت ہوا کے جھونکوں سے بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی۔‘‘
آخری عشرے میں آپ علیہ السلام عبادات میں بہت زیادہ انہماک فرماتے ، آپ کے ذکر و فکر میں اضافہ ہوجاتا اور رات بھر جاگتے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تھا تو آپ علیہ السلام اپنا تہہ بند مضبوط باندھتے تھےاور رات بھر بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو جگاتے۔‘‘ آپ ؑ کا معمول تھا کہ آپ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ’’ آپ علیہ السلام رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ان کی روح قبض کرلی۔ پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔‘‘( متفق علیہ )
اعتکاف میں آپ علیہ السلام طاق راتوں میں شبِ قدر کو تلاش فرماتے جو ہزار مہینوں  سے افضل ہے۔آپ فرماتے کہ ’’ ماہِ رمضان میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہااور اس کی بھلائی سے وہی محروم ہوتا ہے جو مکمل محروم ہوتا ہے۔‘‘عید سے قبل آپ صدقہ فطر ادا فرماتے ۔ آپ نے ہر مسلمان مرد و عورت پر خواہ چھوٹا ہو یا بڑاصدقہ فطر لازم قرار دیا جس کی ادائیگی نمازِ عید سے پہلے کی جاتی ہے۔

اپنی اولاد کی دینی تربیت کیجیے

  تحریر: مفتی محمد مبشر بدر حفظہ اللہ اولاد قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔ اولاد کی قدر و قیمت ان سے پوچھیے جو اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں ۔اولاد...